Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمران خان کو جیل میں سہولیات میسر ہیں، قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل 

عدالتی نوٹس پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل راولپنڈی نے 190 ملین پاونڈ کیس میں بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جعع کرائی گئی تحریری رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے الزامات کی سختی سے تردید کی۔
رپورٹ کے مطابق ’سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بتایا کہ عمران خان صبح لاک اَپ کھلنے سے شام ہونے تک آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں، دن بھر اپنی پسند کے مطابق سرگرمی کر سکتے ہیں۔‘
’اڈیالہ جیل میں کسی بھی قیدی بشمول بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا، جیلوں میں کا نظام قریباً ختم ہو چکا ہے۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اب قیدِ تنہائی رائج ہے نہ ہی عدالتیں طویل عرصے سے ایسی سزا دے رہی ہیں۔ جیل قواعد کے مطابق انہیں ہر منگل اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی بھی اجازت ہے۔‘ 
  ’عمران خان کو سزا ہو چکی ہے، وہ قانون کے مطابق قید کاٹ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ کوئی امتیازی یا غیر مساوی نہیں بلکہ دیگر قیدیوں کی طرح ہی قانون کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے۔‘
اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’سابق وزیراعظم اور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے عمران خان کے لیے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں انہیں کچھ اضافی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔‘ 
’عام قیدیوں کو عمران خان کے رہائشی حصے تک رسائی نہیں دی جاتی۔ بانی پی ٹی آئی 7 سیل پر مشتمل کمپاؤنڈ میں دن بھر آزادانہ چل پھر سکتے ہیں۔ صرف رات کے مخصوص اوقات میں وہ اپنے سیل میں رہتے ہیں۔‘ 
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ کے مطابق ’جیل افسران اور عملہ عمران خان کی ضروریات کے حوالے سے وقتاً فوقتاً ان سے رابطے میں رہتا ہے۔‘
’ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل معمول کے مطابق عمران خان سے ملاقات کرتے اور ضرورت پڑنے پر خصوصی ملاقات بھی کرتے ہیں۔ جیل کے ڈاکٹر روزانہ تین مرتبہ اُن کا معائنہ کرتے اور اُن کے کھانے کی جانچ کرتے ہیں۔‘
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور آکسیجن سیچوریشن سمیت دیگر طبی علامات چیک کرتے اور انہیں بھی اس متعلق بتایا جاتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اضافی طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔
’ایک کل وقتی سزا یافتہ قیدی مقرر ہے جو عمران خان کے منتخب کردہ مینیو کے مطابق روزانہ تین وقت کا کھانا تیار کرتا ہے۔ عمران خان کو قدرتی روشنی، تازہ ہوا اور طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ورزش کی سہولت حاصل ہے۔‘
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’جیل مینوئل کے مطابق سابق وزیراعظم کی رازداری بھی یقینی بنائی گئی ہے۔اُن کی قید کی جگہ محفوظ اور مکمل نگرانی میں ہے جہاں جیل عملہ مناسب تعداد میں موجود ہے۔ حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔‘ 
’فرینڈ آف دی کورٹ کے طور پر سلمان صفدر نے 10 فروری 2026 کو عمران خان کے سیل کا معائنہ کر کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی۔‘
رپورٹ کے مطابق ’سابق وزیراعظم کی حراست اور رہائشی حالات مناسب اور اطمینان بخش ہیں اور قید تنہائی کا معمولی سا بھی عنصر موجود نہیں۔‘
’درخواست گزار علیمہ خانم کے الزامات محض قیاس آرائی اور بے بنیاد ہیں، استدعا ہے علیمہ خانم کی درخواست کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا جائے۔‘ 
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں قید تنہائی کے خلاف ان کی بہن علیمہ خانم کی درخواست پر سماعت جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو کے بینچ میں ہو گی۔

شیئر: