امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے حالیہ دفاعی معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا ہے، جس پر وزیراعظم شہباز نے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے بالآخر معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے معاہدے کو ’ایک بڑا، اہم اور جرات مندانہ قدم‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کس طرح سے متحد ہو رہا ہے اور کس طرح ممالک موثر انداز میں اپنے دفاع کے قابل ہوں گے۔‘
تین ممالک کے درمیان یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں طے پایا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے جس کے بعد پرتشدد واقعات کا دائرہ خطے کے دیگر علاقوں تک بھی پھیل گیا ہے جن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے بھی شامل ہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا مقصد اجتماعی صلاحیت اور حملہ روکنے کی استطاعت کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے میں اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کے علاوہ خطے کے اندر اور باہر امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کا مشترکہ عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
تینوں ممالک نے یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے حل کے لیے ہونے والی کوششوں میں اپنا حصہ بھی ڈالیں گے۔
’پاکستان اپنے اور خطے کے دفاع کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا‘
Deeply appreciate President Donald Trump’s kind words of support on the signing of the Makkah Joint Defence Agreement.
Together with the brotherly Kingdom of Saudi Arabia and the Republic of Turkiye, Pakistan will continue to play a constructive role in ensuring the defence of… pic.twitter.com/qdemVBYkLq
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) August 17, 2026
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی حمایت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
پیر کو ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان برادر مملکت سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ کے ساتھ مل کر اپنے ملک کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔‘
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایک بار پھر صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت کو سراہنا چاہیں گے، جن کی بدولت جنوبی ایشیا ایٹمی تباہی سے بچا اور لاکھوں جانیں بچیں۔
ان کے مطابق ’ہمارے عوام کے روشن اور خوشحال مستقبل پائیدار امن سے مشروط ہے۔‘












