Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یورپی یونین کے اجلاس میں سویڈش خاتون وزیر کی تین ماہ کے بچے کے ساتھ شرکت

30  سالہ رومینا پورموختاری 2022 میں عہدہ سنبھالتے وقت سویڈن کی تاریخ کی کم عمر ترین وزیر بنی تھیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
لیورپی یونین کے وزرائے ماحولیات کے اجلاس میں جمعرات کو ایک غیر معمولی مہمان نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی، جب سویڈن کی وزیرِ ماحولیات رومینا پورموختاری اپنے تین ماہ کے بیٹے ایڈم کو ساتھ لے کر اجلاس میں پہنچ گئیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سویڈش وزیر نے اپنے اس اقدام کا مقصد والدین، خصوصاً خواتین، کے لیے ایسی پالیسیوں کی اہمیت اجاگر کرنا قرار دیا جو انہیں ملازمت اور خاندانی ذمہ داریوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہ کریں۔
رومینا پورموختاری نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’میں یہ دکھانا چاہتی تھی کہ خواتین کو کام اور خاندان میں سے کسی ایک کو چننے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ البتہ اس کے لیے ایک ایسے شریکِ حیات کا ہونا بھی ضروری ہے جو جدید سوچ رکھتا ہو اور ذمہ داریاں بانٹنے کے لیے تیار ہو۔‘
یورپی یونین کونسل کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ ادارے کے علم کے مطابق پہلی بار کسی بچے نے یورپی یونین کے وزارتی اجلاس میں شرکت کی ہے۔
30  سالہ رومینا پورموختاری 2022 میں عہدہ سنبھالتے وقت سویڈن کی تاریخ کی کم عمر ترین وزیر بنی تھیں۔ وہ حال ہی میں والدین کی رخصت (پیرنٹل لیو) سے واپس آئی ہیں، جبکہ ان کے شوہر اس وقت رخصت پر ہیں اور ایڈم کی دیکھ بھال کے لیے ان کے ساتھ لکسمبرگ آئے۔
سویڈن دنیا کے سب سے فراخ دل پیرنٹل لیو کے نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جہاں والدین کو مجموعی طور پر تقریباً 16 ماہ کی تنخواہ سمیت رخصت دی جاتی ہے۔ اس میں سے 90 دن والد اور 90 دن والدہ کے لیے مخصوص ہوتے ہیں، جو ایک دوسرے کو منتقل نہیں کیے جا سکتے۔
یہ چھٹیاں جنہیں عموماً ’ڈیڈ منتھس‘ کہا جاتا ہے، اس مقصد کے لیے متعارف کرائے گئے تھے کہ والد اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں۔
پورموختاری کا کہنا تھا کہ اسی پالیسی اور اپنی ٹیم کے تعاون کی بدولت ان کے لیے یہ بات کم متنازع بنی کہ ان کے شوہر بچے کی دیکھ بھال کریں جبکہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ صرف طویل رخصت ہی نہیں بلکہ والدین کے درمیان رخصت کی لچکدار تقسیم اور بچوں کی نگہداشت کی سستی سہولیات پر بھی توجہ دیں۔
ادھر پولینڈ کے نائب وزیرِ ماحولیات کرزیشٹوف بولیستا نے کہا کہ سیاسی اجلاس میں بچے کی موجودگی سے کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی۔
انہوں نے کہا، ’میرے خیال میں یہ بہت اچھی بات ہے۔ یہ کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ زندگی کا ایک فطری حصہ ہے۔‘ 

شیئر: