Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قصیم کے ہنرمند مٹی کو خوبصورت فن پاروں میں ڈھالنے کے لیے کیوں مشہور ہیں؟

مٹی کے پکے برتن بنانے کا عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے( فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن میں مٹی کے برتنوں پر نقش نگاری کا فن علاقے کی تاریخ اور قدیم ثقافتی ورثے سے جڑا ہوا ہے اور ایک بھرپور دستکاری کو مجسم کرتا ہے۔
ہنرمند اپنے فن کے ذریعے مٹی کو خوبصورت فن پاروں میں تبدیل کرنے کی مہارت رکھتے ہیں جو مقامی شناخت اور اس کی وراثتی جمالیات کی عکاسی کرتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ روایتی دستکاری آج بھی قصیم کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس ہنر کے فروغ، تحفظ اور اسے نسل در نسل منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
فخار سازی (مٹی کے پکے برتن بنانا) کا عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ سب سے پہلے مٹی کا انتخاب کیا جاتا ہے، بعد ازاں اسے مطلوبہ معیار کے مطابق تیار کیا جاتا ہے تاکہ اسے گوند کر مختلف قسم کے برتن تیار کیے جا سکیں۔
تیار کیے جانے والے برتنوں کو خشک کرنے کے بعد ان پر نقش و نگار کنندہ کیے جاتے ہیں جنہیں پختہ کرنے کے لیے کچھ دیر دوبارہ بھٹی میں رکھا جاتا ہے۔

حالیہ کچھ برسوں میں اس فن میں عوامی دلچسپی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خاص طور پر ثقافتی فیسٹیول اور ورثے کے نمائشوں کے ذریعے، جہاں ہنر مند اپنی مہارت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف اس فن کی ترویج ہوتی ہے بلکہ اس کی ثقافتی اہمیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ریجن کے معروف ہنرمند عبداللہ الصائغ کا کہنا ہے ’مٹی کے برتنوں پر بنائے جانے والے خوبصورت نقش و نگار نے انہیں اس فن کی جانب راغب کیا۔ وہ پتھریلی مٹی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے۔‘

عبداللہ الصائع نے بتایا ’ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مٹی کے برتن صرف روز مرہ استعمال کی اشیا نہ رہیں بلکہ یہ سعودی ثقافت اور مقامی شناخت کو دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بنیں۔‘
ملکی سطح پر جاری تربیتی پروگراموں نے اس صنعت کی ترقی اور مصنوعات کی مارکیٹنگ کے مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ اس قدیم ہنر کی اصل روح اور روایتی شناخت کو بھی محفوظ رکھا ہے۔

 

شیئر: