Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سوئٹزرلینڈ میں امریکہ، ایران مذاکرات شروع، پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی شریک

ایران اور امریکہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔
 خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قطر کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ ’لیک لوسرن سمٹ اور اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے پہلے اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں امریکہ، ایران اور دونوں ثالث ممالک، ریاستِ قطر اور پاکستان کے نمائندے شریک ہیں۔‘
گیس سے مالا مال خلیجی ریاست قطر نے امید ظاہر کی کہ یہ ملاقاتیں ’ایک ایسے جامع اور دیرپا معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوں گی جو مفاہمتی یادداشت میں شامل تمام امور کا احاطہ کرے۔‘
بیان میں جس مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ اسی ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ہے۔
خیال رہے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے اہم ثالث پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کی۔ 
پاکستانی وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق  وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے بعد ہونے والے امریکہ-ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات سے پہلے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی۔  
یہ ملاقات امریکہ-ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات کے موقع پر سائیڈ لائنز میں ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔  وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ایرانی وفد سے بھی ملاقات کی، جس کی قیادت ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے۔

لبنان میں جنگ بندی اور منجمد اثاثوں پر بات چیت جاری

دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ایران، قطر اور امریکہ کے وفود سوئٹزرلینڈ میں ایک اجلاس میں شریک ہیں جس کا مقصد لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں پر بات چیت کرنا ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق: ’ایران، امریکہ اور قطر پر مشتمل ایک سہ فریقی اجلاس اس وقت مذاکراتی مقام پر جاری ہے، جس میں لبنان میں جامع جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کے موضوعات زیر بحث ہیں۔‘
ایران نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازعہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ ’صہیونی حکومت لبنان میں اپنی ذمہ داریوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، یہ معاملہ آج کی بات چیت کا مرکزی موضوع ہوگا۔‘
تہران نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ اس نے واشنگٹن کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد 28 فروری سے شروع ہونے والی کئی ماہ کی کشیدگی کو ختم کرنا ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہوئی تھی۔
ایران کی فوج نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔
تاہم ہفتے کی شام کے بعد لبنان میں کسی نئے حملے کی اطلاع نہیں ملی، اور اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہفتے کے بعد سے ’لبنان میں ایک نازک جنگ بندی قائم ہو گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے منجمد اور غیر قابلِ رسائی فنڈز کا معاملہ بھی مذاکرات میں اٹھائے گا۔ 

شیئر: