Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سفارتی حکمتِ عملی یا الیکٹرانک سائننگ: جنیوا میں ہونے والی ایران، امریکہ کی سفارتی نشست کیوں منسوخ ہوئی؟

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کی وجہ سے ایران کے ساتھ دوسرے مرحلے کے مذاکرات تاخیر کا شکار ہوئے ہیں، تاہم دونوں فریقین کے درمیان بات چیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ جب گزشتہ روز ایرانی اور امریکی صدور نے معاہدے پر دستخط کر دیے تھے، تو اس کے بعد سوئٹزرلینڈ جانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا تھا۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ محرم الحرام کے باعث ایران کے ساتھ دوسرے مرحلے کے مذاکرات تاخیر کا شکار ہوئے ہیں، جبکہ جولائی کے پہلے ہفتے میں سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین بھی ہونی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ فریقین کو 60 روز کے اندر دوسرے مرحلے کے مذاکرات مکمل کرنے ہیں، تاہم مذاکرات کی فی الحال منسوخی کے باعث سوئٹزرلینڈ میں موجود پاکستانی عملے کو واپس بلا لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب 19 جون یعنی جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہونی تھی، لیکن بعد ازاں اس تقریب کو منسوخ کر دیا گیا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر جمعرات کو پہلے دونوں فریقوں، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کیے، اور بعد ازاں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے بطور ثالث اس پر دستخط ہونے کے بعد جمعے کو جنیوا میں ہونے والی تقریب منسوخ کر دی گئی تھی۔
اس حوالے سے سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ کے باضابطہ بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے خاتمے کے لیے ایرانی مذاکرات کاروں اور امریکہ کے درمیان برگن سٹاک کے پہاڑی تفریحی مقام پر شیڈول بات چیت اب نہیں ہوگی، تاہم سوئس حکام کی جانب سے سفارتی حساسیت کے باعث اس تقریب کی منسوخی کی مزید کوئی وجوہات یا تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
ہم نے اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے ایران، امریکہ مذاکرات کو کور کرنے والے سینیئر صحافیوں اور سابق سفارت کاروں سے بھی گفتگو کی ہے۔
اسلام آباد میں مقیم خارجہ امور، بالخصوص ایران، امریکہ مذاکرات پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی کامران یوسف سمجھتے ہیں کہ جنیوا میں ہونے والی تقریب کی منسوخی کے پیچھے ایک سے زائد عوامل کارفرما ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے براہِ راست فریقین اور ثالث کاروں (میڈی ایٹرز) کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ اس عمل کے مخالف عناصر (اسپائلرز) تقریب کو خراب کر سکتے ہیں، اور شاید اسی لیے اس معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ہی کرنے پر اکتفا کیا گیا۔

سفیر جوہر سلیم نے آخر میں اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات اب بھی جنیوا میں ہو سکتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے مزید بتایا کہ جمعے کو ہونے والی تقریب سے قبل ہی امریکہ اور ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کا مسودہ منظرِ عام پر آنے لگا تھا، جس پر دونوں اطراف سے ردِعمل دیکھنے کو ملا۔ دوسری جانب ثالثوں کا مؤقف تھا کہ جب تک حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا، تب تک اس مسودے کو عام نہ کیا جائے۔
کامران یوسف نے تیسری اہم وجہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی ذکر کیا کہ آنے والے دنوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین ہونی ہے، اس تناظر میں یہ امکان موجود ہے کہ ایرانی قیادت نے یہ سوچا ہو کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں اپنے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد اگر وہ اس تقریب میں امریکی حکام کے ساتھ براہِ راست ملاقات کرتے ہیں تو اس کا داخلی سطح پر منفی اثر پڑ سکتا تھا۔
’چنانچہ ان تمام وجوہات کے پیشِ نظر، مزید سفارتی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے تقریب سے تین روز قبل ہی اس معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کرنے کو ترجیح دی گئی۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ اگر یہ سب آن لائن دستخط (الیکٹرانک سائننگ) کے ذریعے ہی طے ہونا تھا تو پھر پاکستانی وفد جنیوا کیوں پہنچا اور کیا انہیں بھی آخری وقت پر اس کا علم ہوا؟ کامران یوسف نے بتایا کہ اس حوالے سے دو اہم پہلو نظر آتے ہیں۔
’مذاکرات کے بڑے فریقین نے یقینی طور پر دو متبادل حکمتِ عملیاں (پلان اے اور پلان بی) تیار رکھی ہوں گی۔ پلان بی کے تحت یہ طے تھا کہ اگر جنیوا میں تقریب منعقد نہ ہو سکی تو الیکٹرانک دستخط کر لیے جائیں گے، مگر شاید یہ پلان بی صرف اعلیٰ قیادت کو ہی معلوم تھا اور نچلی سطح پر اس کی معلومات نہیں تھیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی وفد وہاں پہنچا۔‘

اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بطور ثالث دستخط کیے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

’اگر پلان اے کامیاب ہوتا تو پاکستانی وفد وہاں تقریب کی میزبانی کے لیے موجود تھا، لیکن جب پلان اے پر عمل درآمد نہ ہو سکا تو فوکس پلان بی، یعنی الیکٹرانک دستخط، پر ہی مرکوز کر دیا گیا۔‘
انہوں نے اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ شاید مخالف عناصر (اسپائلرز) کو دھوکے میں رکھنے کے لیے اس طرح کی حکمتِ عملی اپنائی گئی ہو، جس میں اصل ہدف الیکٹرانک دستخط ہی ہوں، لیکن بظاہر جنیوا کی تقریب کا ذکر کیا گیا ہو۔
اسی طرح سابق سینیئر سفارت کار جوہر سلیم کے خیال میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کروانا اصل ہدف تھا، جس میں پاکستان سمیت دیگر ثالثوں اور دونوں فریقین کو کامیابی حاصل ہوئی ہے، چاہے وہ الیکٹرانک طریقے سے ہی کیوں نہ ہوئے ہوں۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بہت سارے معاہدات آن لائن دستخطوں کے ذریعے طے پاتے ہیں اور یہ کوئی نئی یا انہونی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے بنیادی چیز یہ ہے کہ پاکستان کامیابی سے ثالثی کروانے میں کامیاب ہوا ہے۔
جوہر سلیم کے مطابق چونکہ الیکٹرانک دستخط صدور کی سطح پر ہوئے، جو کہ اعلیٰ ترین سطح ہے، اور جنیوا میں صدور نے تو آنا نہیں تھا، اس لیے اگر اعلیٰ سطح پر دستخط ہو گئے ہیں تو پھر جنیوا میں باقی دستخطوں کی شاید ضرورت نہ رہی ہو۔
سفیر جوہر سلیم نے آخر میں اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات اب بھی جنیوا میں ہو سکتے ہیں، اور بھلے ہی ان کا مقام تبدیل ہو جائے، لیکن نتیجتاً انہیں مذاکرات کا یہ سلسلہ جاری رہتا دکھائی دے رہا ہے۔

لبنان پر اسرائیلی حملوں اور فریقین کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر ہونے والی ’الیکٹرانک سائننگ‘ (آن لائن دستخطوں) کے بعد جنیوا میں ہونے والی اہم سفارتی تقریب کے امکانات کم ہو گئے تھے۔


اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ فریقین کو 60 روز کے اندر دوسرے مرحلے کے مذاکرات مکمل کرنے ہیں۔ (فوٹو: روئٹرز)

اسلام آباد سے اس مفاہمتی تقریب کی کوریج کے لیے جنیوا میں موجود سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار عامر الیاس رانا نے اردو نیوز کو بتایا کہ جنیوا کے ایک تفریحی مقام پر موجود ریزورٹ میں پاکستان سمیت ایرانی اور امریکی پیشگی ٹیمیں موجود تھیں اور تیاریاں بھی مکمل تھیں، تاہم بدلی ہوئی سفارتی صورتحال کے بعد اب تمام وفود واپس جا رہے ہیں۔ البتہ تکنیکی سطح پر بات چیت کا یہ سلسلہ مستقبل میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان اب بھی موجود ہے۔
سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے عامر الیاس رانا کا کہنا تھا کہ ریزورٹ کے باہر سکیورٹی سوئس حکام کے پاس تھی جبکہ اندرونی سکیورٹی امریکی اہلکار سنبھال رہے تھے۔ انہوں نے بتایا ’تیاریاں تو مکمل تھیں لیکن دوحہ سے جنیوا آتے ہوئے ہی ہمیں یہ احساس ہونے لگا تھا کہ شاید یہ تقریب نہ ہو سکے، کیونکہ اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ پیرس میں امریکی صدر نے خود ہی اس معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چونکہ سینیئر پاکستانی، ایرانی اور امریکی حکام پہلے ہی جنیوا پہنچ چکے تھے اور ہمارے ساتھ جہاز میں بھی وزارتِ خارجہ کے کچھ عہدے دار موجود تھے، اس لیے یہ امکان موجود تھا کہ تکنیکی مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر، ایرانی سپیکر اور پاکستان کے وزیر اعظم آئیں گے۔
لیکن اسی دوران لبنان پر اسرائیلی حملے شروع ہو گئے، جس پر ایران نے واضح مؤقف اپنایا کہ جب تک یہ حملے بند نہیں کروائے جاتے، تب تک وہ آگے کی بات چیت کیسے شروع کر سکتے ہیں؟ چنانچہ اس کشیدگی کے باعث جنیوا مذاکرات فی الحال موخر کر دیے گئے ہیں۔‘
عامر الیاس رانا نے واضح کیا کہ اس وقت پاکستان، ایران اور امریکہ سمیت تمام وفود واپس جا رہے ہیں اور اب وہاں کوئی ایسی سفارتی سرگرمی باقی نہیں رہی، تاہم چونکہ اگلے 60  دنوں تک  روابط جاری رہیں گے، اس لیے یہ تکنیکی سطح کے مذاکرات آگے چل کر دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

شیئر: