انڈیا: ایودھیا رام مندر میں چندے کی چوری پر استعفے، ’لاکھوں عقیدت مند صدمے میں‘
سنہ 2024 میں نریندر مودی نے اس مندر کا بڑے تزک و احتشام کے ساتھ افتتاح کیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں واقع تاریخی رام مندر کے ٹرسٹ کے اعلیٰ عہدیداروں نے چندے میں مبینہ چوری کے الزام میں آٹھ افراد کی گرفتاری کے بعد جمعے کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق یہ مندر وزیراعظم نریندر مودی کی قوم پرستانہ سیاست کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق پولیس نے جمعرات کو چندے کی رقم اور دیگر قیمتی اشیاء کی ہینڈلنگ میں بے ضابطگیوں پر مقدمہ درج کر کے مندر کے ملازمین سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار شدگان مندر میں آنے والے سونے، چاندی اور نقدی کا حساب کتاب رکھنے پر مامور تھے۔ ان کے خلاف مجرمانہ خیانت، چوری اور بدعنوانی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔
اس سکینڈل نے ان لاکھوں عقیدت مندوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے جنہوں نے 24 کروڑ ڈالر کی لاگت سے بننے والے اس مندر کے لیے دل کھول کر عطیات دیے تھے۔
مندر کے ٹرسٹ کے مطابق یہ عمارت مکمل طور پر عوامی چندے سے تعمیر کی گئی ہے۔
’عالمی سطح پر شرمندگی‘
اگرچہ حکومت نے تاحال غبن کی گئی رقم کی قطعی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں اور مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ چوری 2 کروڑ ڈالر (قریباً پونے دو ارب روپے) سے زائد کی ہو سکتی ہے۔
ایودھیا مندر کے لیے چندہ دینے والی ایک 44 سالہ خاتون وتی سکسینا نے اے ایف پی کو بتایا ’یہ انتہائی شرمناک ہے کہ اتنے اہم ترین مقام کو غلط وجوہات کی بنا پر زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ اب مجھے شک ہو رہا ہے کہ میرا دیا ہوا چندہ مندر کے خزانے میں گیا بھی یا نہیں۔ یہ عالمی سطح پر شرمندگی کی بات ہے اور اس سے کروڑوں ہندوؤں کے عقیدے کو ٹھیس پہنچی ہے۔‘
دوسری جانب اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس معاملے کی سخت ترین تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ ’کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔‘
مندر ٹرسٹ کی تحلیل کا امکان
مندر کی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ رام مندر ٹرسٹ کے اعلیٰ ترین عہدیدار چمپت رائے اور ایک اور ممتاز رکن نے ’اخلاقی بنیادوں‘ پر استعفیٰ دے دیا ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت جلد ہی ’شری رام جنم بھومی تیرتھ کڑیتر ٹرسٹ‘ کو تحلیل کر کے اسے نئے سرے سے تشکیل دے سکتی ہے۔
یہ مندر جس زمین پر تعمیر کیا گیا ہے، وہاں صدیوں پرانی بابری مسجد قائم تھی جسے 1992 میں ہندو ہجوم نے منہدم کر دیا تھا۔
سنہ 2024 میں نریندر مودی نے اس مندر کا بڑے تزک و احتشام کے ساتھ افتتاح کیا تھا۔ مندر انتظامیہ کے مطابق افتتاح کے بعد پہلے ہی سال پانچ کروڑ سے زائد افراد نے اس مندر کا دورہ کیا۔
ایودھیا کا تنازع کئی دہائیوں تک انڈیا کی سیاست کا محور رہا ہے جس نے نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ملک کی ایک بڑی سیاسی قوت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
تاہم اب مندر کے اندر سے ہی چندے کی چوری کے انکشافات نے مودی حکومت اور مندر انتظامیہ کو ایک مشکل دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔
