Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لبنان میں جنگ بندی کے بعد امریکی ایلچی ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ

تہران اور واشنگٹن کے پاس مستقل امن یا عبوری معاہدے میں توسیع کے لیے 60 دن کا وقت ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک نئی جنگ بندی پر اتفاق کے بعد خطے میں پائیدار امن کی امیدیں ایک بار پھر روشن ہو گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس اہم پیش رفت کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی ریزورٹ برجن اسٹاک میں ہوں گے۔
اس سے قبل لبنان میں لڑائی میں اچانک شدت آنے کے باعث امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس اہم بیٹھک میں اپنی شرکت منسوخ کر دی تھی جس سے آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کی کوششوں پر شکوک کے بادل منڈلانے لگے تھے۔ تاہم، اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے خود اسرائیل سے بات کی اور انہیں جنگ بندی پر آمادہ کیا۔
سوشل میڈیا پر ایک صحافی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا’کبھی کبھی آپ کو پرسکون رہ کر اپنے دماغ کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔‘
ذرائع کے مطابق یہ جنگ بندی جمعے کو لبنانی وقت کے مطابق شام 4 بجے نافذ العمل ہوئی۔
ایک سینیئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکہ اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کے تعاون سے یہ معاہدہ ممکن بنایا۔ حزب اللہ اور اسرائیلی حکام نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔
ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا ’اگر حزب اللہ ہم پر حملہ نہیں کرتی تو ہمارے لیے یہ جنگ کا وقت نہیں،‘ تاہم اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی پوزیشنز برقرار رکھے گی۔

یہ جنگ بندی جمعے کو لبنانی وقت کے مطابق شام 4 بجے نافذ العمل ہوئی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اگرچہ جنگ بندی کے پہلے گھنٹے میں اسرائیل کی جانب سے چند فضائی حملے رپورٹ ہوئے لیکن بعد میں خاموشی چھا گئی۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی سے قبل اسرائیلی حملوں میں 47 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اسرائیل نے بھی اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
موجودہ عبوری معاہدہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادیوں کو تمام محاذوں پر فوری فوجی کارروائیاں روکنے کا پابند کرتا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے پاس مستقل امن یا عبوری معاہدے میں توسیع کے لیے 60 دن کا وقت ہے۔
اس معاہدے کے تحت ایران کو اقتصادی پابندیوں میں ریلیف، اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز سے تیل کی بلا روک ٹوک ترسیل کی اجازت ملے گی۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واشنگٹن میں اپنے ہی کچھ ریپبلکن اتحادیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے جن کا ماننا ہے کہ انہوں نے ایران کو بہت زیادہ رعایتیں دے دیں۔
اس پر ڈوںلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنا دفاع کرتے ہوئے لکھا ’اس جنگ نے ایران کو تباہ کر دیا ہے، وہ ختم ہو چکے ہیں۔ ہم اگلے 60 دن کا کھیل دیکھیں گے، انہیں ابھی ایک ٹکا بھی نہیں مل رہا۔‘

شیئر: