Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’بہت گھبرائی ہوئی تھی‘، انڈین خاتون کا اکیلے افغانستان کا سفر، جنہیں طالبان نے چائے بھی پلائی

انکیتا کمار نے افغانستان کے مختلف علاقوں کی سیر کی (فوٹو: انسٹاگرام، انکیتا کمار)
افغانستان کا اکیلے دورہ کرنے والی انڈین خاتون اس وقت سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں ان کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔
ٹریبیون انڈیا کے مطابق ٹریولر انکیتا کمار نے 11 مئی سے 23 مئی کے ایام افغانستان کے مختلف علاقوں میں سفر کرتے اور لوگوں سے ملتے ہوئے گزارے۔
اس سے قبل بھی وہ افغانستان جانے کی چار بار کوشش کر چکی تھیں تاہم ہر بار ان کی ویزے کی درخواست مسترد ہوتی رہی۔
جس کے بعد انہوں نے تاجکستان کے راستے افغانستان میں داخل ہونے کا مںصوبہ بنایا اور کاغذی کارروائی پوری کی حیرت کی بات یہ ہے کہ جگہ جگہ طالبان کی چیک پوسٹس کے باوجود وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہیں۔
اپنے سفر کے دوران نہ صرف انہوں نے طالبان حکام کے ساتھ بات چیت کی بلکہ مختلف علاقوں میں ان افغان خواتین سے بھی ملیں جو آج بھی بے شمار پابندیوں کے نیچے زندگی گزار رہی ہیں۔
انکیتا کمار نے ٹریبیون انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ایک ٹرپ خاندان کے ایک بزرگ کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑا، دوسری بار میری فلائٹ کینسل ہوئی، تیسری اور چوتھی کوشش خطے میں پائی جانے والی کشیدگی اور فضائی حدود کی بندش کی نذر ہو گئی۔

چار کوششیں ناکام ہونے کے بعد انکیتا کمار نے تاجکسستان کے راستے جانے کا فیصلہ کیا (فوٹو: انسٹاگرام، انکیتا کمار)

’بعد میں مجھے اس وقت موقع ملا جب ویزے کی میعاد میں صرف 13 روز باقی تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ اس موقع کو کھونا نہیں چاہتی تھیں اس لیے فضائی راستے کے بجائے رمینی راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور تاجکستان پہنچی، جہاں سے افغانستان میں داخل ہونا تھا۔
ان کے مطابق ’میں پریشان تھی کہ اگر مجھے داخل نہ ہونے دیا گیا تو کیا ہو گا کیونکہ میں واپس تاجکستان میں بھی داخل نہیں ہو سکتی تھی۔‘
بہرحال وہ قندوز کے راستے افغانستان میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئیں، پھر کابل، بامیان، بندِ امیر، گھور، مینارت جام، ہیرات، قندھار اور مزار شریف سے ہوتی ہوئی آگے بڑھتی گئیں۔

انکیتا کمار کہتی ہیں ایک خاتون گائیڈ کی وساطت سے افغان خواتین سے ملاقات میں آسانی ہوئی (فوٹو: انسٹاگرام، انکیتا کمار)

سرحد کی دوسری محمد ان کا انتظار کر رہے تھے جو کہ ان کے گائیڈز میں سے ایک تھے اور جن سے ان کا پہلے سے رابطہ تھا اور پھر بیشتر سفر میں وہ ان کے ساتھ رہے۔
ان کے دوسرے گائیڈ میں نور اور نوید بھی شامل تھے جبکہ ہرات میں 23 سالہ فائقہ بھی ان کے گائیڈز میں شامل ہوئیں جن کی بدولت انہیں خواتین سے ملنے سے کافی مواقع ملے۔
انکیتا کمار کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ ایسے ملک کا سفر کر رہی تھیں جس کو دنیا بہت سے تنازعات اور بدامان کے تناظر میں دیکھتی ہے لیکن انہیں سفر کے دوران احساس ہوا ہی نہیں کہ وہ غیریقینی کے حالات سے دوچار ہیں۔

انکیتا کمار کے والدین کو پتہ نہیں تھا کہ وہ افغانستان گئی ہیں جہاں سے انہوں نے والدین کو یہ تصویر بھجوائی (فوٹو: انسٹاگرام، انکیتا کمار)

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا بہت خیال رکھا گیا اور شروع میں ہی احساس ہو گیا تھا کہ یہاں سب کچھ ٹھیک رہے گا۔‘
ان کے ذہن میں نقش ہو جانے والے واقعات میں سے ایک وہ تھا جو افغانستان میں داخل ہونے کے فوراً بعد پیش آیا۔
’میں دوپہر کا کھانا کھا رہی تھی کہ ایک شخص قریب آیا اور پوچھا کہ کہاں سے آئی ہیں، میں سمجھی وہ کوئی مسافر ہیں لیکن جیسے ہی میں نے کھانے کی تصویر لینے کے لیے کیمرہ نکالا تو وہ فوراً ایک طرف ہو گئے۔‘
ان کے بقول ’تب مجھے احساس ہوا کہ وہ طالبان کے رکن تھے، وہ اہلکار مشکوک ہونے سے زیادہ متجسس دکھائی دے رہا تھا وہ بار بار پوچھ رہا تھا کہ کیا کسی نے مجھ سے رشوت لی اور میں افغانستان میں اکیلے کیوں رہی ہوں۔‘

انکیتا کمار کہتی ہیں کہ کئی علاقوں میں طالبان حکام کے ساتھ ملاقات ہوئی (فوٹو: انسٹاگرام، انکیتا کمار)

ان کا کہنا تھا کہ بعدازاں دوسرے مراحل پر بھی ان کو طالبان ارکان ملتے رہے جنہوں نے ان کو چائے بھی پلائی۔
تاہم وہ کہتی ہیں کہ سب سے گہرا اثرا افغان خواتین کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا تھا۔
جن خواتین سے وہ ملیں ان میں گائیڈز، اساتذہ اور کاروباری خواتین شامل تھیں۔ ان میں سے ایک 21 سالہ خاتون بھی تھیں جو ایک آن لائن یونیورسٹی چلا رہی تھیں جہاں تقریباً 12 ہزار طالبات تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔
’وہاں کی خواتین کی شدید خواہش ہے کہ وہ بھی ایک خاص سے زیادہ تعلیم حاصل کریں، کام کرنا چاہتی ہیں اور گاڑی چلانا چاہتی ہیں۔‘

انکیتا کمار کہتی ہیں کہ ان پر سب سے گہرا اثرا افغان خواتین کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا ہے (فوٹو: انسٹاگرام، انکیتا کمار)

افغانستان کے سفر کے بارے میں انکیتا کے صرف بھائی کو معلوم تھا اور والدین کا خیال تھا کہ وہ صرف تاجکستان گئی ہیں۔
انسٹاگرام پر ان کی وہ تصویر بھی وائرل ہے جس میں انہوں نے ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے جس پر لکھا ہے ’ممی پاپا میں بالکل خیریت سے ہوں۔‘
وہ اپنا سفر مکمل کر کے واپس آ چکی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’ہر افغان خاتون کی اپنی الگ کہانی ہے، وہ ایسی زندگی گزار رہی ہیں جس کے بارے میں دنیا بہت کم جانتی ہے ہم ان کے ساتھ ہمدردی تو کر سکتے ہیں مگر یہ احساس نہیں کر سکتے کہ دراصل ان کی زندگی کیسی ہے۔’

شیئر: