Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشال خان کی بہن کینیڈا میں جرنلسٹ بن گئیں: ’یہ ڈگری میرے بھائی کے نام ہے‘

13 اپریل 2017 کا وہ دن اقبال مشال کے خاندان کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا جب ان کا جواں سال بیٹا عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں ایک مشتعل ہجوم کے ہتھے چڑھا، جس نے بے بنیاد الزامات کی آڑ میں اس کی زندگی کا چراغ بے دردی سے گل کر دیا۔
شعبۂ صحافت کے طالب علم مشال خان ایک صحافی یا سول سرونٹ بننے کا خواب آنکھوں میں سجائے سچائی کی مشعل روشن کرنا چاہتے تھے، مگر  ہجومی تشدد  نے ان کا یہ سفر وہیں روک دیا۔
لیکن پھر وقت کا پہیہ گھوما اور جو خواب مردان میں بکھر گیا تھا نو برس بعد اب کینیڈا میں صحافت کی اعلیٰ ڈگری کی شکل میں تعبیر پا چکا ہے۔
یہ ہمت اور عزم کی کہانی مشال خان کی چھوٹی بہن صبا اقبال مشال کی ہے، جنہوں نے کینیڈا کی ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے جرنلزم کی ڈگری حاصل کر کے اپنے بھائی کا ادھورا خواب پورا کر دیا ہے۔
صبا اقبال اس تعلیمی معرکے میں اکیلی نہیں ہیں، بلکہ ان کی بڑی بہن ستوریہ اقبال نے بھی مشکلات کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کیا ہے۔ صبا سے بھی پہلے، مئی 2023 میں ستوریہ نے امریکہ کی ’یونیورسٹی ایٹ بفیلو، نیویارک‘ سے بائیومیڈیکل انجینئرنگ کی اعلیٰ ڈگری حاصل کر کے اس کامیابی کی بنیاد رکھی تھی۔
ان دونوں بہنوں نے کٹھن حالات کا مقابلہ کر کے معاشرے کو یہ مضبوط پیغام دیا ہے کہ اگر بیٹیوں کو حوصلہ اور مواقع دیے جائیں، تو وہ نہ صرف نفرت کے اندھیروں کو شکست دے سکتی ہیں بلکہ اپنے خاندان کا سر فخر سے بلند کر کے ادھورے خوابوں کو بھی تعبیر دے سکتی ہیں۔

’مردان سے کینیڈا تک کا یہ سفر آسان نہ تھا‘

مشال خان کے قتل کے بعد  اقبال مشال کے خاندان پر مصائب کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ ایک طرف بیٹے کی جدائی کا کرب تھا، تو دوسری طرف ملنے والی دھمکیاں اور خوف کے سائے۔
حالات اس قدر سنگین تھے کہ علم سے محبت کرنے والے اس خاندان کی بچیاں ایک سال تک گھر میں ہی محصور رہیں اور ان کا سکول اور کالج جانا بند ہو گیا۔
لیکن اس اندھیرے میں مشال کے والد نے اپنے بچوں کو حوصلہ دیا اور اُنہیں یہ سکھایا کہ ہم نے کسی سے بدلہ نہیں لینا، بلکہ اس غم کو اپنی طاقت بنانا ہے۔
پشتو زبان کے شاعر اور علم و ادب سے گہرا شغف رکھنے والے، مشال خان کے والد محمد اقبال مشال نے ’اردو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کی کامیابی پر بے پناہ تشکر اور اطمینان کا اظہار کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’جب مشال کے قتل کا لرزہ خیز واقعہ ہوا، تو ہمارا پورا خاندان ٹوٹ کر بکھر گیا تھا۔ ہم نے وہ دن اور حالات دیکھے جو لفظوں میں بیان نہیں کیے جا سکتے۔‘
لیکن پھر اُنہوں نے اپنے بچوں کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا کہ ہمیں کسی کے ساتھ برا نہیں کرنا اور نہ ہی کسی سے بدلہ لینا ہے۔ ہمیں اپنے اس غم کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنانا ہے اور نفرت کے اس اندھیرے میں علم کا نور پھیلانا ہے۔

شعبہ صحافت کے طالب علم مشال خان کو 13 اپریل 2017 توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا گیا تھا (فوٹو: سوشل میڈیا)

محمد اقبال مشال نے نم آنکھوں کے ساتھ شکر گزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’آج میری بیٹیوں نے میرا مان قائم رکھا ہے اور ثابت کیا ہے کہ تعصب اور جہالت کے مقابلے میں ہمیشہ علم ہی جیتتا ہے۔‘

’علم انسان میں جھکاؤ لاتا ہے‘

محمد اقبال مشال کہتے ہیں کہ ’وہ درویش صفت لوگ ہیں جن کا جینا مرنا علم کے لیے ہے۔‘
ان کا ماننا ہے کہ ’انسان جتنا زیادہ علم حاصل کرتا ہے، اس کے اندر اتنی ہی عاجزی، جھکاؤ اور انسانیت سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ مشال بھی یہی چاہتا تھا اور آج صبا نے کینیڈا کی یونیورسٹی کے سٹیج پر ڈگری وصول کر کے مشال کے اسی پیغام کو زندہ کر دیا ہے۔‘
صبا اقبال نے کینیڈا میں اپنی گریجویشن کی تقریب کے موقع پر جذباتی انداز میں اپنی یہ ڈگری اپنے مرحوم بھائی کے نام کی، جسے وہ ’شہیدِ علم‘ کہتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر اپنے اس یادگار اور جذبات سے بھرپور سفر کی روداد شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’اپریل 2017 میں میری زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ میں نے اپنے بھائی، اپنے بہترین دوست، اپنے رہنما اور اپنی سب سے بڑی ترغیب کو کھو دیا۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ ’مشال جرنلزم اور ماس کمیونیکیشن کا ایک ذہین اور بے باک طالب علم تھا، جو علم، انسانیت اور امن پر یقین رکھتا تھا۔ اس کے خلاف توہینِ مذہب کے جھوٹے الزامات پھیلانے کے بعد اس کی جان لے لی گئی۔ یہ المیہ اس یونیورسٹی کے اندر پیش آیا جسے درسگاہ ہونا چاہیے تھا، لیکن وہی جگہ نفرت اور عدم برداشت کا مرکز بن گئی جہاں اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا۔‘
صبا کا کہنا تھا کہ ’اس حادثے سے پہلے ہم ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔
ہمارے والد نے ان گنت چیلنجز کے باوجود ہمیشہ ہماری تعلیم اور خودمختاری کے لیے سخت محنت کی، جبکہ ہماری والدہ، جن کی اپنی تعلیم بچپن میں ہی چھڑوا دی گئی تھی، نے اپنے خوابوں کو ہمارے ذریعے تعبیر دی اور ہر قدم پر ہمارا حوصلہ بڑھایا۔‘

’دھمکیوں اور خوف کے باعث  ہمیں تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا‘

مشال خان کے قتل کے بعد بیتے دنوں کی سختیوں کا ذکر کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’اُس وقت میں اسی علاقے کے ایک سکول میں پڑھتی تھی جہاں میرے بھائی کو قتل کیا گیا۔ دھمکیوں اور خوف کے باعث مجھے اور میری بہن کو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔ ہم اپنے ہی گھر میں محصور ہو کر رہ گئے اور ایک سال سے زائد عرصے تک تعلیم جو ہماری آخری امید تھیہم سے چھین لی گئی۔‘
’لیکن میرے والد نے ہمیں دوبارہ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتے ہوئے سکھایا کہ ہم اپنے دکھ کو طاقت میں بدلیں اور مشال کے ادھورے سفر کو جاری رکھیں۔ میں جانتی تھی کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ بیرونِ ملک تعلیم ہے، اور خوش قسمتی سے مجھے ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے مکمل سکالرشپ مل گئی۔ اس موقع نے میری زندگی بدل دی اور مجھے ایک آزاد صحافی کے طور پر اپنی آواز بلند کرنے کا حوصلہ دیا۔‘
کینیڈا میں اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ ’میں اپنے چار سالہ قیام کے دوران میں اپنے والدین سے نہ مل سکی اور کئی بار خود کو اکیلا اور کمزور محسوس کیا۔ لیکن ہر مشکل گھڑی میں، میں نے خود کو اپنے خاندان اور مشال کے خوابوں سے کیا ہوا وعدہ یاد دلایا اور دوبارہ کھڑی ہو گئی۔‘
’پھر وہ خوابوں کا دن بھی آیا جب میں نے سٹیج پر جا کر اپنی ڈگری وصول کی۔اس لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ اگر آج مشال زندہ ہوتا تو اسے مجھ پر کتنا ناز ہوتا۔‘

صبا اقبال مشال نے صحافت میں ڈگری حاصل کی ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)

اُن کا کہنا ہے کہ ’یہ ڈگری صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ میرے خاندان کی قربانیوں، تعلیم پر میرے والدین کے یقین اور مشال خان کے علم و امن کے پیغام کی علامت ہے۔‘
انہوں نے ملالہ یوسفزئی اور ضیاء الدین یوسفزئی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ان کی تہہِ دل سے شکر گزار ہیں، جنہوں نے ان کے لیے مشعلِ راہ کا کام کیا۔‘
آخر میں صبا مشال نے اپنی یہ ڈگری اپنے بھائی مشال خان کے نام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنی یہ ڈگری اپنے پیارے بھائی مشال خان “شہیدِ علم” کے نام کرتی ہوں۔ اس کا خواب کبھی خاموش نہیں ہوا یہ ہمارے ذریعے، تعلیم کے ذریعے، اور ہر اس آواز کے ذریعے زندہ ہے جو علم کی طاقت پر یقین رکھتی ہے۔‘

شیئر: