لبنان پر حملوں میں 47 افراد ہلاک، اسرائیل اور حزب اللہ آج سے جنگ بندی پر متفق
لبنان پر حملوں میں 47 افراد ہلاک، اسرائیل اور حزب اللہ آج سے جنگ بندی پر متفق
جمعہ 19 جون 2026 17:48
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جمعے کو لبنان میں حزب اللہ کے 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا (فائل فوٹو: روئٹرز)
ایک سینیئر امریکی عہدے دار نے کہا ہے کہ ’اسرائیل اور حزب اللہ نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے جو جمعے کو مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے نافذ ہوگی۔‘
عرب نیوز کے مطابق امریکی عہدے دار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ’اس معاہدے کو طے کرنے میں امریکہ اور قطر کے مذاکرات کاروں نے کام کیا جبکہ ایران نے بھی معاونت فراہم کی۔‘
اس حوالے سے اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ آج فائرنگ کے تبادلے کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ اب جنگ بندی کی حالت میں ہیں۔‘
دوسری جانب لبنانی صدر جوزف عون نے لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کارروائیاں جامع جنگ بندی کے حصول کی کوششوں کو نہیں روک سکیں گی۔‘
لبنان کے ایوانِ صدر نے جمعے کو سوشل میڈیا پر صدر عون کا بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع میں اسرائیلی حملوں کا پھیلاؤ اور مزید ہلاکتیں و تباہی خطرناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسرائیل کے یہ حملے اس لیے خاص طور پر قابلِ مذمت ہیں کہ اِن میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں بے گناہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔‘
’اسرائیلی حملے، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ پیش رفت کے بعد جنگ بندی کو مضبوط بنانے اور جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘
صدر جوزف عون نے واضح کیا کہ ’یہ صورتِ حال لبنان میں جامع جنگ بندی کے حصول کی کوششوں کو نہیں روک سکے گی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے لبنان کے مذاکراتی وفد کو ہدایت کی ہے کہ واشنگٹن میں بات چیت کے آئندہ دور میں مکمل جنگ بندی کے حصول کو ترجیح دے۔‘
’اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ جامع جنگ بندی سے ہی دیگر مسائل کے حل کا راستہ کُھلے گا، جن میں اسرائیلی افواج کا انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی اور قیدیوں کی واپسی شامل ہیں۔‘
بنیامین نیتن ہایو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت پر حزب اللہ کو ’بھاری قیمت‘ چکانے پر مجبور کر دیں گے (فائل فوٹو: گیٹی)
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جمعے کو لبنان میں حزب اللہ کے 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں تنظیم کے درجنوں ارکان کو ہلاک کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں کشیدگی کم کرنے اور مستقل جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ایک سینیئر اسرائیلی عہدے دار اور حزب اللہ کے دو ذرائع نے روئٹرز کے ساتھ بات کرتے ہوئے جنگ بندی کی تصدیق کی۔
اسرائیلی عہدے دار نے کہا کہ ’اگر حزب اللہ ہم پر حملہ نہیں کرتی تو ہمارے لیے یہ جنگ کا وقت نہیں ہے، تاہم اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں موجود رہیں گی۔‘
اُدھر جنگ بندی نافذ ہونے کے مقررہ وقت کے قریباً ایک گھنٹے بعد لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری تھے۔
شمالی اسرائیل میں موجود روئٹرز کے ایک صحافی کے مطابق ’سرحد کے قریب ایک لبنانی گاؤں کے پیچھے دھوئیں کے بادل اُٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔‘
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ایک حملے میں اپنے چار فوجی ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے، یہ حملہ اس جنگ کے دوران حزب اللہ کے بدترین ترین حملوں میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن ہایو نے کہا ہے کہ ’اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت پر حزب اللہ کو ’بھاری قیمت‘ چکانے پر مجبور کر دیں گے۔