یہ جنگ کو رکوانے کے لیے سینیٹ کی جانب سے ہونے والی 10 ویں کوشش تھی جس میں اسے 50 میں سے 48 ووٹ ملے اور یہ نتیجہ ماضی کوششوں کے برعکس اور حیران ہے۔
اگرچہ یہ قرارداد بڑی حد تک علامتی نوعیت کی ہے اور اس کو مکمل طور پر قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے تاہم یہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں موجود متعدد ریپبلکن قانون سازوں میں بڑھتی اس تشویش کی عکاسی کرتی ہے جو وہ جنگ اور اس کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر رکھتے ہیں۔
ایوان نے رواں ماہ کے شروع میں اس قرارداد کی منظوری دی تھی۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
منگل کی رات انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں اس پر ہونے والی ووٹنگ کو ’غلط وقت پر کیا گیا اقدام اور بے معنی‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق ’اس سے ایران کی حوصلہ افزائی اور مدد ہوئی ہے۔‘
نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈٰیموکریٹ رہنما چک شومر نے قرارداد کے موقع پر کہا کہ ’سینیٹ میں بار بار ایسا ہو چکا ہے کہ ریپبلکن ارکان کی بڑی اکثریت نے امریکی عوام کے بجائے صدر ٹرمپ اور ان کی جنگ کا ساتھ دیا۔‘
صدر ٹرمپ نے قرارداد پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے (فوٹو: اے پی)
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکہ کے عوام ایران کے معاملے میں صدر ٹرمپ کی غلطی کی قیمت چکا رہے ہیں اور یہ خارجہ پالیسی کی بدترین کارروائیوں میں سے ایک کے طور پر تاریخ کی کتابوں میں درج ہو گی۔‘
ماضی میں زیادہ سے زیادہ چار ریپبلکن سینیٹرز نے جنگی اختیارات سے متعلق قراردادوں کے حق میں ووٹ دیا تھا اور منگل کے روز بھی ایسا ہی دیکھنے میں آیا۔
اسی طرح ایک ڈیموکریٹ سینیٹر نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔
صدر ٹرمپ نے چاروں ریپبلکن سینیٹرز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کو ’ناکام لوگ‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق ’ان لوگوں نے میرے کام کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔‘