Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں موبائل فونز پر ڈیوٹیز میں کمی، قیمتیں کتنی کم ہو سکتی ہیں؟

اب موبائل پر پی ٹی اے کا ٹیکس بھی اقساط میں ادا کیا جا سکے گا (فوٹو: عرب نیوز)
پاکستان کی وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں موبائل صارفین کو ریلیف دینے کے لیے اہم اقدامات فنانس بل میں شامل کیے ہیں، جن کے تحت امپورٹڈ فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کے ساتھ ساتھ اب پی ٹی اے ٹیکس کی ادائیگی بھی آسان اقساط میں ممکن ہو سکے گی۔
منگل کو قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے بجٹ میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ان سفارشات کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اب امپورٹڈ موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد تک کمی آئے گی۔
اس کے ساتھ ہی جہاں درمیانے درجے کے فونز پر کسٹمز ڈیوٹی کم کرنے کی منظوری دی گئی ہے، وہیں فنانس بل میں ایک ایسی شق بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت صارفین اب پی ٹی اے ٹیکس یکمشت ادا کرنے کے بجائے آسان اقساط میں جمع کروا سکیں گے۔
ان نئی ترامیم کے بعد یکم جولائی 2026 سے شروع ہونے والے نئے مالی سال میں ملک کے اندر موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
تاہم یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ ابتدائی طور پر بجٹ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود ٹیکسوں میں یہ کمی آخر کیسے ممکن ہوئی؟
موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں میں کمی کا یہ معاملہ پچھلے برس اس وقت شروع ہوا، جب قومی اسمبلی کے رکن سید علی قاسم گیلانی نے یہ مسئلہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سامنے اٹھایا۔
انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ موبائل فون کو ایک ’لگژری‘  کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک بنیادی ضرورت سمجھا جائے اور اس کے تحت ٹیکس کو کم سے کم کیا جائے۔
اگرچہ ابتدائی طور پر قائمہ کمیٹی نے ایف بی آر کو اس ٹیکس میں کمی کی سفارش کی تھی لیکن جب بجٹ 26-2025 منظرِ عام پر آیا تو اس میں یہ تجاویز شامل نہیں کی گئیں۔

موبائلز کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اقدام سے قیمتوں میں قریباً 15 ہزار تک کمی آ سکتی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

اس صورت حال کے بعد قاسم  گیلانی نے یہ معاملہ ایک بار پھر قائمہ کمیٹی کے سامنے اٹھایا، جس پر کمیٹی نے ایف بی آر کو بالآخر ایسی سفارشات تیار کرنے پر قائل کر لیا گیا جن سے ٹیکسز میں کمی ممکن بنائی جا سکے۔

ایف بی آر کے حالیہ اقدامات اور نئی شقیں

قومی اسمبلی سے منظور کیے جانے والے بجٹ میں ایف بی آر نے جہاں امپورٹڈ موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد تک کمی کی ہے، وہیں 200 سے 300 امریکی ڈالر مالیت والے مڈ رینج کے موبائل فونز پر بھی ٹیکس ٹیرف کم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی فنانس بل میں ایک اہم اقدام کے تحت صارفین کو یہ سہولت بھی دی جا رہی ہے کہ وہ اب پی ٹی اے ٹیکس کی بھاری رقم یکمشت ادا کرنے کے بجائے آسان اقساط میں جمع کروا سکیں گے، تاہم یہ تمام اقساط اسی مالی سال کے اندر مکمل کرنا ہوں گی جس کے لیے پی ٹی اے اور ایف بی آر مل کر ایک جامع میکانزم وضع کریں گے۔
اس حوالے سے رکن قومی اسمبلی  سید علی قاسم گیلانی کا کہنا ہے کہ وہ ان ٹیکسوں میں مزید کمی کے خواہشمند تھے، لیکن موجودہ حالات میں ایف بی آر کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات بھی ایک بہتر پیش رفت ہے۔

امپورٹڈ موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد تک کمی لائی جا رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

موبائل فونز پر لاگو موجودہ ٹیکس سلیبس کیا ہیں؟

پاکستان میں اس وقت امپورٹڈ موبائل فونز پر ان کی قیمت کے لحاظ سے مختلف ٹیکس سلیبس نافذ العمل ہیں۔ اس وقت 30 ڈالر تک کے ابتدائی فونز پر 25 فیصد جبکہ 31 سے 100 ڈالر تک کے فونز پر 36 فیصد ٹیکس لاگو ہے۔
اسی طرح 101 سے 200 ڈالر مالیت کے فونز پر ٹیکس کی یہ شرح 40 فیصد تک جا پہنچتی ہے، جبکہ 201 سے 350 ڈالر کے فونز پر 38 فیصد اور 351 سے 500 ڈالر تک کے اسمارٹ فونز پر 40 فیصد مجموعی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
اس ٹیکس سٹرکچر میں سب سے بھاری بوجھ 500 ڈالر سے زائد مالیت کے پریمیم فونز پر ہے، جن پر 41 فیصد کی شرح سے ٹیکس لاگو ہے اور یہ رقم بعض فونز پر ایک لاکھ 41 ہزار 500 روپے تک چلی جاتی ہے۔

قیمتوں میں کتنی کمی متوقع ہے؟

موبائل فون کے کاروبار سے منسلک تاجر برادری کا ماننا ہے کہ اگر حکومت کے ان اقدامات پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے، تو ریگولیٹری ڈیوٹی میں کٹوتی کے باعث امپورٹڈ موبائل فونز کی قیمتوں میں قریباً 15 ہزار روپے تک کمی آ سکتی ہے۔
دوسری جانب اس صنعت کے ماہرین  کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے پی ٹی اے کے بھاری ٹیکسوں کو قسطوں میں ادا کرنے کا منصوبہ صارفین کے لیے سود مند ثابت ہو گا۔
تاہم ان کا یہ بی کہنا ہے کہ ان اقدامات سے مارکیٹ کو وقتی سہارا تو ملے گا لیکن پائیدار حل کے لیے ٹیکسوں کی شرح کو کم ترین سطح پر لانا ضروری ہے؛ تاکہ خریداروں کی قوتِ خرید برقرار رہے اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ مل سکے۔

شیئر: