انڈونیشیا میں آن لائن جُوئے کا نیٹ ورک، انڈیا کے 35 شہریوں کو عدالت سے سزا
انڈونیشیا میں آن لائن جُوئے کا نیٹ ورک، انڈیا کے 35 شہریوں کو عدالت سے سزا
بدھ 7 اکتوبر 2026 17:08
پولیس نے فروری میں بالی کے دو مختلف مقامات پر واقع دو وِلاز سے 39 انڈین شہریوں کو گرفتار کیا تھا (فائل فوٹو: اے پی)
انڈونیشیا کی ایک عدالت نے بدھ کو تفریحی سرگرمیوں کے لیے مشہور جزیرے بالی میں آن لائن جوئے کے ایک نیٹ ورک میں ملوث درجنوں انڈین شہریوں کو قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
مسلم اکثریتی اِس ملک میں جُوا غیر قانونی ہے اور جوئے کے اڈے چلانے والوں، جوئے سے متعلق مواد کی آن لائن تشہیر کرنے والوں اور خود جواریوں کے لیے بھی سزائیں مقرر ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق، پولیس نے فروری میں بالی کے دو مختلف مقامات پر واقع دو وِلاز سے 39 انڈین شہریوں کو گرفتار کیا تھا، جن میں سے 35 کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ افراد سیاحتی ویزوں پر انڈونیشیا پہنچے تھے اور گذشتہ سال کے اوآخر سے آن لائن جوئے کی ایک ویب سائٹ کی تشہیر اور اس کے مالی لین دین کی نگرانی کر رہے تھے۔
بدھ کو ہونے والی سماعت میں مقدمے کی صدارت کرنے والے جج پوتو گڈے نوویارتھا نے ملزموں کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ان میں سے بیشتر کو دو، دو سال قید کی سزا سنائی، جبکہ دو ملزموں کو ڈھائی، ڈھائی سال قید کی سزا دی گئی۔
جج نے یہ حکم بھی دیا کہ سزا پوری کرنے کے بعد ملزموں کو ملک بدر کر دیا جائے گا اور سزا مکمل ہونے کے بعد انہیں جمہوریہ انڈونیشیا کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
پولیس کے مطابق اس آن لائن جوئے کے کاروبار سے ماہانہ آٹھ ارب انڈونیشین روپے یعنی تقریباً چار لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر تک آمدنی حاصل ہوتی تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال انڈونیشیا میں آن لائن جوئے سے منسلک لین دین کا حجم 280 ٹریلین انڈونیشین روپوں سے تجاوز کر گیا۔ اندازہ ہے کہ 28 کروڑ 70 لاکھ آبادی والے اس ملک میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ افراد اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہیں، جن میں اکثریت جوئے پر رقم لگانے والوں کی ہے۔
سزا پانے والے یہ تمام افراد سیاحتی ویزوں پر انڈونیشیا پہنچے تھے (فوٹو: نیو سٹریٹ ٹائمز)
حکام نے مئی میں کہا تھا کہ غیر ملکیوں کی جانب سے غیر قانونی جوئے اور فراڈ کے مراکز چلانے کے الزام میں گرفتاریوں کے بعد جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے شہریوں کے لیے بغیر ویزا داخلے کی پالیسی کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔
تفتیش کاروں کو معلوم ہوا ہے کہ جکارتہ میں ایک مبینہ غیر قانونی جوئے کے مرکز سے وابستہ بہت سے افراد ویزوں میں استثنا کی وجہ سے انڈونیشیا داخل ہوئے تھے یا انہوں نے پھر اپنی آمد پر داخلے کے پرمٹ کے لیے درخواست دی تھی۔