Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کا سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے سات اگست کو مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے (فوٹو: ایس پی اے)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے حالیہ دفاعی معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا ہے، جس پر وزیراعظم شہباز نے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے بالآخر معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔‘
انہوں نے معاہدے کو ’ایک بڑا، اہم اور جرات مندانہ قدم‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کس طرح سے متحد ہو رہا ہے اور کس طرح ممالک موثر انداز میں اپنے دفاع کے قابل ہوں گے۔‘
تین ممالک کے درمیان یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں طے پایا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے جس کے بعد پرتشدد واقعات کا دائرہ خطے کے دیگر علاقوں تک بھی پھیل گیا ہے جن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے بھی شامل ہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا مقصد اجتماعی صلاحیت اور حملہ روکنے کی استطاعت کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے میں اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کے علاوہ خطے کے اندر اور باہر امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کا مشترکہ عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
تینوں ممالک نے یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے حل کے لیے ہونے والی کوششوں میں اپنا حصہ بھی ڈالیں گے۔

’پاکستان اپنے اور خطے کے دفاع کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا‘

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی حمایت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
پیر کو ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان برادر مملکت سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ کے ساتھ مل کر اپنے ملک کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔‘
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایک بار پھر صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت کو سراہنا چاہیں گے، جن کی بدولت جنوبی ایشیا ایٹمی تباہی سے بچا اور لاکھوں جانیں بچیں۔
ان کے مطابق ’ہمارے عوام کے روشن اور خوشحال مستقبل پائیدار امن سے مشروط ہے۔‘

 

شیئر: