Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سوئٹزرلینڈ میں امریکہ، ایران مذاکرات، جے ڈی وینس کو تعلقات میں نئے باب کی امید، پاکستان اور قطر ثالث

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کے روز سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کے آغاز پر امید ظاہر کی کہ واشنگٹن اور تہران اپنے تعلقات کو دوبارہ بہتر بنا سکتے ہیں، اور اسے انہوں نے ’تاریخی مذاکرات قرار دیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تاہم اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک آن لائن پوسٹ میں ایران کو دھمکی دی کہ اگر اس نے لبنان میں اپنے ’پراکسیز کو فوری طور پر نہ روکا تو اس پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔
جے ڈی وینس، جو امریکی مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف کے ہمراہ ہیں، جھیل لوسرن کے کنارے واقع برگن اٹاک مین ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
جے ڈی وینس نے مذاکراتی کمرے میں کہا کہ ’یہ ایک تاریخی ملاقات ہے۔‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’اب سوال یہ ہے کہ ہم کتنا آگے جا سکتے ہیں؟ کیا ہم ایک نیا باب شروع کر سکتے ہیں؟ کیا ہم مشرقِ وسطیٰ میں تعلقات کو مستقل طور پر تبدیل کر سکتے ہیں؟ یا ہم پرانے طریقوں کی طرف واپس جائیں گے، جو ہماری ترجیح نہیں لیکن ممکن ہے۔‘
ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے تہران کی نمائندگی کی۔
یہ مذاکرات پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔
مذاکرات کی میز یو  شکل میں ترتیب دی گئی ہے، جس کے ایک طرف قطر اور امریکہ جبکہ دوسری طرف پاکستان اور ایران موجود ہیں، ہر فریق کے تین نشستیں ہیں۔
پاکستان اور قطر کی بھی ایک ایک نشست درمیان میں، میز کے سربراہ حصے میں رکھی گئی ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ’ایران کے عوام کے ساتھ تعلقات میں نیا باب شروع کرنا چاہتے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ’ایران کی قیادت علاقائی عدم استحکام کے کردار کو چھوڑ دے، اور طویل مدتی طور پر جوہری ہتھیاروں کے عزائم ترک کرے، تو امریکہ اپنے تعلقات کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
تاہم اسی دوران ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کو لبنان میں حزب اللہ کو قابو میں رکھنا ہوگا، ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم ایران پر دوبارہ بہت سخت حملہ کریں گے، بالکل اسی طرح جیسے پچھلے ہفتے کیا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت۔‘
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے مذاکرات کے آغاز پر پر گفتگو کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ ’امید ہے کہ ہم بہت مفید بات چیت کریں گے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب ہم واپس جائیں گے تو ہمارے ہاتھ میں ایسا دستاویز ہوگا جو دنیا بھر میں امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دے گا۔‘
ایرانی وفد نے صحافیوں سے بات نہیں کی اور نہ ہی عباس عراقچی نے وینس اور دونوں ثالث وزرائے اعظم کے ساتھ مشترکہ تصویر بنوائی۔

شیئر: