انڈیا میں ’کاکروچ پارٹی‘ کا انوکھا احتجاج، برتن بجا کر وزیرِ تعلیم سے استعفے کا مطالبہ
طلبہ کی اس نوخیز تحریک کے احتجاج نے وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
انڈیا میں امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں اور پیپرز لیک ہونے کے خلاف ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے سینکڑوں نوجوان حامیوں نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب سٹیل کی تھالیاں اور چمچ بجا کر شدید احتجاج کیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملک کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
نوجوانوں اور طلبہ کی اس نوخیز تحریک کے احتجاج نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
نئی دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس نے ڈرون کیمروں کے ذریعے مظاہرین کی نگرانی کی۔
احتجاج کے دوران برتن بجانے کا یہ انداز دراصل 2020 میں کورونا وبا کے دوران نریندر مودی کی اس اپیل کا طنزیہ جواب تھا جس میں انہوں نے شہریوں سے ہیلتھ ورکرز کی حوصلہ افزائی کے لیے بالکونیوں میں کھڑے ہو کر برتن بجانے کو کہا تھا۔
’کاکروچ پارٹی‘ کے بانی اور بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر حامیوں سے تھالیاں لانے کی اپیل کی تھی۔
انہوں نے مجمعے سے خطاب میں کہا ’دھرمیندر پردھان نامی وائرس کو ہٹانا ضروری ہے۔‘ ایک اور طالب علم وکی کمار کا کہنا تھا ’ہم سالہا سال غربت میں رہ کر پڑھتے ہیں اور پھر پیپر لیک ہو جاتا ہے، ہمیں غصہ کیوں نہ آئے؟‘
یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ ماہ میڈیکل کے داخلہ امتحان کا پرچہ ٹیلی گرام پر لیک ہونے کے بعد حکومت نے امتحان ملتوی کر کے ایپ پر عارضی پابندی لگا دی تھی۔
کاکروچ پارٹی کیا ہے؟
یہ تحریک رواں سال مئی میں اس وقت شروع ہوئی جب سپریم کورٹ کے ایک جج نے مبینہ طور پر بے روزگار نوجوانوں کا موازنہ ’کاکروچوں‘ سے کیا۔ نوجوانوں نے غصے کا اظہار کرنے کے بجائے اس نام کو اپنی بقاء اور سخت کوشی کی علامت بنا لیا۔
اب انسٹاگرام پر ان کے 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔
یہ تحریک سوشل میڈیا پر مزاح اور طنز کے ذریعے بے روزگاری، مہنگائی اور حکومتی احتساب جیسے سنگین مسائل اٹھا رہی ہے۔
