’ذائقے اور غذائیت سے بھرپور‘ سعودی عرب میں انگور کی پیداوار 128 ہزار ٹن سے تجاوز
ختلف ریجنز میں انگور کی بیلوں کی تعداد 63 لاکھ سے زیادہ ہے۔( فوٹو: ایس پی اے)
موسمِ گرما کا آغاز ہوتے ہی مملکت کے مارکیٹیں مقامی پھلوں سے سجی دکھائی دینے لگی ہیں۔ مقامی پھل ذائقے اور اعلی معیار کی وجہ سے مقبول ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق وزارت ماحولیات، پانی و زراعت نے موسمی پھلوں کے بارے میں آگاہی اور مارکیٹنگ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ’حلوہ بموسمھا‘ کے عنوان سے انیشیٹیو کا آغاز کیا ہے۔
مملکت میں مقامی انگور کی پیداوار 128 ہزار ٹن سے تجاوز کرچکی ہے جو اپنے ذائقے، غذائیت کے لیے مشہور ہے اور پروسیسنگ انڈسٹری میں اس کا اہم کردار ہے جو اسے اقتصادی لحاظ سے سب سے اہم پھلوں میں سے ایک بناتی ہے۔
انگور کی پیداوار کا موسم جولائی اور اگست میں عروج پر ہوتا ہے، جبکہ اس کی کاشت تبوک، قصیم، حائل، الجوف، مدینہ منورہ، عسیر اور طائف سمیت متعدد دیگر ریجنز میں کامیابی سے کی جا رہی ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت مملکت کے مختلف ریجنز میں انگور کی بیلوں کی تعداد 63 لاکھ سے زیادہ ہے۔

حکومتی معاونت، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور بہتر کاشتکاری کے طریقوں کے باعث انگور کی پیداوار اور معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مقامی انگور کی مختلف اقسام نہ صرف طویل عرصے تک دستیاب رہتی ہیں جبکہ متعدد صنعتوں میں بھی ان کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے قومی معیشت کو تقویت ملتی ہے۔
خیال رہے وزارت ماحولیات کی جانب سے کسانوں کی معاونت کے لے فنی رہنمائی، مالی اعانت اور جدید زرعی تکنیکوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، مقامی زرعی مصنوعات کی موثر مارکیٹنگ اور رسائی کے لیے موسمی پروگرام اور نمائش کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔
