Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ اور ایران کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے اہم نکات کیا ہیں؟

امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکات پر مشتمل ’مفاہمتی یادداشت‘ کا متن جاری کردیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق معاہدے کا متن ایک سینیئر امریکی عہدے دار نے بدھ کے روز رپورٹرز کو پڑھ کر سنایا۔
معاہدے کا عنوان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ رکھا گیا ہے جس پر جمعے کو دستخط کیے جائیں گے۔
1) ’اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کے ریاست ہائے متحدہ امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران اور موجودہ جنگ میں ان کے اتحادی لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔‘
فریقین اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ وہ آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کسی جنگ یا فوجی کارروائی کا آغاز نہیں کریں گے، نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کا سہارا لیں گے، اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
حتمی معاہدہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کی توثیق کرتا ہے۔
2) ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران عہد کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔
3)  ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 روز کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کریں۔ باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
4) اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی امریکہ، ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی اور دیگر رکاوٹوں کو ختم کرنے کا عمل شروع کر دے گا، اور 30 دن کے اندر ایرانی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔
اس دوران ایران کی جانب سے بحری جہازوں کی آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کر دی جائے گی۔ حتمی معاہدے کے بعد امریکہ 30 دن کے اندر اپنی افواج کو ایرانی حدود سے ہٹا لے گا۔

حتمی معاہدہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کی توثیق کرتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

5) اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ ہی ایران خلیج فارس سے بحیرۂ عمان اور بحیرۂ عمان سے خلیج فارس تک تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے انتظامات کرے گا، اور یہ سہولت صرف 60 روز تک بغیر کسی فیس کے فراہم کی جائے گی۔
اسلامی جمہوریہ آبنائے ہرمز کی مستقبل کی انتظامیہ اور بحری خدمات کے نظام کا تعین کرنے کے لیے سلطنتِ عمان کے ساتھ بات چیت کر کے بات چیت کرے گا، جس میں دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بھی مشاورت کی جائے گی۔
6) امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی بحالی اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ تشکیل دے گا، جس کے لیے کم سے کم 300 ارب ڈالر کی مالی معاونت یقینی بنائی جائے گی۔ اس منصوبے کے نفاذ کا طریقہ کار حتمی معاہدے کے تحت 60 روز کے اندر تیار کیا جائے گا۔ 
7) امریکہ حتمی معاہدے کے تحت طے شدہ شیڈول کے مطابق ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں، اور امریکہ کی تمام یک طرفہ پابندیاں شامل ہیں۔

حتمی معاہدے کے بعد امریکہ 30 دن کے اندر اپنی افواج کو ایرانی حدود سے ہٹا لے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

8) ایران اپنے اس موقف کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ ایران اور امریکہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ افزودہ یورینیئم اور دیگر تمام ایٹمی امور، بشمول ایران کی جوہری ضروریات کو حتمی معاہدے میں مناسب انداز میں حل کیا جائے گا۔
9) فریقین میں حتمی معاہدہ طے پانے تک موجودہ صورتِ حال کو برقرار رکھا جائے گا۔ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کی موجودہ حیثیت برقرار رکھے گا جبکہ امریکہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کرے گا اور نہ ہی خطے میں اپنی فوجی قوت میں اضافہ کرے گا۔
10) امریکہ کی جانب سے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوری بعد اور پابندیوں کے خاتمے تک امریکی محکمہ خزانہ کے ذریعے ایران کے خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان سے متعلق تمام خدمات، بشمول بینکاری، انشورنس اور ٹرانسپورٹ، کے لیے رعایتی اجازت نامہ جاری کیا جائے گا۔
11) امریکہ اس بات کا پابند ہوگا کہ مذاکرات میں حتمی معاہدے کی جانب پیش رفت کے ساتھ ہی ایران کے منجمد یا محدود فنڈز اور اثاثے جاری کرے اور مکمل طور پر قابل استعمال بنانے دے۔

 حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک لازمی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی (فائل فوٹو: گیٹی)

12) ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران اس بات پر متفق ہیں کہ اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے کامیاب نفاذ اور مستقبل میں حتمی معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی و نگرانی کا ایک طریقۂ کار وضع کیا جائے گا۔
13) اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اور اس شرط کے ساتھ کہ اس کی شقوں 1، 4، 5، 10 اور 11 پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہو اور ان اقدامات کا تسلسل برقرار ہے، امریکہ اور ایران حتمی معاہدے کے حوالے سے صرف باقی شقوں پر مذاکرات شروع کریں گے۔
14) امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک لازمی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

شیئر: