Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانیہ میں مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے پرتشدد حملے، ’نفرت انگیز بیانیہ‘ وجہ قرار

حکومت نے گزشتہ سال پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس قسم کے جرائم میں ملوث گروہوں کی نسلی شناخت کا اندراج کرے (فوٹو: روئٹرز)
مسلمان تنظیموں اور سیاست دانوں کی جانب سے جمعہ کو ایڈنبرا میں ہونے والے پرتشدد حملوں کے بعد برطانیہ میں فروغ پذیر ’نفرت انگیز بیانیے‘ کو مسلمانوں پر دائیں بازو کے دہشت گرد حملوں کو بڑھاوا دینے کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق پولیس کے مطابق ان مبینہ مسلمان مخالف حملوں میں پانچ افراد زخمی ہوئے، جن میں سے تین کو ہسپتال لے جایا گیا تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
تنظیم ’مسلم انگیجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ‘ نے کہا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں سے کئی مسلمان ہیں۔ سکاٹ لینڈ کی مساجد کی ایسوسی ایشن کے مطابق دو زخمی افراد پر اُس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپنی مقامی مسجد میں نماز ادا کرکے واپس جا رہے تھے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں ایک نیم برہنہ اور جسم پر ٹیٹو بنائے ہوئے ایک سفید فام شخص کو دیکھا گیا جو بظاہر ایک بڑا ہتھیار اٹھائے ایک ایشیائی شہری کا تعاقب کر رہا تھا اور پھر ایک ریستوران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، بعد ازاں پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔
سکاٹش پولیس نے اتوار کو بتایا کہ انہوں نے ان حملوں کے بعد 36 سالہ ایک شخص پر فردِ جرم عائد کی ہے۔
تنظیم ’مسلم انگیجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ‘ نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کو ’شواہد کی بنیاد پر اسلام مخالف اور دائیں بازو کی شدت پسند دہشت گردی‘ کے طور پر دیکھا جائے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ گرفتار شہری کی آن لائن گردش کرنے والی ویڈیو میں وہ مسلمانوں سے ’ملک کو بچانے‘ کے نعرے لگاتا ہوا دکھائی دیتا ہے، اور ساتھ ہی نازیبا زبان بھی استعمال کر رہا ہے۔

برطانوی مسلم ٹرسٹ نے کہا کہ ایسے حملے مسلمانوں میں پہلے سے موجود غیر محفوظ ہونے کے احساس کو مزید بڑھائیں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تنظیم کے مطابق، اس قسم کی خود ساختہ نگرانی اور دائیں بازو کی شدت پسند دہشت گردی کو بڑھاوا دینا ہی نفرت انگیز بیانیے کا بنیادی مقصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ نفرت انگیز جرائم کی مکمل تفتیش اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کی توقع رکھتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہیں۔
برطانوی مسلم ٹرسٹ نے کہا کہ ایسے حملے مسلمانوں میں پہلے سے موجود خوف، بے چینی اور غیر محفوظ ہونے کے احساس کو مزید بڑھائیں گے۔
ٹرسٹ نے کہا کہ ’کسی بھی شخص کو اپنے عقیدے یا شناخت کی وجہ سے خوف میں نہیں رہنا چاہیے۔ ہماری ہمدردیاں متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔ ہم سکاٹش پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس خوفناک واقعے کی مکمل اور سنجیدہ تحقیقات کی جائیں اور حکومت مسلم کمیونٹیز کے تحفظ کو یقینی بنائے۔‘
ٹرسٹ نے مزید کہا کہ ’اسلام مخالف رویہ بے وجہ پیدا نہیں ہو رہا۔ جب تعصب اور دشمنی کو معمول بنا لیا جائے تو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جن میں تشدد کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ہم اس نوعیت کے اشاروں کو نظر انداز کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘
ٹرسٹ کے مطابق، اسلام مخالف بیانیے کے حقیقی دنیا پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور اس قسم کے بیانیے کو پرتشدد واقعات کے معمول بن جانے اور مسلم کمیونٹیز کے خوف میں جینے پر مجبور ہو جانے سے قبل روکنا ضروری ہے۔
سکاٹ لینڈ کے سابق فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے کہا کہ ’اسلاموفوبیا کئی برسوں سے مرکزی دھارے میں شامل ہو چکا ہے‘ اور یہ ’قابلِ نفرت‘ حملے اچانک نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں حکومتوں کی طرف سے ہمدردانہ بیانات تو ملیں گے، لیکن یہ کافی نہیں۔ وزیر اعظم کے دفتر سے برطانیہ میں مسلمان کمیونٹیز کے حوالے سے بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کو ختم کرنے کے لیے واضح اور منظم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘
برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ حملہ آور بظاہر ’اسلام مخالف سوچ سے متاثر تھا۔‘
مسلم کونسل آف برطانیہ نے کہا کہ یہ واقعہ ’سیاسی بیان بازی کا براہِ راست نتیجہ ہے جو پوری کمیونٹیز کو بدنام کرتی ہے۔‘
سکاٹش مساجد ایسوسی ایشن نے بھی کہا کہ ’ایسی زبان جو مہاجرین، پناہ گزینوں اور مسلمانوں کو خوف کی علامت کے طور پر پیش کرتی ہے، وہ خطرناک ماحول پیدا کرتی ہے۔‘

سکاٹش پولیس نے اتوار کو بتایا کہ انہوں نے ان حملوں کے بعد 36 سالہ شخص پر فردِ جرم عائد کی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

عوامی طور پر مقبول جماعت ریفارم یو کے کے رہنما نائجل فراج اکثر حکومت پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے تارکین وطن کو روکنے میں ناکام رہی ہے، جن کے ذریعے گزشتہ سال 41 ہزار افراد انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچے۔
رپرٹ لو نے ریفارم یو کے پارٹی سے الگ ہو کر ایک چھوٹی ’ریسٹور برطانیہ‘ پارٹی بنائی ہے اور وہ عموماً بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کے منظم معاملات پر توجہ دیتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات میں زیادہ تر پاکستانی نژاد مسلمان مرد ملوث ہوتے ہیں۔
حکومت نے گزشتہ سال پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس قسم کے جرائم میں ملوث گروہوں کی نسلی شناخت ریکارڈ کرے، یہ ہدایت ایک ایسی رپورٹ کے بعد کی گئی تھی جس میں ریاستی ناکامیوں اور ایشیائی مردوں کی ’غیر متناسب نمائندگی‘ کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کو اجاگر کیا گیا تھا۔

شیئر: