Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کو ’غیر معمولی رعایتیں‘ دینے پر صدر ٹرمپ امریکی میڈیا کے نشانے پر

امریکی میڈیا کی ایران کو غیرمعمولی رعایتیں دینے پر صدر ٹرمپ پر شدید تنقید جاری ہے (فوٹو: روئٹرز)
امریکی میڈیا متفق دکھائی دیتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے میں ایران کو دی گئی رعایتیں یہ جنگ ختم کرنے کے نام پر ایک بڑی ناکامی ہیں، مثال کے طور پر جنگ شروع کرنے سے قبل مقرر کیے گئے اہداف ترک کر دیے گئے، ایران کی طاقت میں اضافہ ہو گیا، اور جنگ میں دسیوں ارب ڈالر ضائع ہو گئے۔
امریکی صدر نے بدھ کے روز پیرس کے باہر ایک کینڈل لائٹ ڈنر کے دوران ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کا مقصد اس جنگ کو ختم کرنا تھا جس نے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور عالمی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کیا تھا۔
لیکن جمعرات کو صدر ٹرمپ کی امریکہ واپسی کے ساتھ ہی انہیں تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا، جہاں جنگ کے حامی اور مخالف دونوں طرف سے شدید تنقید کا امکان ہے۔
امریکی ٹی وی نیٹ ورک ایم ایس ناؤ کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے اُس جنگ بندی کی توسیع پر اتفاق کیا جس میں اس کے جنگ سے پہلے کے کسی بھی ہدف کی تکمیل نہیں ہوئی، جبکہ ایران کو بڑے پیمانے پر مالی رعایتیں دی گئیں۔
ایم ایس نائو نے مزید کہا کہ ’انتظامیہ اب بے تابی سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ ایرانیوں نے سادہ الفاظ میں ٹرمپ کو شکست دی ہے، اور اب کوئی بھی ان کی کہانی پر یقین نہیں کر رہا۔‘
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف، جنہوں نے اس معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کیا، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’ابتدائی قدم کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا اور امریکہ فوری طور پر ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔‘
معاہدے کے مطابق واشنگٹن نے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے والی تیل کی پابندیاں بھی فوری طور پر ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔
ایران کے لیے بڑے فائدے
یہ معاہدہ ایک عارضی انتظام ہے جس کا مقصد اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ مسئلے ایران کے جوہری پروگرام پر طویل مدتی کنٹرول پر تفصیلی مذاکرات کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔ امریکی حکام طویل عرصے سے یہ شبہ ظاہر کرتے آئے ہیں کہ ایران کے پاس خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا پروگرام موجود ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، یہ معاہدہ ’صدر کی دوسری مدتِ صدارت کی سب سے بڑی خارجہ پالیسی شرط‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اخبار نے کہا کہ ٹرمپ کو سخت گیر حلقوں کی مزاحمت کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا جن کا یہ خیال ہے کہ امریکہ نے غیرمعمولی رعایتیں دیں اور بدلے میں بہت کم حاصل کیا۔
معاہدے پر دستخط کا عمل بھی انتشار کا شکار نظر آیا، اور اخبار کے مطابق ٹرمپ نے بدھ کی رات اس دستاویز پر دوسری بار دستخط کیے، جس سے ان کے بعض مشیروں کو حیرت ہوئی اور اس ہفتے ہونے والی باقاعدہ دستخطی تقریب کے منصوبے بھی متاثر ہوئے۔
ٹرمپ کے قریب خیال کیے جانے والے میڈیا ہائوس فاکس نیوز نے ناقدین کے حوالے سے کہا ہے کہ اس معاہدے میں ایران کو ’بہت بڑے مالی فوائد‘ دیے گئے ہیں، جبکہ اس کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی واضح شرط موجود نہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے پیرس میں ایران کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے (فوٹو: مڈل ایسٹ مانیٹر)

معاہدے کے مطابق جب ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی سمجھوتہ ہو جائے گا تو امریکہ 300 ارب ڈالر پر مشتمل تعمیرِ نو فنڈ کے اجرا میں سہولت فراہم کرے گا، جسے خطے کے ممالک کی حمایت حاصل ہوگی۔
فاکس نیوز کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مجوزہ ایران معاہدہ ان کے کچھ مضبوط ترین حامیوں کی بھی سخت تنقید کا شکار ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری پروگرام ختم کرنے پر متفق ہونے سے قبل ہی انعام دے رہا ہے۔‘
نیٹ ورک نے برطانوی نشریاتی شخصیت پیئرز مورگن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ’یہ کرۂ ارض میں کسی بھی دوسرے معاہدے کی طرح‘ غیر مشروط ہتھیار ڈالنے’ سے سب سے زیادہ دور ہے۔‘

شیئر: