Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یورپ میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹنے لگے، شدید گرمی کی لہر مشرق کی جانب بڑھنے لگی

یورپ میں جان لیوا گرمی کی لہر مشرقی ممالک کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے باعث کروڑوں افراد اس ہفتے کے اختتام پر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔
جرمن محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مزید درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں، جبکہ مشرقی یورپ کے کئی ممالک نے آئندہ دنوں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہفتے کے روز تقریباً 19 کروڑ 30 لاکھ افراد کو 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ غیر معمولی گرمی کی لہر پہلے ہی برطانیہ، فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں نئے ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔

ڈنمارک کی تاریخ کا گرم ترین دن

ڈنمارک کے محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز ملک کی تاریخ کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اوڈینسے کے شمالی علاقے میں درجہ حرارت 36.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو 1874 میں درجہ حرارت کی ریکارڈنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔
ڈی ایم آئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا، ’36.6 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ آج ڈنمارک کی تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا ہے۔‘
محکمہ نے مزید کہا، ’اور دن ابھی ختم نہیں ہوا...‘، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درجہ حرارت میں مزید اضافے کا امکان موجود تھا۔
شدید گرمی اور ڈوبنے کے واقعات کے باعث متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ کئی ممالک کی ہنگامی طبی خدمات نے بتایا ہے کہ ان کی سہولیات پر غیر معمولی دباؤ ہے۔
فرانس، جرمنی اور نیدرلینڈز میں گلیوں کی تقریبات اور موسیقی کے کئی بڑے پروگرام منسوخ کر دیے گئے، تاہم شدید گرمی کے انتباہ کے باوجود بداپیسٹ اور میونخ میں پرائیڈ مارچز کے انعقاد کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔
سوئٹزرلینڈ اور فرانس نے دریا کے پانی کے حد سے زیادہ گرم ہونے کے خدشے کے پیش نظر بعض جوہری ری ایکٹرز بھی عارضی طور پر بند کر دیے، کیونکہ انہی سے ٹھنڈک کے لیے پانی استعمال کیا جاتا ہے۔
جرمن محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر حصے کے لیے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جو ایک روز پہلے قائم ہونے والے قومی ریکارڈ کو بھی توڑ سکتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق بار بار آنے والی ایسی شدید گرمی کی لہریں انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کا واضح ثبوت ہیں، اور مستقبل میں ان کی شدت، دورانیہ اور تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی افریقہ سے آنے والی گرم ہوا ایک ’ہیٹ ڈوم‘ کی صورت میں یورپ پر چھا گئی ہے، جس کے باعث غیر معمولی حد تک بلند درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

رومانیہ، سلوواکیہ سمیت کئی ممالک میں ریڈ الرٹ

رومانیہ نے پیر سے بدھ تک تقریباً پورے ملک میں شدید گرمی کے لیے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ سلوواکیہ نے بھی یہی انتباہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ جمعہ کی رات ملکی تاریخ کی گرم ترین رات ثابت ہوئی، جہاں درجہ حرارت 26.3 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آیا۔
براتیسلاوا میں کام کرنے والے 26 سالہ کورئیر ڈینس اوودیینکو نے اے ایف پی کو بتایا کہ گرمی سے بچنے کے لیے وہ عوامی فواروں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا، ’ایسا لگتا ہے کہ ہر چیز گرم ہو گئی ہے۔ سڑک گرم ہے، میرا فون گرم ہے، میرا سر گرم ہے، ہر چیز تپ رہی ہے۔ دوپہر چار بجے کے بعد شدید تھکن محسوس ہونے لگتی ہے۔‘
چیک جمہوریہ، ہنگری اور مالدووا نے بھی ہفتے کے آخر کے لیے اعلیٰ ترین انتباہ جاری کر دیا ہے، جبکہ بلقان کے ممالک بھی شدید گرمی کے مزید دنوں کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔

فرانس میں ہسپتالوں پر دباؤ

اے ایف پی کے اندازے کے مطابق ہفتے کے روز یورپ میں 19 کروڑ سے زائد افراد کو 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا ہوگا، جن میں جرمنی سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔
جرمنی میں اگرچہ کئی تقریبات منسوخ کی گئیں، تاہم برلن فلہارمونک آرکسٹرا نے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک متوقع گرمی کے باوجود اپنا روایتی اوپن ایئر کنسرٹ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا، البتہ لباس کے ضوابط میں نرمی کر دی گئی۔
پیرس کے نائب میئر برائے صحت انتوان الیبر نے بتایا کہ شہر کے ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں، ایمبولینس کالز میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور ہسپتالوں کے راہداریوں میں سٹریچرز کی قطاریں لگ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’ہم اس وقت صحت کے ایک سنگین بحران کے درمیان ہیں۔ یہ گرمی کی ایک غیر معمولی اور انتہائی شدید لہر ہے۔‘ 

 

شیئر: