امریکہ، ایران معاہدہ جنگ کے حقیقی فاتح اور شکست خوردہ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018 میں امریکہ کو ایران کے جوہری معاہدے سے نکال لیا تھا تو سابق امریکی صدر باراک اوباما، جنہوں نے مشترکہ جامع منصوبۂ عمل تشکیل دیا تھا، نے خبردار کیا تھا کہ ایسا کرنا ’ایران کی جانب سے معاہدے کی کسی خلاف ورزی کے بغیر ایک سنگین غلطی ہے۔‘
اوباما نے مزید کہا تھا کہ امریکہ بالآخر ’جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران یا مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ‘ کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
عرب نیوز کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق آٹھ سال بعد وہ پیش گوئی حقیقت بن چکی ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ اچانک حملے سے شروع ہونے والی جنگ لڑی جا چکی ہے اور کم از کم عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
تاہم جمعرات کو امریکہ اور ایران کے درمیان 1050 الفاظ پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (MoU) کے منظر عام پر آنے کے بعد متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ امریکہ کی سٹریٹجک شکست پر ختم ہوئی ہے، جبکہ ایران اور اس کے جوہری عزائم پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں آ گئے ہیں۔
برطانیہ کے سابق سفیر سر جان جینکنز کے مطابق ’بظاہر یہ ایران کے علاوہ سب کے لیے ایک برا معاہدہ ہے۔‘
ان کے مطابق خلیجی ممالک کے لیے بھی یہ ایک تشویش کا باعث ہے کہ اگر امریکہ ان کے قومی مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتا تو پھر کون کرے گا؟
برطانیہ کے سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز کے پروفیسر ارشین ادیب مقدم کے مطابق ’یہ ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں کی بڑی سٹریٹجک شکست ہے کیونکہ وہ اپنے کسی بھی اعلان کردہ مقصد کو حاصل نہیں کر سکے۔‘
ان کے بقول اب ایران لبنان اور فلسطین میں پہلے سے کہیں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر چکا ہے۔
خلیجی ممالک کا ردعمل اور ایران کو معاشی فوائد
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، جو جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے متاثر ہوئے، نے اس معاہدے کی سفارتی حمایت کی ہے۔
سعودی کابینہ نے امید ظاہر کی کہ امن کا ایسا نظام قائم ہوگا جو علاقائی اور عالمی سلامتی کو مضبوط بنائے اور خطے کے ممالک کے سلامتی مفادات کا احترام کرے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پابندی پر زور دیا۔
سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی نے کہا کہ یہ جنگ خطے کے پرانے سکیورٹی نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے اور اب ایک نئے علاقائی نظام کی ضرورت ہے جو اجتماعی سلامتی پر مبنی ہو، پابندیوں کے خاتمے اور سیاسی حل کو ترجیح دے، اقتصادی تعاون کو فروغ دے، ترقی اور سلامتی کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا سمجھے۔
انہوں نے کہا کہ ایران سعودی عرب سمیت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے تیار ہے۔
معاہدے کے مطابق امریکہ خلیجی ممالک کو ایرانی حملوں کے نقصانات کی تلافی کرانے کا پابند نہیں ہے، لیکن وہ ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے پر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ کام کرے گا۔
امریکی محکمہ خزانہ ایران کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے کی اجازت دینے کے لیے پابندیوں میں نرمی کرے گا۔
اس کے علاوہ ایران کے منجمد اثاثوں اور فنڈز تک رسائی بھی بحال کی جائے گی۔
کیا جنگ کے بعد سب کچھ پہلے جیسا ہو گیا؟
فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ سمیت 34 ممالک نے اس معاہدے کو سفارتی کامیابی قرار دیا۔
تاہم متعدد ماہرین کے مطابق یہ دراصل ایک بہت مہنگی قیمت ادا کرنے کے بعد جنگ سے پہلے والی صورت حال کی طرف واپسی ہے۔
یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر کرسچین ایمری کے مطابق ’ٹرمپ اپنے کسی بھی جنگی مقصد کو حاصل نہیں کر سکے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایران کی حکومت، جو اندرونی احتجاج کے باعث دباؤ میں دکھائی دیتی تھی، اب خود کو زیادہ مضبوط محسوس کر رہی ہے۔
جنگ سے پہلے امریکہ اور اسرائیل کا مطالبہ تھا کہ ’ ایران اپنے علاقائی اتحادی گروہوں کی حمایت بند کرے، اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر سخت پابندیاں قبول کرے۔‘
لیکن اب یہ دونوں مطالبات مفاہمتی یادداشت سے غائب ہیں۔
کیلیفورنیا سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ابراہیم المراشی کے مطابق’یہ جنگ ایک ایسی خلیجی خانہ جنگی میں بدل گئی جس کے اثرات کئی سال بلکہ کئی دہائیوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اس جنگ سے صرف ایک بات ثابت ہوئی کہ ’ایران دنیا کی سب سے طاقتور جنگی مشین کو اپنے گرد و نواح میں عدم استحکام پیدا کر کے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
آبنائے ہرمز اور امریکہ کی پسپائی
معاہدے کے مطابق امریکہ ایران پر بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، حتمی معاہدے کے 30 دن بعد اپنی فوجی موجودگی ایران کے قریب علاقوں سے کم یا ختم کرے گا۔
اس کے بدلے ایران صرف یہ وعدہ کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال ہوگی۔
تاہم یہ انتظام صرف 60 دن کے لیے واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔
معاہدے میں یہ بھی درج ہے کہ ایران عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامات پر بات کرے گا۔
سر جان جینکنز کے مطابق ’اگر ایران آبنائے ہرمز پر عملی کنٹرول حاصل کر لیتا ہے تو یہ اس کے لیے مالی فائدے اور مستقبل میں دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔‘
سوفان سینٹر کی ماہر کیرولین روز کا کہنا ہے کہ ’جنگ نے آبنائے ہرمز کی جغرافیائی سیاسی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔‘
ان کے مطابق ممکن ہے کہ جہاز رانی کبھی بھی جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس نہ آ سکے کیونکہ کمپنیاں متبادل راستے تلاش کر رہی ہیں۔
ایران کا جوہری پروگرام: سب سے حیران کن پہلو
2018 میں ٹرمپ نے ایران کے جوہری معاہدے کو ’یک طرفہ اور خوفناک معاہدہ‘ قرار دے کر ختم کر دیا تھا۔
لیکن نئے معاہدے کے تحت امریکہ ایران پر تمام اقسام کی پابندیاں ختم کرے گا، جبکہ ایران صرف یہ عہد کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا۔
یہ تقریباً وہی صورتحال ہے جو JCPOA کے تحت پہلے سے موجود تھی۔
جون 2025 میں امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جوہری صلاحیت ’تباہ‘ کر دی گئی ہے۔
تاہم نئی مفاہمتی یادداشت اس بات کو تسلیم کرتی دکھائی دیتی ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، افزودہ یورینیم کا ذخیرہ اب بھی موجود ہے، معاہدے میں دونوں ممالک نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مستقبل پر بات چیت پر اتفاق کیا ہے۔
فی الحال ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ حالت برقرار رکھے گا جبکہ امریکہ نئی پابندیاں نہیں لگائے گا اور خطے میں اضافی فوجی دستے بھی نہیں بھیجے گا۔