سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کی میز سج گئی ہے، جہاں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور ایرانی حکام کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی پہنچ چکے ہیں۔
مذاکرات کے آغاز سے قبل شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے نائب امریکی صدر اور ایران کے ٹاپ مذاکرات کار باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد سے الگ الگ ملاقاتیں کی۔
پاکستانی وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے بعد ہونے والے امریکہ-ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات سے پہلے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی۔
مزید پڑھیں
یہ ملاقات امریکہ-ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات کے موقع پر سائیڈ لائنز میں ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ایرانی وفد سے بھی ملاقات کی، جس کی قیادت ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے۔
مذاکرات تھوڑی دیر میں شروع ہونے کا امکان ہے اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کا مرکزی نکتہ آبنائے ہرمز ہو گا کیونکہ ایران نے سنیچر کو اسے پھر سے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم دوسری جانب امریکہ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبی گزر گاہ کھلی ہوئی ہے اور جہاز آ جا رہے ہیں۔
یہ نئی صورت حال ان مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے جن میں دونوں ممالک اس عبوری معاہدے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں جو کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پایا ہے اور اب اس پر مزید بات چیت برگن سٹاک میں ہو رہی ہے۔
اس پر بدھ کو امریکہ اور ایران کے صدور نے دستخط کیے تھے اور اس کا مقصد چار ماہ سے جاری جنگ کا مکمل خاتمہ ہے۔
تاہم یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران کی جانب سے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس معاہدے کے نتیجے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان تقریباً چار ماہ سے جاری کشیدگی اور لڑائی کا خاتمہ ہوا جبکہ اس کی بدولت مزید معاملات کو سفارت کاری سے حل کرنے کے لیے 60 دن کی مہلت بھی ملی۔
اسی طرح پاسداران انقلاب کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طرف جانے والے جہازوں کو خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ سنیچر کو 55 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جن پر ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد بیرل تیل لوڈ تھا۔
آبی گزرگاہ پر ایک بار پھر تنازع
مذاکرات سے قبل کشیدگی میں اضافہ اس وقت سامنے آیا جب ایران کے فوجی حکام اور پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔
سنیچر کے روز عارضی معاہدے کو دھچکا اس وقت لگا جب ایران نے اسرائیل کے حملوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا۔

اس کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اگرچہ اس کے مذاکرات سوئٹزرلینڈ جا رہے ہیں لیکن وہاں کسی پیش رفت کا زیادہ امکان نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سب سے پہلے ایران کی مشترکہ عسکری کمان نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز بند کر دی گئی۔ بیان میں اسرائیلی حملوں اور امریکہ کی ’بد نیتی‘ اور ’واضح طور پر معاہدے کی خلاف ورزی‘ کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا گیا۔
سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر جارحیت جاری رہی تو مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

اس کے کچھ دیر بعد سرکاری نشریاتی ادارے نے اعلان کیا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم ’کچھ ہی دیر میں‘ سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہی ہے، یہ وہ دورہ ہے جو اصل میں جمعہ کو ہونا تھا۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اپریل کے دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی کی تھی جبکہ اس کے بعد طے شدہ مذاکرات کا اگلا دور نہیں ہو پایا تھا۔
علاوہ ازیں پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے سنیچر کو بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔












