یمن: بحیرۂ احمر میں بحری جہاز پر حوثیوں کا میزائلوں سے حملہ، چار ملاح جان سے گئے
یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ ’حوثیوں نے باب المندب سے گزرنے والے ایک مال بردار بحری جہاز ’تہامہ‘ پر چار میزائل فائر کیے۔‘
یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’صبا‘ کے مطابق اس حملے میں تین پاکستانی شہری اور انڈونیشیا کا ایک ملاح اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ دیگر افراد زخمی ہوئے۔
یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق ’میزائلوں کے حملے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور اسے شدید نقصان پہنچا۔‘
’جب امدادی اہلکار عملے کو بچانے کے لیے موقعے پر پہنچے تو حوثیوں نے جہاز پر ایک اور میزائل داغ دیا اور بظاہر امدادی کارروائیوں میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔‘
وزارتِ ٹرانسپورٹ نے حوثیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ ’وہ جان بوجھ کر اُن تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو حکومت کے زیرِ کنٹرول بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہیں۔‘
وزارت نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ ’اس طرح کے حملوں سے خوراک، روزمرہ استعمال کی اشیا اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔‘
’سمندری راستوں اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا نہ صرف یمنی عوام کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے بین الاقوامی بحری آمدورفت، عالمی تجارت اور خطے اور دنیا میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہوتی ہے۔‘
منگل کی سہ پہر تک حوثیوں نے باب المندب سے گزرنے والے بحری جہاز پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔
اس سے قبل پیر کو یمن کی مسلح افواج نے کہا تھا کہ ’حوثیوں کو المخا پر میزائل اور ڈرون حملے کا جواب دیا جائے گا جس میں سات افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے تھے۔‘
’بحیرۂ احمر کے بندرگاہی شہر میں اتوار کو اس کی یونٹس پر ہونے والے حملے کو وہ پوری مسلح افواج پر حملہ تصور کرتی ہے اور اسی بنیاد پر ایسے کسی بھی حملے سے نمٹا جائے گا۔‘
یمنی فوج کے مطابق ’حملے میں اس کے چار اہلکار اور تین عام شہری جان سے گئے تھے جبکہ زخمی ہونے والے 30 افراد میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’حوثیوں نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے شہری تنصیبات، گھروں، بجلی گھروں اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔‘
’یمنی فوج نے حملے میں شامل حوثیوں کے 11 ڈرونز کو راستے میں تباہ کر دیا اور آئندہ بھی حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرے گی۔‘
