Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں میڈیکل کا امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد سخت سکیورٹی میں دوبارہ ٹیسٹ

حکام کا کہنا ہے کہ 200,000 سے زیادہ اہل کار تعینات کیے گئے ہیں جن میں پولیس اہل کار بھی شامل ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا میں میڈیکل میں داخلہ لینے کے خواہش مند تقریباً 22 لاکھ طلبہ اتوار کے روز سخت سکیورٹی میں دوبارہ امتحان دے رہے ہیں، کیونکہ گزشتہ امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا، جس پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
اس انتہائی مسابقتی امتحان کے انعقاد میں ناکامی، اور ہائی سکول کے امتحانات میں غلط مارکنگ کے ایک الگ معاملے نے عوامی ردِعمل کو بھڑکا دیا اور نوجوانوں کے احتجاج کو ہوا دی، جنہوں نے وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ 200,000 سے زیادہ اہل کار تعینات کیے گئے ہیں جن میں پولیس اہل کار بھی شامل ہیں اور میسجنگ ایپ ٹیلیگرام پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے مطابق ایک ’کثیر سطحی سکیورٹی نظام‘ نافذ کیا گیا ہے تاکہ امتحانی عمل کو منصفانہ اور شفاف بنایا جا سکے۔
اس میں بایومیٹرک تصدیق، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کیمروں کے ذریعے نگرانی، اور سوالیہ پرچوں کی جی پی ایس ٹریکنگ بھی شامل ہے۔ امتحان مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے شروع ہو گا ۔
نیشنل ایلیجیبلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) ہر سال لاکھوں امیدوار دیتے ہیں جو انڈیا کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کا ذریعہ ہے، جبکہ انڈرگریجویٹ نشستیں صرف ایک لاکھ سے کچھ زائد ہیں۔
شدید مقابلے نے ایک بڑی کوچنگ انڈسٹری کو جنم دیا ہے اور ساتھ ہی ایسے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے لیے مواقع پیدا کیے ہیں جو پرچے لیک کرنے اور امتحانی دھوکہ دہی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
گزشتہ ماہ امتحانی پرچہ لیک ہونے کے باعث امتحان کی منسوخی نے طلبہ اور والدین میں شدید ردِعمل پیدا کیا، جبکہ انڈین میڈیا نے بعض نوجوانوں کی خودکشیوں کی بھی اطلاع دی۔

عوامی غصے اور ردِعمل نے طنزیہ ’کاکروچ پیپلز پارٹی‘کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا ہے (فوٹو: ای پی اے)

انڈیا کے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے اس لیک کے مبینہ سرغنہ کو گرفتار کر لیا ہے، جس کی شناخت کیمسٹری کے ایک لیکچرر کے طور پر کی گئی ہے۔
این ٹی اے کا کہنا ہے کہ میسجنگ ایپس کو ’نقل مافیا‘ نے امیدواروں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا، جہاں لیک شدہ سوالات شیئر کیے گئے۔
ٹیلیگرام کے سربراہ پاویل دوروف نے کہا کہ ایک ہفتے کی پابندی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، ان کے مطابق ’لیک صرف دوسری ایپس پر منتقل ہو گئی ہے‘ اور اصل مسئلہ ’وہ لوگ ہیں جو امتحانی مواد لیک کرتے ہیں۔‘
یہ تنازع ایک اور مسئلے کے بعد سامنے آیا، جس میں تقریباً 20 لاکھ ہائی سکول طلبہ کے آن لائن مارکنگ سسٹم پر اعتراضات کیے گئے، جہاں بہت سے طلبہ نے غلط نمبروں یا اپنے نتائج میں رَد و بدل کی شکایت کی۔
عوامی غصے نے طنزیہ ’کاکروچ پیپلز پارٹی‘کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مئی میں آغاز کے بعد لاکھوں حامی حاصل کر لیے ہیں اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر: