Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں نئی پالیسی کا اعلان، کون سے موبائل فونز میں ای سِم استعمال کیا جا سکتا ہے؟

پی ٹی اے نے ای سم کے لیے فیس کی حد زیادہ سے زیادہ 1500 روپے مقرر کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں کام کرنے والی تمام موبائل فون آپریٹرز کے ساتھ طویل مشاورت اور پارلیمانی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں ای سم سروسز کے لیے ایک نئی اور یکساں پالیسی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے جو اگلے چند روز میں نافذ العمل ہو رہی ہے۔
اس نئی پالیسی کے تحت پی ٹی اے نے ای سم جاری کرنے کی ابتدائی فیس کی حد زیادہ سے زیادہ 1500 روپے مقرر کر دی ہے جبکہ کسی بھی صارف کو ایک سمارٹ فون سے دوسرے مطابقت رکھنے والے سمارٹ فون میں اپنی ای سم منتقل کرنے کے لیے 10 بار تک بالکل مفت سہولت فراہم کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور صارفین کو ای سم کی بار بار منتقلی پر الگ الگ اور غیر متوقع اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
ای سم ہے کیا اور سابقہ نظام میں کیا مسائل تھے؟
اس نئی پالیسی کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ای سم آخر ہے کیا اور صارفین کو ماضی میں کس طرح کی مشکلات کا سامنا تھا۔ ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے ماہر محمد باسط بتاتے ہیں کہ روایتی پلاسٹک کی سم کے برعکس، ای سم کوئی الگ سے ڈیوائس میں ڈالی جانے والی چِپ نہیں ہوتی بلکہ یہ فون کی مدر بورڈ میں ہی تیاری کے وقت اندرونی طور پر نصب کر دی جاتی ہے۔ جب صارف کسی ٹیلی کام کمپنی کی سروس حاصل کرتا ہے تو اسے محض ایک کیو آر کوڈ اسکین کرنا ہوتا ہے یا ڈیجیٹل پروفائل ڈاؤن لوڈ کرنی ہوتی ہے، جس سے اس کا فون فوری طور پر نیٹ ورک سے منسلک ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں اب تک کسی بھی یکساں فریم ورک کی عدم موجودگی کی وجہ سے مختلف ٹیلی کام کمپنیاں ای سم کے اجرا اور اسے دوسرے فون میں منتقل کرنے پر اپنے حساب سے مختلف چارجز وصول کر رہی تھیں، جو بعض اوقات دو ہزار سے پانچ ہزار روپے تک پہنچ جاتے تھے۔ اس کے علاوہ اگر صارف اپنا فون تبدیل کرتا تھا تو اسے دوبارہ رقم ادا کر کے نئے کیو آر کوڈ کے لیے کسٹمر سروس سینٹر کے چکر لگانے پڑتے تھے، جس سے عام صارفین میں اس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے جھجھک پائی جاتی تھی۔‘

ای سم کی تکنیکی چِپ فی الحال زیادہ تر فلیگ شپ اور مڈ رینج فونز تک محدود ہے (فوٹو: اے ایف پی)

نئی پالیسی کے خدوخال اور عام صارف پر اس کے اثرات
مبصرین کے مطابق پی ٹی اے کی اس نئی پالیسی نے عام صارف اور کمپنیوں کے درمیان کسی حد تک توازن قائم کیا ہے۔ اب پہلی بار ای سم حاصل کرنے پر کوئی بھی کمپنی 1500 روپے سے زیادہ وصول نہیں کر سکے گی جبکہ ایک ہی ای سم پروفائل کو 10 مختلف مطابقت رکھنے والے سمارٹ فونز میں بغیر کسی اضافی فیس کے منتقل کیا جا سکے گا۔
پالیسی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پی ٹی اے، نادرا اور موبائل آپریٹرز کے ساتھ مل کر ایک محفوظ ڈیجیٹل فریم ورک بھی تیار کر رہا ہے جس کی بدولت صارفین کو فون تبدیل کرتے وقت فرنچائز یا کسٹمر کیئر سینٹر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ موبائل ایپ یا آن لائن پورٹل کے ذریعے گھر بیٹھے ہی اپنی ای سم دوسرے فون میں منتقل کر سکیں گے۔
اس نظام میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بائیو میٹرک اور ملٹی فیکٹر ویریفکیشن کا طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے تاکہ غیر متعلقہ افراد یا ہیکرز کسی دوسرے کی ای سم غیر قانونی طور پر اپنے فون میں منتقل نہ کر سکیں۔
محمد باسط بتاتے ہیں کہ ’یہاں ایک عام مغالطے کو دور کرنا انتہائی ضروری ہے کہ ای سم کی یہ فیس اور منتقلی کی پالیسی کا تعلق صرف آپریٹر سروس کے اخراجات سے ہے، اس کا غیر رجسٹرڈ فون پر پی ٹی اے کے کسٹم ٹیکس یا ڈائربس کی فیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی فون پہلے سے پی ٹی اے سے منظور شدہ نہیں ہے تو ای سم ایکٹیویٹ کرنے کے لیے ڈیوائس کی الگ سے منظوری بہرحال لازمی رہے گی۔ غیر رجسٹرڈ فون پر ای سم اتنا عرصہ ہی کام کرے گی جتنا عرصہ ایک نان پی ٹی اے فون پر فیزیکل سم چلتی ہے۔‘
 

پاکستان میں کل فعال موبائل کنیکشنز کی تعداد 19 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان میں کتنے فون ای سم کی اہلیت رکھتے ہیں؟
پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں اور سمارٹ فونز کے سرکاری اعدادوشمار پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال تکنیکی ارتقا کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں کل فعال موبائل کنیکشنز کی تعداد 19 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جن میں سے سمارٹ فونز کا استعمال کرنے والے صارفین کی شرح تقریباً 55 سے 60 فیصد ہے، یعنی ملک میں تقریباً 10 سے 11 کروڑ افراد سمارٹ فونز کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم، اگر ای سم کی اہلیت رکھنے والے سمارٹ فونز کا جائزہ لیا جائے تو یہ تعداد فی الوقت کل فعال سمارٹ فونز کا تقریباً 8 سے 12 فیصد بنتی ہے۔
اس کم تناسب کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ای سم کی تکنیکی چِپ فی الحال زیادہ تر فلیگ شپ اور مڈ رینج فونز جیسے کہ ایپل کے آئی فون (آئی فون ایکس ایس اور اس کے بعد کے ماڈلز)، سیمسنگ کی ایس سیریز اور نوٹ سیریز، گوگل پکسل، اور شیاؤمی یا موٹرولا کے مخصوص اعلیٰ ماڈلز تک محدود ہے۔
اس کے برعکس پاکستان میں مارکیٹ کا بڑا حصہ بجٹ اور انٹری لیول فونز پر مشتمل ہے جن میں فی الحال ای سم کا ہارڈویئر شامل نہیں کیا جاتا۔ لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ پی ٹی اے کی نئی پالیسی اور فیسوں کی حد بندی کے باعث آئندہ چند سالوں میں جیسے ہی مینوفیکچررز سستے فونز میں ای سم ہارڈویئر کی فراہمی شروع کریں گے، مقامی مارکیٹ میں اس کا استعمال تیزی سے پھیلے گا۔

مارکیٹ میں سِم کارڈ مخلتف سائز میں دستیاب ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

عالمی موازنہ: پاکستان بین الاقوامی دوڑ میں کہاں کھڑا ہے؟
اگر اس پالیسی کا عالمی منظرنامے سے موازنہ کیا جائے تو دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک جیسے کہ امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ میں ای سم اب ایک معیاری ضرورت بن چکی ہے۔ محمد باسط کہتے ہیں کہ ’امریکہ میں ایپل نے آئی فون 14 اور اس کے بعد کے تمام ماڈلز میں سے فزیکل سم سلاٹ ہی مکمل طور پر ختم کر کے صرف ای سم پر منحصر کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر جی ایس ایم اے کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں ای سم کے کنیکشنز کی تعداد اربوں میں پہنچ رہی ہے اور دنیا کی زیادہ تر بڑی ٹیلی کام کمپنیاں صارفین کو بغیر کسی اضافی فیس کے اپنی ایپس کے ذریعے سیکنڈوں میں ای سم کی منتقلی کی سہولت دیتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی نئی ای سم پالیسی دراصل ملک کو اسی عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کی ایک کوشش ہے۔ پہلی بار 1500 روپے کی حد مقرر کر کے اور 10 بار مفت منتقلی کی اجازت دے کر پی ٹی اے نے مقامی ریگولیٹری ماحول کو بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق بنا دیا ہے۔ تاہم اس کو مزید سستا اور آسان بنانے کی گنجائش موجود ہے تاکہ کم آمدنی والے صارف بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔‘

شیئر: