Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے سربراہ احتجاج کے لیے نئی دہلی روانہ، ’اپنی قسمت آئینِ ہند کے سپرد کر رہا ہوں‘

انڈیا کی طنزیہ آن لائن تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی نے کہا ہے کہ وہ جمعہ کے روز امریکہ سے واپس نئی دہلی روانہ ہو رہے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس مہم کو سڑکوں تک لے جایا جا سکے۔
30  سالہ ابھیجیت دیپکے، جو بوسٹن یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں اور اس آن لائن تحریک کے بانی ہیں، نے کہا کہ وہ امریکہ سے واپس آ رہے ہیں تاکہ ہفتے کے روز وزیرِ تعلیم کے خلاف پرامن احتجاج کے لیے پولیس سے اجازت حاصل کر سکیں۔
طنزیہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا نام وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) سے مشابہت رکھتا ہے۔ گزشتہ ماہ سے اس جماعت نے سوشل میڈیا پر لاکھوں مداح حاصل کر لیے ہیں۔
سی جے پی  اُس وقت قائم کی گئی جب انڈیا کے چیف جسٹس سوریا کانت نے مبینہ طور پر ایک عدالتی سماعت کے دوران حکومت پر تنقید کرنے والے نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ اور ’طفیلیے‘ قرار دیا۔ بعد میں کانت نے کہا کہ ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
سیاسی ابلاغ کے ماہر دیپکے، جو پہلے اپوزیشن جماعت عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام کر چکے ہیں، نے 16 مئی کو یہ فرضی جماعت آن لائن قائم کی۔
اس جماعت کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس کا نعرہ ہے کہ ’نوجوانوں کے لیے، نوجوانوں کے ذریعے، نوجوانوں کا سیاسی محاذ۔‘

زبردست عوامی ردعمل

دیپکے نے وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، جنہیں کئی اہم امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تنقید کا سامنا ہے۔
جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  پر ایک پوسٹ میں دیپکے نے لکھا کہ ’انڈیا روانہ ہو رہا ہوں... اپنی قسمت آئینِ ہند کے سپرد کر رہا ہوں۔‘
لداخ سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک، جنہیں گزشتہ سال ستمبر میں خودمختاری کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے بعد گرفتار کر کے چھ ماہ تک حراست میں رکھا گیا تھا، نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس احتجاج میں شریک ہوں گے۔
انڈیا میں سوشل میڈیا مواد پر سخت ضوابط نافذ ہیں، اور سی جے پی کے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک بھی کیے جا چکے ہیں۔
تاہم، پارٹی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اب بھی انڈیا میں دستیاب ہے اور اس کے 2 کروڑ 20 لاکھ (22 ملین) سے زیادہ فالوورز ہیں، جو بی جے پی کے تقریباً 90 لاکھ (9 ملین) اور اپوزیشن کانگریس پارٹی کے ایک کروڑ 30 لاکھ (13 ملین) فالوورز سے کہیں زیادہ ہیں۔
دیپکے نے پہلے اپنے حامیوں سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے استقبال کے لیے ہوائی اڈے پر جمع نہ ہوں۔
جمعرات کو  ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’دھرمندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے لیے دہلی ایئرپورٹ پر ہمارے ساتھ شامل ہونے والوں کا ردعمل ہماری توقعات سے کہیں زیادہ تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا ایئرپورٹ پر جمع ہونا ممکن نہیں، کیونکہ اس سے عوام اور سکیورٹی اداروں کو مشکلات پیش آئیں گی۔‘
دیپکے نے کہا کہ وہ نئی دہلی پہنچتے ہی براہِ راست پولیس سے ملاقات کریں گے تاکہ ہفتے کے روز ہونے والے پرامن احتجاج کی اجازت حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم قانون کا احترام کرنے والے شہری ہیں اور ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ لہٰذا اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کوئی بھی شخص کسی قسم کی بدامنی پیدا نہ کرے۔‘

شیئر: