امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے ابتدائی فوائد سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ برگن سٹاک میں بات چیت حملوں کے باعث تاخیر کا شکار ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کو تقریباً ناکام ہی بنا دیا تھا۔
العریبیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ فریقین کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی بات چیت شروع ہو چکی ہے جس کا مقصد حال ہی میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کرانا ہے۔
ان کے مطابق ’یہ مذاکرات امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی عمل کا دوسرا مرحلہ ہے، جس میں مختلف گروپ شامل ہیں جو جوہری امور، پابندیوں اور منجمد اثاثوں کے معاملات کے علاوہ لبنان کے ایشو سے متعلق کام کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے ریزوٹ میں ہونے والے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’برگن سٹاک میں شروع ہونے والی بات چیت چند روز قبل بھی شروع ہو سکتی تھی لیکن لبنان پر اسرائیل کے حملوں نے اس پورے عمل کو متاثر کیا بلکہ ایک طرح سے روکا۔‘
اور ایران کے درمیان اس پورے معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کی جانب سے قبل ازیں اعلان کیا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ٹرانزٹ فیس نہیں دینا پڑے گی۔
پاکستان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ سلسلہ 60 روز تک جاری رہے گا اور یہ وہ دورانیہ ہے جس میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اسحاق ڈار نے امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت کو مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک قابل اعتمار فریم ورک بھی قرار دیا۔
ان کے بقول ’یہ بہت سوچ بچار کے بعد تیار کی گئی دستاویز ہے جو فریقین کے لیے قابل قبول ہے اور کسی کو بھی دستخط کرنے والوں کی نیت پر شک نہیں ہونا چاہیے۔‘
نائب وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات کاروں کو کچھ مخصوص امور پر 30 روز کے اندر نتیجہ اخذ کرنے کی ہداہت کی گئی ہے جبکہ مجموعی طور پر معاہدے کی تکمیل 60 روز میں متوقع ہے جبکہ یہ مدت باہمی رضامندی سے بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق ’کشیدگی میں کمی کے ابتدائی فوائد سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، توانائی کی قیمتوں میں کم ہوئی ہیں اور بحری جہازوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی ہے۔‘
اسحاق ڈار نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو دُہراتے ہوئے کہا کہ بحری آمد و رفت کو 28 فروری سے قبل والی صورت حال پر واپس لانا جانا چاہیے یعنی نہ کوئی فیس لی جائے نہ کوئی ٹول ہو۔
انہوں نے امید ظاہر کہ 60 روز میں فریقین خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر اس معاملے کو حتمی شکل دیں گے تاکہ گزرگاہ کی صورت حال معمول پر آ سکے۔
ان کے بقول ’آبنائے ہرمز کے معاملے پر سہولت کار کے کردار کے علاوہ بھی ہماری سوچ واضح تھی کہ اس کو 28 فروری سے قبل والی صورت حال پر بحال کیا جائے جس کا مطلب یہ ہے کہ نہ کوئی فیس ہو گی نہ کوئی ٹول۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اب 60 روز تک کی ضمانت دی گئی ہے جس کے دوران وہ خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کام کریں گے اور اس کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔‘