لبنان سے متعلق ایرانی دعوے جے ڈی وینس کے دورے کے التوا کی وجہ بنے: ایکسیئس
لبنان سے متعلق ایرانی دعوے جے ڈی وینس کے دورے کے التوا کی وجہ بنے: ایکسیئس
جمعہ 19 جون 2026 5:52
لبنان کی صورتحال سے متعلق ایرانی دعوے ان وجوہات میں سے ایک تھے جن کی بنا پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں ایرانی مذاکرات کاروں سے ملاقات کے لیے اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا۔
اے ایف پی کے مطابق ایکسیئس کے ایک رپورٹر باراک راوید نے اس بارے میں جمعے کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا۔
یہ دورہ جمعے کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے نفاذ پر بات چیت شروع کرنے کے لیے ہونا تھا۔
باراک راوید نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں کہا کہ ’ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے مجھے بتایا کہ دورے کو ملتوی کرنے کی ایک وجہ لبنان کی صورتحال کے بارے میں ایرانی دعوے ہو سکتے ہیں۔‘
سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق جمعے کو سوئٹزرلینڈ کے برجن اسٹاک پہاڑی ریزورٹ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے طے شدہ مذاکرات اب نہیں ہوں گے۔
بدھ کو صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں حریفوں کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام سمیت وسیع تر مسائل پر بات چیت کے لیے 60 دن کی مدت کا آغاز ہوا تھا۔
لیکن اگلے اقدامات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجود تھی اور ایسا لگتا تھا کہ دونوں فریقین جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کی تقریب اور مذاکرات کا انعقاد کریں گے جیسا کہ پہلے اعلان کیا گیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے جمعرات کی رات دیر گئے کہا ’ان مذاکرات کی لاجسٹکس (انتظامات) کبھی بھی سادہ یا قابلِ پیش گوئی نہیں رہیں۔ فی الحال نائب صدر آج رات روانہ نہیں ہو رہے ہیں۔ ہم جلد از جلد تکنیکی بات چیت شروع کرنے کے منتظر ہیں۔‘
ایران میں تسنیم ایجنسی نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے لیے ایرانی وفد کے دورے کے بارے میں ’کچھ بھی تصدیق شدہ نہیں‘ ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای جو 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن ایک فضائی حملے میں اپنے والد اور ایران کے دیرینہ حکمران علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر بنے، انہوں نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ انہوں نے ’مختلف نقطہ نظر‘ رکھنے کے باوجود اس معاہدے کی منظوری دی ہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا ’لیکن میں نے یہ اجازت مسعود پزشکیان سمیت عہدیداروں کی جانب سے ’ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ‘ کے عزم کی وجہ سے دی ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ ’آمنے سامنے مذاکرات‘ مستقبل میں ہوں گے لیکن اس کا مطلب ’دشمن کے نقطہ نظر کو قبول کرنا‘ نہیں ہے۔
اس معاہدے سے ایران کے ساتھ موجودہ امریکی اسرائیلی تنازع کا خاتمہ ہونے کی توقع پیدا ہوئی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
جمعے کو ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے کہا ’کسی بھی بدسلوکی، معاہدے کی خلاف ورزی اور دوسری طرف سے زیادتی کی صورت میں، ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دشمن کو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔‘
’شاید وہ دوبارہ لڑنا شروع کر دیں‘
امریکی فوج نے بتایا کہ جمعرات کو امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ ختم کر دیا جس نے بحری جہازوں کو ایران میں آنے یا وہاں سے جانے سے روک رکھا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ امریکی جنگی جہاز "اسی عام علاقے میں موجود رہیں گے۔‘
سمندری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں نے بتایا کہ جمعرات کو سعودی عرب کے تین آئل ٹینکر اس آبنائے کے ذریعے خلیج سے روانہ ہوئے اور اسی طرح مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سے لدا ایک فرانسیسی جہاز بھی گزرا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی نے ملک کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہشمند جہازوں کو اپنی درخواست‘ ایک نئے سرکاری ادارے کو جمع کرانی ہوگی جو اس آبی گزرگاہ کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ معاہدے کی شرائط کے مطابق ’ساٹھ دن کی مدت کے لیے درخواست گزاروں سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔‘
اس معاہدے سے ایران کے ساتھ موجودہ امریکی اسرائیلی تنازع کا خاتمہ ہونا چاہیے جس میں اپریل کے اوائل میں جنگ بندی طے پانے سے پہلے پانچ ہفتوں تک بھرپور جنگ دیکھی گئی تھی۔
لیکن تہران میں کچھ لوگ امن کے امکانات کے حوالے سے مایوس تھے۔
تہران سے تعلق رکھنے والی 54 سالہ ماہرِ نفسیات مینا نے کہ ’مجھے کوئی امید نہیں کہ یہ ایک پائیدار معاہدہ ہے۔ شاید 60 دن کے بعد وہ دوبارہ لڑنا شروع کر دیں۔‘
ان کے ان جذبات کی گونج فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخوان کے ہاں بھی ملی جنہوں نے ورسائے محل میں معاہدے پر دستخط کی صدارت کی تھی جسے انہوں نے صدر ٹرمپ کا ایک ’خودساختہ یا اچانک‘ اقدام قرار دیا۔
صدر میکخواں نے کہا کہ ’انہیں یقین نہیں ہے‘ کہ جنگ ’مکمل طور پر ختم‘ ہو چکی ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے متن کے تحت واشنگٹن ایران کی معیشت کو اپاہج کرنے والی تیل کی پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا پابند ہے۔
اور معاہدے کے مطابق ایک بار جب ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدہ ہو جائے گا، تو امریکہ علاقائی ممالک کے تعاون سے 300 ارب ڈالر کے بحالی فنڈ کے اجراء میں سہولت فراہم کرے گا۔