پاکستان اور قطر نے مذاکرات کے لیے بہت کام کیا، دونوں ممالک کا شکرگزار ہوں: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وہ ایران سے ڈیل نہ کرتے تو آبنائے ہرمز نہ کھلتی، دنیا کو معاشی تباہی سے بچانے کے لیے معاہدہ کیا۔
فرانس میں جی سیون ممالک کے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران کے ساتھ ڈیل کے بعد تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں، جی سیون ممالک بھی خوش ہیں کہ ہم نے ایران سے معاہدہ کر لیا ہے۔‘
’ڈیل نہ کرتے تو بمباری ہفتوں، مہینوں چلتی رہتی، جیسے ہی ہم امن کی بات کرتے ہیں سٹاک مارکیٹ راکٹ کی طرح اوپر جاتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان اور قطر نے بہت کام کیا ہے، دونوں ممالک کا شکرگزار ہوں۔‘
امریکی صدر نے خصوصی طور پر سعودی عرب کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس نے بھی امن معاہدے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
’ایران کے ساتھ ڈیل پر جلد دستخط ہوں گے، ممکنہ طور پر جمعے کو، اسرائیل کو ایم او یو کا مسودہ بھیجوا دیا ہے، لبنان کی صورت حال دیکھ کر مجھے دُکھ ہوتا ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’معاہدے کے بعد امید ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور توقع ہے کہ ایرانی رہنما مختلف برتاؤ کریں گے۔‘
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایران کے ساتھ ڈیل پر اختلاف رکھتے ہیں اور اس پر شدید مایوسی کا شکار ہیں۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ ہم معاہدے پر دستخط کرنے جارہے ہیں، ایرانی قیادت بہت مناسب رویے کا مظاہرہ کررہی ہے، ایرانیوں کہا کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے۔‘
’میں نے کہا اگر انہوں نے خرید لیا تو کیا ہوگا، اس لیے معاہدے میں لکھوا دیا کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہ خریدیں گے نہ ہی بنائیں گے۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’300 ارب ڈالر کا فنڈ ایران کے اچھے طرز عمل سے مشروط ہے، کوئی ایران میں سرمایہ کاری کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران کے خلاف جنگ کے دوران چین غیر جانبدار رہا، چینی قیادت کے اس اقدام کو سراہتا ہوں۔‘
