Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وینزویلا: بیٹے کی تلاش میں جب ماں نے ہاتھوں سے کنکریٹ کا ملبہ کھودنا شروع کر دیا

وینزویلا میں ایک ماں نے اپنے بیٹے کی تلاش میں ہاتھوں سے کنکریٹ کے ایک بڑے ڈھیر کو کھودا جو تباہ کن زلزلے کے بعد ملبے تلے پھنس گیا تھا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بدھ کی شام شمالی وینیزویلا میں 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلوں کے پے در پے جھٹکوں کے بعد سامنے آئے جن میں لا گوائرا سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل تھا۔
جمعرات کی رات تک ہلاکتوں کی تعداد 235 تک پہنچ گئی تھی، جبکہ تقریباً 43 سو افراد زخمی ہوئے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ جب کوئی حکومتی مدد نظر نہ آئی تو ڈیل جیودیس مایوس ہو گئیں اور بیٹے کو تلاش کرنے کے لیے ملبے کی کھدائی کرنے لگیں۔
ملبے کے ڈھیر پر بیٹھی ماں نے کہا کہ ’یہ بہت زیادہ پتھر ہیں، اور خالی ہاتھوں سے یہ ناممکن ہے۔‘
ان کے 23 سالہ پوتے الیساندرو نے رضاکار فائر فائٹر کا ہیلمٹ پہنا اور اپنے لاپتہ والد کی تلاش میں شامل ہو گیا۔
لا گوائرا تقریباً 25 ہزار آبادی والا قصبہ ہے۔ خوشگوار وقتوں میں یہ وہ جگہ تھی جہاں کاراکاس کے لوگ کیریبین سے لطف اندوز ہونے آتے تھے۔ اس کی کئی بلند عمارتیں جن میں سوئمنگ پول تھے۔
عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے جمعرات کو علاقے کا دورہ کیا اور اسے آفت زدہ قرار دیا۔ ہر طرف تباہ شدہ عمارتیں اور صدمے سے دوچار چہرے تھے۔

ریسکیو ٹیمیں اور رضاکار 15 منزلہ عمارتوں کے ملبے پر چڑھ کر لاپتہ افراد کے نام پکار رہے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

سمندری کنارے کے لگژری فلیٹس کے باہر اب بھی دھول کے بادل فضا میں تیر رہے تھے، جو اب دھات، شیشے اور کنکریٹ کے ڈھیر میں بدل چکے تھے۔
ساحلی شاہراہ کئی جگہوں پر ٹوٹ گئی تھی، اور ساحل کے ساتھ کئی عمارتیں ناقابل رہائش یا مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھیں۔ دو فائیو سٹار ہوٹل بھی گر گئے۔
ریسکیو ٹیمیں اور رضاکار 15 منزلہ عمارتوں کے ملبے پر چڑھ کر لاپتہ افراد کے نام پکار رہے تھے۔

 

شیئر: