امریکہ کے ساتھ مذاکرات ایران کی ’ریڈ لائنز‘ کے اندر ہی ہوں گے: باقر قالیباف
وائٹ ہاؤس کے مطابق ’مذاکراتی عمل شروع کرنے کا فیصلہ ہوتے ہی جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ روانہ ہو جائیں گے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اعلٰی ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ایران کی مقررکردہ ’ریڈ لائنز‘ کی حدود میں ہی ہوں گے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق محمد باقر قالیباف کا یہ بیان ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اِرنا‘ کی جانب سے جمعے کو جاری کیا گیا۔
بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایران اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی یا غیر ضروری مطالبے کی صورت میں فیصلہ کُن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
ایران اور امریکہ نے جمعرات کو ہی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کے تحت علاقائی جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ اس جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے ہوا تھا۔
اُدھر سوئٹزرلینڈ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ایرانی اور امریکی مذاکرات کاروں کے درمیان متوقع بات چیت جمعے کو نہیں ہو گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اپنا مجوزہ دورۂ جنیوا منسوخ کر دیا، جس سے امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی اور حتمی معاہدے کے امکانات کے بارے میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ’اِن تکنیکی مذاکرات کا اہتمام کرنا ہمیشہ سے ہی ایک مشکل مرحلہ رہا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آگے کیا ہونے والا ہے، تاہم جیسے ہی مذاکراتی عمل شروع کرنے کا فیصلہ ہو گا جے ڈی وینس اور امریکی وفد سوئٹزرلینڈ روانہ ہو جائیں گے۔‘
اگرچہ وائٹ ہاؤس نے لاجسٹک مسائل کو مذاکرات میں تاخیر کی وجہ قرار دیا ہے، تاہم عرب ٹی وی چینل المیادین نے رپورٹ کیا کہ ’لبنان میں جاری اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے باعث ایران نے اپنا وفد سوئٹزرلینڈ بھیجنے کا فیصلہ موخر کیا ہے۔‘
