کوئٹہ: ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر 14 سالہ امریکی لڑکی کا قتل، والد اور ماموں کو عمر قید کی سزا
کوئٹہ: ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر 14 سالہ امریکی لڑکی کا قتل، والد اور ماموں کو عمر قید کی سزا
ہفتہ 20 جون 2026 9:25
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
پولیس کے مطابق ملزم انوار الحق قریباً تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم تھے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی ایک مقامی عدالت نے 14 سالہ پاکستانی نژاد امریکی لڑکی حرا انوار کے قتل کے جرم میں ان کے والد اور ماموں کو عمر قید کی سزا سنادی ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ (دس) شاہد جاوید نے سنیچر کو اس ہائی پروفائل مقدمے کا فیصلہ سنایا۔
عدالت نے مقتولہ کے والد انوار الحق راجپوت اور ماموں محمد طیب بھٹی کو عمر قید کے ساتھ ساتھ دو، دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔
اس مقدمے کی تفتیش ’سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ‘ (SCIW) نے کی تھی جس کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ سب انسپکٹر بسم اللہ خان تھے جبکہ استغاثہ کی جانب سے مقدمے کی پیروی اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر قیصر خان نے کی۔
حرا انوار قتل کیس کیا تھا؟
چودہ سالہ حرا انوار کو جنوری 2025 میں کوئٹہ کے علاقے بلوچی سٹریٹ میں گھر کے باہر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ واقعے کے فوراً بعد مقتولہ کے والد انوار الحق راجپوت نے خود گوالمنڈی تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔
انہوں نے پولیس کو دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ گھر سے نکلے تھے، تاہم وہ اپنے بھائی کا موبائل فون واپس دینے کے لیے دوبارہ گھر کے اندر چلے گئے اور اسی دوران باہر فائرنگ ہو گئی۔
ان کے مطابق جب وہ باہر آئے تو حرا شدید زخمی حالت میں پڑی تھیں جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔
تاہم جب پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے، عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کیا تو شک کی سوئی مقتولہ کے والد اور خاندان کے دیگر افراد پر گھوم گئی۔
قتل کی مبینہ وجہ اور منصوبہ بندی
بعد ازاں یہ مقدمہ سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کیا گیا، جس نے تفتیش کے بعد مقتولہ کے والد اور ماموں کو گرفتار کر لیا۔ پولیس حکام کے مطابق دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ والد کو اپنی بیٹی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں، رہن سہن اور طرزِ زندگی پر سخت اعتراض تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم انوار الحق قریباً تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم تھے جہاں وہ ٹیکسی چلاتے تھے اور حرا انوار کی پیدائش بھی وہیں امریکہ میں ہوئی تھی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ جنوری 2025 میں حرا اپنے والد کے ہمراہ امریکہ سے پاکستان کے شہر لاہور آئیں اور چند روز بعد کوئٹہ پہنچیں، جہاں انہیں ان کے والد اور ماموں نے ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت امریکہ سے پاکستان لا کر قتل کر دیا۔
پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا تو شک کی سوئی مقتولہ کے والد اور خاندان کے دیگر افراد پر گھوم گئی (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
بین الاقوامی توجہ اور والدہ کا موقف
پاکستان کے علاوہ اس مقدمے کو امریکہ اور عالمی سطح پر بھی کافی توجہ حاصل ہوئی تھی۔ تحقیقات کے دوران امریکی سفارت خانے کی ایک ٹیم نے کوئٹہ کا دورہ بھی کیا تھا اور قونصلر رسائی کے تحت مقتولہ کے والد سے ملاقات کی تھی، کیونکہ وہ خود بھی امریکی شہری ہیں۔
پولیس کے مطابق دوسری جانب امریکہ میں مقیم لڑکی کی والدہ نے پولیس کی مکرر درخواستوں کے باوجود اس کیس میں اپنا بیان قلمبند کرایا اور نہ ہی وہ پاکستان آئیں۔
پولیس حکام نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ والد کو اپنی بیٹی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں، رہن سہن اور طرزِ زندگی پر اعتراض تھا۔
پولیس کے مطابق انوار الحق قریباً تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم تھے جہاں وہ ٹیکسی چلاتے تھے۔ حرا انور وہیں امریکہ میں پیدا ہوئی تھیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق جنوری 2025 میں وہ اپنے والد کے ہمراہ امریکہ سے پاکستان کے شہر لاہور آئیں اور چند روز بعد کوئٹہ پہنچیں جہاں انہیں قتل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کو اس کے والد اور ماموں نے منصوبہ بندی کے تحت امریکہ سے پاکستان لا کر قتل کیا۔