Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘ کا دوسرا سیزن، کامیڈین سمے رائنا نے عالیہ بھٹ کو ’روسٹ‘ کر ڈالا

’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘ کا پہلا سیزن 2025 میں شدید تنازعات کا شکار ہوا تھا (فوٹو: انڈیا ٹوڈے)
بالی وڈ کی صفِ اول کی اداکارہ عالیہ بھٹ عموماً ملکی فلمی اور بین الاقوامی فلمی میلوں کی ریڈ کارپٹ تقریبات میں نظر آتی ہیں لیکن جون 2026 میں سمے رائنا کے شو پر ان کی آمد نے ناظرین کو تفریح کے بہت سارے مواقع فراہم کیے۔
اس شو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا۔ وہ کامیڈین سمے رائنا کے مقبول شو ’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘ کے دوسرے سیزن میں آنے والی پہلی مہمان تھیں۔ وہ اپنی فلم ’الفا‘ کی تشہیر کے لیے ساتھی اداکارہ شاروری واگھ کے ساتھ اس شو میں شامل ہوئیں۔
لیکن شو کے آغاز ہی میں سمے رائنا نے انہیں ایسا روسٹ کیا کہ پورا ہال قہقہوں سے گونج اُٹھا۔
سمے رائنا نے عالیہ بھٹ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ ’لیٹنٹ‘ کی تاریخ کی سب سے بڑی مہمان ہیں لیکن اگلا جملہ اس سے بھی زیادہ چونکانے والا تھا۔
انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’یہ لیٹنٹ کے لیے بلند ترین مقام ہے کہ ان کی مہمان عالیہ ہیں لیکن یہ عالیہ کے کیریئر کا نچلا ترین مقام ہے کیونکہ وہ انڈیا گاٹ لیٹنٹ جیسے چھوٹے پلیٹ فارم پر جلوہ افروز ہو رہی ہیں۔‘ اس ایک فقرے نے پورے پروگرام کا مزاج طے کر دیا۔
شو کے دوران سمے رائنا نے عالیہ بھٹ کو مسلسل اپنے مزاح کا نشانہ بنائے رکھا۔ انہوں نے ایک موقع پر کہا کہ وہ عالیہ کے سامنے بیٹھ کر بہت ’نروس‘ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ وہ ’ان کے شوہر کے بہت بڑے مداح ہیں۔‘ یہ جملہ سنتے ہی حاضرین کے ساتھ خود عالیہ بھی ہنس پڑیں۔
کانز فلم فیسٹیول کا تنازع
اس پروگرام کا سب سے زیادہ زیرِ بحث حصہ وہ تھا جب سمے رائنا نے عالیہ کی حالیہ کانز فلم فیسٹیول میں شرکت کا ذکر چھیڑا۔ انہوں نے مذاقاً کہا کہ ’کہاں کانز اور کہاں لیٹنٹ، لیکن یہاں کم از کم کیمرے آپ پر تو ہیں۔‘

شو کے دوران سمے رائنا نے عالیہ بھٹ کو مسلسل اپنے مزاح کا نشانہ بنائے رکھا (فوٹو: بالی وڈ ہنگامہ)

اس جملے کو بہت سے مبصرین نے کانز میں عالیہ کی موجودگی اور اس سے جڑی آن لائن بحث پر طنز قرار دیا۔
’کافی وِد کرن‘ کا پرانا قصہ
عالیہ بھٹ کا ایک پرانا وائرل لمحہ بھی سمے کے نشانے سے نہ بچ سکا۔ انہوں نے جب عالیہ سے ان کی پسندیدہ ’ریاست‘ کے بارے میں پوچھا اور وہ چند لمحوں کے لیے سوچنے لگیں تو سمے فوراً گویا ہوئے، ’میں نے ریاست پوچھی ہے، صدر کا نام نہیں۔‘ یہ لطیفہ عالیہ کے اس مشہور واقعے کی طرف اشارہ تھا جب وہ ’کافی وِد کرن‘ نامی معروف ٹی وی شو میں انڈین صدر کا نام بتاتے ہوئے اُلجھ گئی تھیں۔
عالیہ کی فلم ’جگرا‘ پر بھی چوٹ
پروگرام میں سمے رائنا نے عالیہ کی فلم ’جگرا‘ کا بھی ذکر چھیڑا۔ عالیہ نے جب ہنستے ہوئے کہا کہ انہیں شو میں آ کر پچھتاوا ہو رہا ہے تو سمے نے فوراً جواب دیا کہ ’مجھے بھی ’جگرا‘ دیکھنے کے بعد یہی احساس ہوا تھا۔‘ اس پر حاضرین خوب کھلھلا کر ہنسے، لیکن عالیہ نے بھی حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ ’کم از کم آپ نے فلم تو دیکھی، شکریہ کہ آپ نے ٹکٹ خریدی۔‘ اس جواب پر انہیں بھرپور داد ملی۔
شرواری بھی نہ بچ سکیں
شو میں شاروری واگھ کو بھی مزاحیہ انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ سمے نے مذاقاً پوچھا کہ ’آپ کون ہیں؟‘ اور پھر انہیں ’عالیہ کا پلس ون‘ قرار دیا۔ اس جملے پر بھی سامعین نے خوب لطف اٹھایا۔
سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل
پروگرام نشر ہونے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ردعمل کا سیلاب آ گیا۔ کئی صارفین نے سمے رائنا کی واپسی کو ’انٹرنیٹ کلچر کی واپسی‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ اپنی پرانی فارم میں نظر آئے ہیں۔
ریڈٹ اور دیگر پلیٹ فارمز پر بعض ناظرین نے عالیہ بھٹ کے سپورٹنگ سپرٹ کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے خود پر ہونے والے سخت ترین مذاق کا بھی خندہ پیشانی سے جواب دیا۔
تاہم شو کے متعلق کچھ تنقید بھی سامنے آئی۔ بعض صارفین کا خیال تھا کہ شو پہلے کی نسبت زیادہ سکرپٹڈ محسوس ہوا اور اس کی بے ساختگی میں کمی آ گئی ہے۔ چند تبصروں میں کہا گیا کہ ’شاروری زیادہ فطری اور پُراعتماد دکھائی دیں جبکہ عالیہ کچھ محتاط محسوس ہوئیں۔‘

متعدد سوشل میڈیا صارفین نے سمے رائنا کی واپسی کو ’انٹرنیٹ کلچر کی واپسی‘ قرار دیا (فوٹو: فرسٹ پوسٹ)

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شو پہلے جیسا خام اور غیر متوقع نہیں رہا، لیکن پھر بھی دیکھنے کے قابل ہے۔‘ جبکہ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ ’سمے رائنا نے محتاط انداز اپنایا ہے، شاید گزشتہ تنازعات کے اثرات ہیں۔‘
تنازعات سے واپسی
یاد رہے کہ ’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘ کا پہلا سیزن 2025 میں شدید تنازعات کا شکار ہوا تھا، جب ایک قسط میں کیے گئے متنازع تبصرے کے بعد متعدد ایف آئی آرز درج ہوئیں اور شو کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پس منظر میں دوسرے سیزن کی واپسی کو نہ صرف سمے رائنا بلکہ پورے ڈیجیٹل کامیڈی منظرنامے کے لیے ایک اہم امتحان سمجھا جا رہا تھا۔
عالیہ بھٹ کے لیے یہ پروگرام شاید ان کے فلمی کیریئر کا ’سب سے نچلا مقام‘ نہیں تھا جیسا کہ سمے رائنا نے ازراہِ مذاق کہا، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس ایک قسط نے ثابت کر دیا کہ بالی وڈ کے بڑے ستارے اب یوٹیوب اور ڈیجیٹل کامیڈی کی دنیا کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اور اگر میزبان شیکھر سمن، سمے رائنا یا کپل شرما ہوں تو پھر کوئی بھی ستارہ ان کے تند و تیز مزاح سے محفوظ نہیں رہتا۔

شیئر: