Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل فلائی دبئی کا طیارہ مار گرانے کے لیے تیار تھا: سی بی ایس

رپورٹ کے مطابق دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آ گئی تھی (فوٹو: روئٹرز)
اسرائیل فلائی دبئی کے ایک مسافر طیارے کو مار گرانے کی تیاری کر چکا تھا  جس میں 150 سے زائد اسرائیلی سوار تھے، جس کا مقصد سینکڑوں ممکنہ ہلاکتوں کو روکنا تھا۔
عرب نیوز نے سی بی ایس نیوز کی پیر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے حوالے سے لکھا کہ اسرائیل کے پاس 11 ستمبر 2001 جیسے ممکنہ حملوں سے نمٹنے کے لیے ایک دیرینہ طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت اگر کوئی مسافر طیارہ قابو سے باہر ہو کر ملک کے کسی اہم ہدف کی جانب بڑھ رہا ہو تو اسے مار گرایا جا سکتا ہے تاکہ بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
رپورٹ میں دو اسرائیلی ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے جو اس واقعے سے آگاہ تھے۔ ذرائع کے مطابق ایسے کسی فیصلے کی حتمی منظوری وزیراعظم کو دینی ہوتی ہے اور اسے سینکڑوں ممکنہ ہلاکتوں کو روکنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
سی بی ایس کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ’اگر کوئی بے قابو طیارہ اسرائیل کی مشہور عمارتوں، ہوائی اڈے یا کسی دوسرے اہم ہدف سے ٹکرا جاتا تو سینکڑوں افراد کی جانیں جا سکتی تھیں، اس لیے مسافر طیارے کو مار گرانا نسبتاً بہتر آپشن سمجھا جاتا۔‘
رپورٹ کے مطابق دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آ گئی جب مبینہ طور پر معاون پائلٹ (کو پائلٹ) نے کاک پٹ میں کپتان پر چاقو سے حملہ کیا اور جہاز کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔
کاک پٹ سے رابطہ منقطع ہونے پر اسرائیل نے فوری طور پر لڑاکا طیارے روانہ کیے اور اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔
بعد میں جب مسافر طیارے نے سعودی عرب کی جانب رخ موڑ لیا تو اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو واپس بلا لیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنے جنگی طیارے فضا میں بھیجے۔
رپورٹ کے مطابق کپتان اور بعض مسافروں نے بالآخر کو پائلٹ کو قابو میں کر لیا، جس کے بعد طیارے نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی۔

 

شیئر: