پاکستان کی ثالثی کے باعث امریکہ، ایران جنگ ’مکمل تصادم‘ میں تبدیل ہونے سے بچ گئی: یورپی یونین
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سراہا اور کہا اسلام آباد کی سفارتی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان ’مکمل جنگ‘ کے دوبارہ آغاز کو روکنے میں مدد ملی۔
اسلام آباد میں پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاجا کالاس نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو یورپ بھر میں سراہا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی ہائی ریپریزنٹیٹو برائے خارجہ امور اسلام آباد کے دورے پر ہیں، جہاں وہ آٹھویں پاکستان، یورپی یونین سٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کی۔ اس اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، انسانی حقوق، لیبر موبیلیٹی، ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا دونوں فریقین نے پاکستان، یورپی یونین تعلقات میں مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جس کا اظہار اعلیٰ سطح کے روابط میں اضافے اور مختلف مکالماتی میکانزمز کے بروقت انعقاد سے ہوتا ہے۔
انہوں نے اسلام آباد میں 28 سے 29 اپریل 2026 کو ہونے والے پہلے پاکستان، یورپی یونین بزنس فورم کے انعقاد کا بھی خیرمقدم کیا۔ اس فورم کو دونوں جانب سے تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق عزم کا عکاس قرار دیا گیا، جس میں دونوں اطراف کی کاروباری برادری نے نمایاں دلچسپی ظاہر کی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بزنس فورم کو باقاعدگی سے منعقد کرنے پر غور کیا جائے گا۔ اس فورم کے دوران پاکستان، یورپی یونین بزنس نیٹ ورک کا بھی آغاز کیا گیا، جس کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
مضبوط اقتصادی تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے یورپی یونین اور پاکستان نے جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (جی ایس پی پلس) کے فریم ورک کے تحت تعاون جاری رکھنے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور نے جی ایس پی پلس کے نئے ضابطے سے متعلق بریفنگ دی۔ پاکستان نے اس نئے نظام میں شمولیت میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ دونوں فریقین نے اس سلسلے میں متعلقہ شرائط پوری کرنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں جانب سے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے فروغ اور تحفظ کی اہمیت پر بھی دوبارہ زور دیا گیا، جیسا کہ بین الاقوامی ذمہ داریوں میں درج ہے۔
دونوں فریقین نے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا، جو 2019 کے سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تحت سکیورٹی سے متعلق وسیع تر شراکت داری کا حصہ ہے۔
قبل ازیں پریس کانفرنس میں کاجا کالاس نے کہا کہ ’پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اور پاکستان کی سفارتی کوششوں نے متعدد مواقع پر مکمل جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ان کوششوں کو یورپ بھر میں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا اور سراہا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سفارتی کردار کے نتیجے میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ’کمزور مگر امید افزا سفارتی موقع‘ پیدا ہوا ہے، جس کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی امید بھی جڑی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی عارضی سمجھوتے کے بعد ایران کے جوہری ذخائر اور دیگر اہم معاملات پر مزید جامع مذاکرات ضروری ہیں، کیونکہ دیرپا استحکام کے لیے وسیع تر حل درکار ہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے جامع اور دیرپا حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان 2019 کے تحت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، ہجرت اور سکیورٹی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یورپی یونین پاکستان کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جس کے ساتھ تقریباً 12 ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔‘
ان کے مطابق جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کی تجارتی شراکت ایک ’وِن وِن ماڈل‘ ہے۔
دریں اثنا کاجا کالاس کی وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے کاجا کالاس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ کثیر جہتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
وزیراعظم نے آج منعقد ہونے والے یورپی یونین، پاکستان سٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تجارت و سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، سلامتی، ہجرت، پائیدار ترقی اور رابطہ کاری سمیت اہم شعبوں میں یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس ضمن میں وزیراعظم نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات کے فروغ میں جی ایس پی پلس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
