Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ ایران مذاکرات: صدر ٹرمپ کے ایلچی اور ایرانی وزیر خارجہ سوئٹزرلینڈ روانہ

تہران اور واشنگٹن کے پاس مستقل امن یا عبوری معاہدے میں توسیع کے لیے 60 دن کا وقت ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ایک اہم سفارتی مشن پر سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہے ہیں جہاں لبنان میں ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان عبوری امن معاہدے کو ایک مستقل علاقائی امن ڈیل میں بدلنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایکسیئس‘ کے مطابق سٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ہمراہ اس اعلیٰ سطح کی بیٹھک کا حصہ بنیں گے جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے بھی سنیچر کو وہاں پہنچنے کی توقع ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب محض ایک دن قبل لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شدید لڑائی کے باعث امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کا اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا جس سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تیل کی سپلائی کو بحال کرنے کی نازک کوششوں پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔
تاہم جمعے کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے نے صورتحال بدل دی ہے۔
اس معاہدے کے تحت فریقین کو ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر پچیدہ علاقائی تنازعات کو حل کرنے کے لیے 60 دن کا وقت ملا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، لبنان میں جنگ بندی جمعہ کی شام 4 بجے نافذ العمل ہوئی۔
ایک سینیئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکہ اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کے تعاون سے یہ معاہدہ ممکن بنایا۔ حزب اللہ اور اسرائیلی حکام نے بھی اس جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔
ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا ’اگر حزب اللہ ہم پر حملہ نہیں کرتی، تو ہمارے لیے یہ جنگ کا وقت نہیں‘ تاہم اسرائیلی فوج سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جنوبی لبنان میں موجود رہے گی۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی فضائی حملوں میں 47 لبنانی شہری ہلاک ہوئے جبکہ اسرائیل نے بھی اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔
اگرچہ جنگ بندی کے ابتدائی گھنٹے میں اسرائیل نے چند فضائی حملے کیے، مگر شام 5 بجے کے بعد سے مکمل خاموشی رپورٹ کی گئی ہے۔

ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کا فنڈ بھی اس ڈیل کا حصہ ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس وسیع تر امریکہ ایران معاہدے کے لیے بنیادی شرط ہے۔ اس عبوری ڈیل کے تحت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری خاتمہ لازم ہے جس کے بدلے میں ایران کو اقتصادی پابندیوں میں بڑی چھوٹ، اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کی واپسی اور تیل کی برآمدات کی فوری اجازت ملے گی۔
اس کے علاوہ ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کا فنڈ بھی اس ڈیل کا حصہ ہے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واشنگٹن میں اپنے ہی کچھ ریپبلکن اتحادیوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ نومبر کے مڈٹرم الیکشن سے قبل ٹرمپ نے ایران کو ضرورت سے زیادہ رعایتیں دے دی ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سخت جواب دیتے ہوئے لکھا ’اس جنگ نے ایران کو کمزور کر دیا ہے، وہ ختم ہو چکے ہیں۔ ہم اگلے 60 دن کا کھیل دیکھیں گے، انہیں ابھی ایک ٹکا بھی نہیں مل رہا۔‘

شیئر: