قطر کی گیس فیکٹری میں دھماکے سے 54 افراد زخمی، 18 تاحال لاپتہ
قطری وزارت داخلہ کے مطابق واقعہ اتوار کو صنعتی ہر راس لافان کی فیکٹری میں پیش آیا (فوٹو: روئٹرز)
قطر کی ایک گیس فیکٹری میں دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 54 افراد زخمی اور 18 لاپتہ ہو گئے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق واقعہ اتوار کی رات کو اس فیکٹری میں پیش آیا جس میں قدرتی گیس کا برآمدی ٹرمینل بھی موجود تھا اور اس کو ایران کی جانب سے حملے کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔
واقعہ راس لافن کے علاقے میں قائم برزام گیس پلانٹ میں پیش آیا۔
حکام کی جانب سے واقعے کو ایک ’تکنیکی حادثہ‘ قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ واقعہ تب پیش آیا جب ایک تنصیب کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا۔
قطر دنیا کے بڑے مائع گیس برآمدکنندگان میں شامل ہے اس لیے اس واقعے نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
قطر نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کے بعد گیس کی پیداوار بند کر دی تھی کیونکہ آبی گزرگاہ کی بندش سے وہ صارفین تک اپنی کھیپیں نہیں پہنچا سکتا تھا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے بعد آبنائے ہرمز پر ایران نے گرفت نرم کی جس کے بعد قطر نے اپنے برآمدی ٹرمینل کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش تاہم اتوار کی رات اسی بحالی کے کام کے دوران دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔
سرکاری کمپنی قطر انرجی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے یہ برزان گیس پلانٹ پر پیش آیا۔
دھماکے کی وجہ سے ہونے والا نقصان اصل نوعیت اور حجم کے حوالے سے تاحال معلوم نہیں ہو سکا ہے۔
حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ صرف چند افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن کئی گھنٹے بعد قطر کی وزارت داخلہ نے جو اعداد و شمار جاری کیے وہ اس سے کہیں زیادہ تھے۔
قطر قریباً اس پورے پلانٹ کی ملکیت رکھتا ہے جس میں کچھ چھوٹا حصہ ایکسون موبیل کمپنی کا بھی ہے، جس سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم اس کی جانب سے ردعمل نہیں دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مارچ کے دوران راس لافان کو ایک ایرانی میزائل نے نشانہ بنایا تھا، جس سے آگ بھڑک اٹھی تھی اور اسے کافی نقصان پہنچا تھا جبکہ ایران ایرانی حملوں کی وجہ سے پہلے ہی اپنی پیداوار روک چکا تھا۔
قطر خلیج عرب میں واقع وسیع سمندری گیس کی دولت سے مالامال ہے اور اس کی بدولت ہی وہ خوشحال ممالک میں شامل ہوا ہے۔
اس نے اس سے حاصل ہونے والی رقم سے 2022 میں فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کی جبکہ الجزیرہ نیوز نیٹ بنایا۔ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات سمیت کئی مواقع پر بین الاقوامی ثالث کے طور پر کردار ادا کیا۔