Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’تاریخِ ہوابازی کا پراسرار راز‘، لاپتہ ملائیشین جہاز کو مزید ایک سال تلاش کیا جائے گا

جہاز 2014 میں کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
ملائیشیا کی حکومت نے 12 سال قبل لاپتہ ہو جانے والے مسافر طیارے کو تلاش کرنے والی کمپنی کے ساتھ اپنا معاہدہ ایک سال کے لیے مزید بڑھا دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز ملائیشیا کی وزارت ٹرانسپورٹ نے ایک بیان میں کہا کہ اوشن انفینیٹی نامی کمپنی جو پہلے سے سمندر میں جہاز کا ملبہ تلاش کر رہی ہے، اب مزید ایک برس تک اس ضمن میں مزید کام کرے گی۔
ملائیشیا ایئرلائنز کی ایم ایچ 370 فلائٹ 2014 میں کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی، اس بوئنگ 777 جہاز میں 227 مسافروں کے علاوہ عملے کے 12 ارکان بھی سوار تھے۔
اس واقعے کو ہوا بازی کی تاریخ کے سب سے بڑے اور پراسرار رازوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
اس سے قبل بھی بحر ہند کے جنوبی حصے میں گمشدہ طیارے کی تلاش کے لیے متعدد بڑے آپریشنز کیے جا چکے ہیں لیکن اب تک ان میں کوئی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکا ہے اور طیارے کا کوئی سراغ نہیں سکا ہے۔
اوشن انفینیٹی 2018 تک طیارے کی تلاش کا کام کیا تھا، پچھلے برس اس نے ملائیشیا کی حکومت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اس نے 15 ہزار مربع کلومیٹر (پانچ ہزار سات سو بانوے) کے ایریا پر جہاز کو تلاش کرنا تھا اور مبلہ ملنے کی صورت میں اس کو سات کروڑ ڈالر ادا کیے جائیں گے۔
ملائیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ انتھونی لوک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس معاہدے میں یکم جولائی 2026 سے 30 جون 2027 تک مزید ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔
ان کے مطابق ’معاہدے میں توسیع کا یہ فیصلہ حکومت کے اس غیرمتزلزل عزم کا عکاس ہے جو حکومت پرواز کے مسافروں کے اہل خانہ کو اس المناک سانحے کے بارے میں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے میں یہ توسیع اوشن انفینیٹی کی نئی تجارتی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے، جس کے لیے کمپنی کو نومبر 2026 سے اپریل 2027 کے درمیان تلاش کے ضمن میں استعمال ہونے اپنے اہم آلات اور جہاز عارضی طور پر ایک دوسرے مقام پر منتقل کرنا ہوں گے۔

شیئر: