Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی سرگرمیوں کو خلاف قانون قرار دینے کیلئے انڈین سپریم کورٹ میں درخواست دائر

درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس تنظیم نے سپریم کورٹ کے زبانی ریمارکس کا غلط استعمال اور تجارتی استحصال کیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا میں راتوں رات سوشل میڈیا پر شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی طنزیہ تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ سے جڑے تنازعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور اتوار کو یہ معاملہ انڈیا کے سپریم کورٹ میں پہنچ گیا۔
انڈیا کے خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق انڈیا کی  سپریم کورٹ میں ایک عوامی مفاد کی درخواست (پبلک انٹرسٹ لیٹیگیشن) دائر کی گئی ہے جس میں خود ساختہ تنظیم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی سرگرمیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس تنظیم نے سپریم کورٹ کے زبانی ریمارکس کا غلط استعمال اور تجارتی استحصال کیا ہے۔
درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ قانونی شعبے میں موجود مبینہ ’جعلی وکلا‘ اور ان کی جعلی ڈگریوں سے متعلق الزامات کی آزادانہ ترجیحاً سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’ایسی تنظیموں اور علامتی مہمات کا ابھرنا، جو مبینہ طور پر عدالتی کارروائی کے دوران دیے گئے ریمارکس کو تشہیر، تجارتی استعمال، کاروباری سرگرمیوں اور ڈیجیٹل تحرک سازی کے لیے استعمال کر رہی ہیں، آئینی کارروائیوں کی خطرناک حد تک تجارتی حیثیت اختیار کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔‘
خیال رہے ’کاکروچ سیاسی پارٹی‘ گزشتہ ہفتے اس وقت سامنے آیا تھا جب انڈین چیف جسٹس سوریہ کانت نے عدالتی کارروائی کے دوران ریمارکس میں مبینہ طور پر بے روزگار نوجوانوں کے لیے ’کاکروچ‘ اور ’پیرا سائٹس‘ جیسے الفاظ استعمال کیے تھے۔ بعد میں چیف جسٹس نے وضاحت کی تھی کہ ان کے ریمارکس جعلی ڈگریوں کے ذریعے پیشوں میں داخل ہونے والوں کے حوالے سے تھے، نہ کہ عام نوجوانوں کے لیے۔
گذشتہ روز کاکروچ پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے پارٹی کی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بند کر دیا ہے۔
ابھیجیت ڈپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ ان کی ویب سائٹ cockroachjantaparty.org بند کر دی گئی ہے، اور یہ اقدام ان کے بقول اس تحریک کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ’حکومت نے ہماری مشہور ویب سائٹ بند کر دی ہے۔ 10 لاکھ کاکروچز نے ہماری ویب سائٹ پر رجسٹریشن کیا تھا، جبکہ 6 لاکھ کاکروچز نے دھرمندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر دستخط کیے تھے۔‘
 

شیئر: