Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

واشنگٹن میں مذاکرات: ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور داعش کے خلاف امریکہ اور پاکستان کا تعاون بڑھانے کا عزم

امریکہ اور پاکستان اب انسدادِ دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی سفارت کاری میں رابطے بحال کر رہے ہیں (فوٹو: دفتر خارجہ)
پاکستان اور امریکہ نے کالعدم تنظیموں بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، داعش خراسان اور القاعدہ کے خلاف باہمی تعاون کو مزید بڑھانے اور دہشت گردوں کے سہولت کاری نیٹ ورکس کو توڑنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ اہم پیش رفت منگل 4 اگست 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہونے والے پاک-امریکہ انسدادِ دہشت گردی ڈائیلاگ کے چوتھے دور کے بعد بدھ کو جاری کیے گئے ایک مشترکہ اعلامیے میں سامنے آئی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق اس اجلاس کی قیادت امریکی کوآرڈینیٹر برائے انسدادِ دہشت گردی سفیر گریگوری لوگیرفو اور پاکستان کے دفترِ خارجہ کے سپیشل سیکرٹری سفیر نبیل منیر نے کی۔
بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور چیلنجز
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پاکستان کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسندانہ کارروائیوں میں تیزی سے اضافے کا سامنا ہے۔
اسلام آباد کے مطابق ٹی ٹی پی ان حملوں کے لیے پڑوسی ملک افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہی ہے تاہم کابل میں طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں بی ایل اے کی طرف سے سکیورٹی فورسز، چینی باشندوں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ سفارتی پیش رفت
مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ ’دونوں وفود نے سیکورٹی کے موجودہ ماحول پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بارڈر سکیورٹی کو مضبوط بنانے، سہولت کاری کے نیٹ ورکس کو ناکارہ بنانے اور باہمی سکیورٹی تعاون کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا تاکہ علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔‘
واضح رہے سال 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں جو سرد مہری آئی تھی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں اس میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
دونوں ممالک اب انسدادِ دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی سفارت کاری میں رابطے بحال کر رہے ہیں جبکہ حال ہی میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں میں ثالث کا کردار بھی ادا کیا ہے۔

 

شیئر: