کراچی سے تعلق رکھنے والی عائشہ علی چند گھنٹے پہلے تک اپنے شوہر اور دو کمسن بیٹیوں کے ساتھ بلوچستان کی خوبصورت وادی زیارت میں تعطیلات گزار رہی تھیں۔
کراچی کی ایک عام اور چھوٹی سی اس فیملی نے کوئٹہ اور زیارت کے مختلف سیاحتی مقامات کی سیر کی، یادگار تصاویر اور ویڈیوز بنائیں اور خوشگوار لمحات موبائل فون کے ذریعے اپنے عزیزوں کے ساتھ شیئر کیے۔
مگر واپسی کے سفر میں اچانک ایسا بھیانک موڑ آیا جس کا شاید انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے شوہر علی مرتضیٰ کو گولیوں کا نشانہ بنتے اور آخری سانسیں لیتے ہوئے دیکھا اور خود بھی شدید زخمی ہو گئیں۔
اس کے بعد کی رات ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش بن گئی۔ حملے کے بعد زخمی عائشہ پوری رات اپنے شوہر کی لاش اور خوفزدہ بیٹیوں کے ساتھ ویران علاقے میں مدد کی منتظر رہیں۔
مزید پڑھیں
اہلِ خانہ کے مطابق سخت کرب، درد، اندھیرے اور بے بسی کے اس عالم میں وہ مسلسل فون کے ذریعے مدد مانگتی رہیں تاہم صبح ہونے تک کوئی ان تک نہیں پہنچ سکا۔
پولیس کے مطابق جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب کوئٹہ سے کراچی واپسی کے دوران ان کی گاڑی مبینہ طور پر بھٹک کر ضلع مستونگ کے حساس علاقے دشت کمبیلہ کی ایک لنک روڈ پر پہنچ گئی جہاں نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ اس حملے میں 28 سالہ علی مرتضیٰ میمن موقع پر جان سے گئے، عائشہ علی زخمی ہوئیں جبکہ چار اور چھ سال کی دونوں بیٹیاں محفوظ رہیں۔
یہ واقعہ کوئٹہ سے صرف 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع مستونگ کی تحصیل دشت کے علاقے کمبیلہ میں پیش آیا مگر خاندان اور دوستوں کے مطابق اس کے باوجود متاثرہ مہمان خاندان تک پہنچنے میں پولیس کو کئی گھنٹے لگ گئے۔
بعدازاں اس واقعے کی تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔ ان میں ایک تصویر خاص طور پر توجہ کا مرکز بنی جس میں دونوں بچیاں جائے وقوعہ پر خوف اور صدمے کی حالت میں کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے چہروں پر نمایاں خوف نے دیکھنے والوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے ان تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے شدید دکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے علی مرتضیٰ کے والد محمد جمیل سخت صدمے کا شکار نظر آئے۔
’میرا بیٹا بلوچستان کو اپنا ہی ملک اور اپنا ہی گھر سمجھ کر گیا تھا۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ وہ علاقہ غیر محفوظ ہے تو ہم اپنے بچوں کو کبھی وہاں نہ بھیجتے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر وہاں (بلوچستان کے) حالات اتنے خراب ہیں اورراستے محفوظ نہیں تو لوگوں کو وہاں جانے سے کیوں نہیں روکا جاتا۔ لوگوں کو بتایا کیوں نہیں جاتا کہ وہ نہ جائے۔
’میرا بچہ تو چلا گیا مگر میں نہیں چاہتا کہ کسی اور کے ساتھ ایسا ہ اس لیے میری سب سے درخواست ہے کہ وہاں کوئی نہ جائے۔‘
سفر جو خوشیوں سے شروع ہوا
علی مرتضیٰ کراچی کے علاقے ناظم آباد کے رہائشی تھے اور موبائل فون کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ دونوں میاں بیوی اپنی آلٹو گاڑی میں چار سالہ بیٹی علینہ اور چھ سالہ بیٹی علیزہ کے ساتھ محرم کی تعطیلات میں کوئٹہ اور زیارت کی سیر کے لیے آئے تھے۔
علیٰ مرتضیٰ کے والد محمد جمیل کے مطابق بیٹے، بہو اور پوتیوں نے تین روز تک کوئٹہ اور زیارت میں خوشگوار وقت گزارا۔ انہوں نے مختلف تفریحی مقامات کی سیر کی اس دوران علی مرتضیٰ مسلسل اپنے اہلِ خانہ کو تصاویر اور ویڈیوز بھیجتے رہے۔
ان کے بقول ’علی مرتضیٰ بہت خوش تھا، ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگااور وہ زندہ نہیں لوٹے گا۔‘
کوئٹہ میں ان کے میزبان احسان خان تھے جو خود بھی موبائل کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ علی مرتضیٰ سے ان کی دوستی موبائل فون کے کاروبار کے سلسلے میں ہونے والی جان پہچان سے شروع ہوئی تھی۔
احسان خان بتاتے ہیں کہ علی مرتضیٰ بدھ 24 جون یعنی آٹھ محرم کو اپنی اہلیہ اور دو کم عمر بیٹیوں کے ہمراہ کوئٹہ پہنچے تھے۔ اگلے دن ہم انہیں ہنہ جھیل اور کوئٹہ کے مختلف مقامات پر لے گئے۔ 26 جون کو زیارت گئے جہاں انہوں نے کافی وقت گزارا، وہ بہت خوش تھے اور ہر چیز سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

احسان خان کے مطابق علی مرتضیٰ خصوصی طور پر زیارت گھومنے آئے تھے جہاں گرمیوں میں موسم ٹھنڈا اور خوشگوار رہتا ہے اور پاکستان کے بانی قائداعظم ریذیڈنسی بھی واقع ہے ۔
’علی مرتضیٰ رات کو ہی سفر کرنے پر بضد تھے ‘
احسان خان کے مطابق ’زیارت سے واپسی پر ر ات کو ہم نے ان کے لیے کھانے کا اہتمام کیا تھا۔ کھانے کے بعد انہوں نے کراچی روانہ ہونے کا کہا تو ہم نے بہت اصرار کیا کہ رات کو سفر نہ کریں۔ ہم نے مذاق میں یہ تک کہا کہ گاڑی کی کوئی وائر نکال دیتے ہیں تاکہ آپ نہ جا سکیں۔‘
ان کے مطابق عائشہ نے بھی شوہر کو رک جانے کا مشورہ دیا کیونکہ ہم انہیں مسلسل رات کے سفر سے منع کر رہے تھےمگر علی مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی میں صبح ان کا ایک ضروری کام ہے، اس لیے مزید نہیں رک سکتے ۔ اس طرح رات تقریباً گیارہ بجے وہ اپنی اہلیہ اور دونوں بیٹیوں کے ساتھ کراچی کے لیے روانہ ہو گئے۔
ان کے بقول ’ہم نے پشتون روایات کے مطابق ان کی بھرپور مہمان نوازی کی جس پر وہ بہت خوش تھے اور ہمیں بھی فیملی کے ہمراہ کراچی آنے کی دعوت دی ۔‘
احسان خان کا کہنا تھا کہ’اگر ہمیں ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے تو ہم کسی صورت انہیں جانے نہ دیتے۔‘

راستہ کیسے بھٹکے؟
کوئٹہ کے جنوبی حصے سے دو اہم شاہراہیں نکلتی ہیں۔ ان میں این 25 (آر سی ڈی شاہراہ) کراچی جانے کے لیے مرکزی، مختصر اور نسبتاً محفوظ راستہ سمجھی جاتی ہے جو لکپاس، مستونگ، قلات، خضدار ، لسبیلہ اور حب سے ہوتی ہوئی کراچی تک پہنچتی ہے۔ دوسری جانب این 65 سریاب، دشت مستونگ، کولپور، بولان اور سبی سے گزرتے ہوئے سکھر کی طرف جاتی ہے۔
اگر کوئٹہ میں مغربی بائی پاس سے سفر شروع کیا جائے تو راستہ براہِ راست این 25 پر جا نکلتا ہے تاہم شہر کے اندر سے سریاب روڈ اختیار کرنے کی صورت میں کسٹمز کے مقام پر شاہراہیں الگ ہو جاتی ہیں۔ یہاں سے ایک سڑک لکپاس کے راستے این 25 کی جانب مڑتی ہے جبکہ دوسری سیدھی این 65 پر آگے بڑھتی ہے۔
پولیس کے مطابق بظاہر علی مرتضیٰ سریاب روڈ پر سفر کرتے ہوئے اس مقام پر مرکزی شاہراہ کی طرف مڑنے کے بجائے سیدھے آگے نکل گئے اور دشت مستونگ کی سمت این 65 پر سفر جاری رکھا۔
اسی راستے پر چند کلومیٹر آگے میاں غنڈی لنک روڈ آتا ہے جو دوبارہ این 65 کو این 25 سے ملاتا ہے اور نسبتاً محفوظ راستہ سمجھا جاتا ہے تاہم پولیس کے مطابق علی مرتضیٰ کی گاڑی اس موڑ سے بھی آگے نکل گئی۔
چند کلومیٹر مزید سفر کے بعد ایک اور لنک روڈ آتا ہے جو کراچی جانے والی این 25 شاہراہ سے جا ملتا ہے لیکن یہ راستہ عاصم آباد، کھنڈ اور دشت کمبیلا کے غیر آباد اور سکیورٹی کے لحاظ سے حساس علاقوں سے گزرتا ہے ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ راستہ بھٹکنے کے بعد علی مرتضیٰ اسی لنک روڈ پر پہنچ گئے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔
پولیس تھانہ دشت میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق واقعہ دشت کمبیلا کے لنک روڈ پر پیش آیا جو دشت تھانے سے تقریباً 15 سے 16 کلومیٹر دور واقع ہے۔ دشت تھانہ کوئٹہ سے تقریباً 25کلومیٹر دور ہے اس طرح یہ مقام کوئٹہ سے 40کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
مستونگ پولیس کے ایک افسر کے مطابق اس علاقے کو بدامنی کی وجہ سے حساس اور کالعدم بلوچ مسلح تنظیموں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ مقامی لوگ دن کے اوقات بھی یہاں غیر ضروری آمدورفت سے گریز کرتے ہیں ۔رات کو تو اس علاقے کے لوگ گھروں سے ہی نکلنے سے گریز کرتے ہیں۔ فورسز بھی عموماً مکمل تیاری اور حفاظتی اقدامات کے بغیر اس علاقے میں نہیں جاتیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران اس علاقے اور اس کے گردونواح میں مسلح گروہوں کی ناکہ بندیوں، سکیورٹی فورسز پر حملوں، پولیس چوکیوں اور تھانوں کو نشانہ بنانے، ریلوے ٹریک پر بم دھماکوں اور مسافر ٹرین پر حملوں کے درجنوں واقعات پیش آ چکے ہیں۔حالیہ مہینوں میں ان حملوں اور سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ اس علاقے میں رات کے اوقات اکثر مسلح افراد موجود رہتے ہیں اور کسی بھی آنے جانےوالی گاڑی کو روک کر تلاشی لیتے ہیں۔ اگر کوئی گاڑی نہیں رکتی تو ان پر فائر کھولنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
فائرنگ کیسے ہوئی؟
دشت تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق عائشہ علی نے پولیس کو بتایا کہ راستے میں کافی تعداد میں نامعلوم مسلح دہشتگردوں نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا۔ گاڑی نہ روکنے پر دہشتگردوں نے فائرنگ کر دی۔‘
دشت پولیس تھانے کے ایس ایچ او اختر محمد سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ موقع پر پہنچنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ گاڑی سڑک سے نیچے اتری ہوئی تھی جس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ڈرائیور نے مسلح افراد کو دیکھ کر واپس پیچھے بھاگنے کی کوشش کی تاہم حملہ آوروں نے پیچھے سے فائرنگ کی ۔ علی مرتضیٰ کو بھی زیادہ تر گولیاں پیچھے سے لگی تھیں ۔ان کے مطابق گاڑی پر گولیوں کے متعدد نشانات پائے گئے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود علی مرتضیٰ کی موقع پر ہی موت ہوگئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ خاتون شدید صدمے میں تھیں اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ان کا کافی زیادہ خون بہہ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھیں جبکہ خون میں لت پت اپنے ماں باپ کو دیکھ کر ان کی چھوٹی بیٹیاں بہت ڈری اور سہمی ہوئی تھیں.
محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی نے اس واقعے کے حوالے سے کالعدم مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے) ٌ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے لیکن اب تک بی ایل اے سمیت کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ علی مرتضیٰ اپنی گاڑی میں مبینہ طور پر سمگل شدہ سامان لے جا رہے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے سکیورٹی چوکیوں سے بچنے کے لیے غیر آباد راستہ اختیار کیا۔
تاہم کوئٹہ میں ان کے میزبان اوردوست احسان خان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔
’گوگل میپ کی غلط رہنمائی سے راستہ بھٹکے‘
ایف آئی آر کے مطابق عائشہ علی نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور بیٹیوں کے ہمراہ کوئٹہ سے کراچی کے لیے اپنی گاڑی میں روانہ ہوئے مگر راستہ بھٹک گئے جس پر انہوں نے گوگل میپ کا سہارا لے لیا اور لنک روڈ پر سفر شروع کیا جہاں مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا۔
کوئٹہ میں ان کے میزبان احسان خان نے بھی بتایا کہ علی مرتضیٰ کو کوئٹہ کے راستوں کا زیادہ علم نہیں تھا اس لیے وہ گوگل میپ کا سہارا لے رہے تھے مگراس دن دسویں محرم کی وجہ سے انٹرنیٹ متاثر تھا جس کی وجہ سے کافی مشکل پیش آرہی تھی۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کراچی کا یہ مہمان خاندان گوگل میپ استعمال کرتے ہوئے غلط رہنمائی کی وجہ سے راستہ بھٹک گیا تھا۔
مدد پہنچنے میں کتنی دیر لگی؟
اہلخانہ کے مطابق حملے کے بعد عائشہ زخمی حالت میں کئی گھنٹوں تک بے یار و مددگار وہیں موجود رہیں۔
علی مرتضیٰ کے والد محمد جمیل کے مطابق بہو نے فون کرکے بتایا کہ علی دم توڑ چکے ہیں مجھے بھی پانچ گولیاں لگی ہیں۔بہت زخمی ہوں کہیں میری بھی آنکھ بند نہ ہوجائیں میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ پانچ گھنٹے گزرنے کے بعد بھی مدد کے لیے کوئی نہیں آیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ علیٰ مرتضیٰ کو ڈھونڈنے جب ان کے دوست گئے تو انہیں بھی آگے جانے سے روکا گیا اور صبح ہونے تک انتظار کرنے کا کہا گیا۔
اہلخانہ کے مطابق انہوں نے پولیس کنٹرول اور سب کو اطلاع دی مگر انہوں نے کہا کہ یہ نو گو ایریا ہے روشنی ہونے نہیں جاسکتے۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو رات تقریباً ڈھائی بجے واقعے کی اطلاع ملی۔تاہم مقتول کے دوست احسان خان کا کہنا ہے کہ علی مرتضیٰ کی اہلیہ نے رات بارہ بجے سے ایک بجے کے درمیان واقعہ کی اطلاع دی۔
انہوں نے بتایا کہ روانگی کے تقریباً ایک گھنٹے بعد میرے بھائی نے علی مرتضیٰ کو فون کیا تو انہوں نے نہیں اٹھایا جس پر ہمیں تشویش ہوئی اور مسلسل فون کرتے رہے ۔ ’متعدد کوششوں کے بعد باجی نے (علیٰ مرتضیٰ کی اہلیہ ) نے فون اٹھایا اور بتایا کہ انہیں گولیاں لگی ہیں۔ آپ لوگ مدد کے لیے آجائیں۔













