دشت واقعہ: ’زخمی عائشہ رات بھر شوہر کی لاش اور خوفزدہ بیٹیوں کے ساتھ مدد کا انتظار کرتی رہیں‘
دشت واقعہ: ’زخمی عائشہ رات بھر شوہر کی لاش اور خوفزدہ بیٹیوں کے ساتھ مدد کا انتظار کرتی رہیں‘
منگل 30 جون 2026 6:47
سیر کے لیے جانے والی فیملی راستہ بھٹک گئی تھی
کراچی سے تعلق رکھنے والی عائشہ علی چند گھنٹے پہلے تک اپنے شوہر اور دو کمسن بیٹیوں کے ساتھ بلوچستان کی خوبصورت وادی زیارت میں تعطیلات گزار رہی تھیں۔
کراچی کی ایک عام اور چھوٹی سی اس فیملی نے کوئٹہ اور زیارت کے مختلف سیاحتی مقامات کی سیر کی، یادگار تصاویر اور ویڈیوز بنائیں اور خوشگوار لمحات موبائل فون کے ذریعے اپنے عزیزوں کے ساتھ شیئر کیے۔
مگر واپسی کے سفر میں اچانک ایسا بھیانک موڑ آیا جس شاید انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے شوہر علی مرتضیٰ کو گولیوں کا نشانہ بنتے اورآخری سانسیں لیتے ہوئے دیکھا اور خود بھی شدید زخمی ہو گئیں۔
اس کے بعد کی رات ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش بن گئی۔ حملے کے بعد زخمی عائشہ پوری رات اپنے شوہر کی لاش اور خوفزدہ بیٹیوں کے ساتھ ویران علاقے میں مدد کی منتظر رہیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق سخت کرب، درد، اندھیرے اور بے بسی کے اس عالم میں وہ مسلسل فون کے ذریعے مدد مانگتی رہیں تاہم صبح ہونے تک کوئی ان تک نہیں پہنچ سکا۔
پولیس کے مطابق جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کوئٹہ سے کراچی واپسی کے دوران ان کی گاڑی مبینہ طور پر راستہ بھٹک کر ضلع مستونگ کے حساس علاقے دشت کمبیلہ کے ایک لنک روڈ پر پہنچ گئی جہاں نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ اس حملے میں 28 سالہ علی مرتضیٰ میمن موقع پر جان سے گئے، عائشہ علی زخمی ہوئیں جبکہ چار اور چھ سال کی دونوں بیٹیاں محفوظ رہیں۔
یہ واقعہ کوئٹہ سے صرف 40کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع مستونگ کی تحصیل دشت کے علاقے کمبیلہ میں پیش آیا مگر خاندان اور دوستوں کے مطابق اس کے باوجود متاثرہ مہمان خاندان تک پہنچنے میں پولیس کو کئی گھنٹے لگ گئے۔
واقعہ کے بعد اس واقعے کی تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔ ان میں ایک تصویر خاص طور پر توجہ کا مرکز بنی جس میں دونوں کمسن بچیاں جائے وقوعہ پر خوف اور صدمے کی حالت میں کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے چہروں پر نمایاں خوف نے دیکھنے والوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے ان تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے شدید دکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے علی مرتضیٰ کے والد محمد جمیل اب بھی صدمے کا شکار نظر آئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ’میرا بیٹا بلوچستان کو اپنا ہی ملک اور اپنا ہی گھر سمجھ کر گیا تھا۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ وہ علاقہ غیر محفوظ ہے تو ہم اپنے بچوں کو کبھی وہاں نہ بھیجتے۔‘
علی مرتضیٰ بیوی بچوں کے ساتھ کوئٹہ چھٹیاں گزارنے گئے تھے
انہوں نے کہا کہ اگر وہاں (بلوچستان کے) حالات اتنے خراب ہیں اورراستے محفوظ نہیں تو لوگوں کو وہاں جانے سے کیوں نہیں روکا جاتا۔ لوگوں کو بتایا کیوں نہیں جاتا کہ وہ نہ جائے ۔’میرا بچہ تو چلا گیا مگر میں نہیں چاہتا کہ کسی اور کے ساتھ ایسا ہ اس لیے میری سب سے درخواست ہے کہ وہاں کوئی نہ جائے۔‘
سفر جو خوشیوں سے شروع ہوا
علی مرتضیٰ کراچی کے علاقے ناظم آباد کے رہائشی تھے اور موبائل فون کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ دونوں میاں بیوی اپنی آلٹوگاڑی میں چار سالہ بیٹی علینہ اور چھ سالہ بیٹی علیزہ کے ساتھ محرم کی تعطیلات میں کوئٹہ اور زیارت کی سیر کے لیے آئے تھے۔
علیٰ مرتضیٰ کے والد محمد جمیل کے مطابق بیٹے، بہو اور پوتیوں نے تین روز تک کوئٹہ اور زیارت میں خوشگوار وقت گزارا۔ انہوں نے مختلف تفریحی مقامات کی سیر کی اس دوران علی مرتضیٰ مسلسل اپنے اہلِ خانہ کو تصاویر اور ویڈیوز بھیجتے رہے۔
ان کے بقول ’علی مرتضیٰ بہت خوش تھا ۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگااور وہ زندہ نہیں لوٹے گا ۔‘
کوئٹہ میں ان کے میزبان احسان خان تھے جو خود بھی موبائل کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ انہوں نےا ردو نیوز کو بتایا کہ علی مرتضیٰ سے ان کی دوستی موبائل فون کے کاروبار کے سلسلے میں ہونےوالی جان پہچان سے شروع ہوئی تھی۔
احسان خان بتاتے ہیں کہ علی مرتضیٰ بدھ 24 جون یعنی آٹھ محرم کو اپنی اہلیہ اور دو کم عمر بیٹیوں کے ہمراہ کوئٹہ پہنچے تھے،اگلے دن ہم انہیں ہنہ جھیل اور کوئٹہ کے مختلف مقامات پر لے گئے۔جمعہ 26 جون کو زیارت گئے جہاں انہوں نے کافی وقت گزارا۔ وہ بہت خوش تھے اور ہر چیز سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
میزبان کا کہنا ہے کہ فیملی کو رات کے وقت سفر سے منع بھی کیا تھا
احسان خان کے مطابق علی مرتضیٰ خصوصی طور پر زیارت گھومنے آئے تھے جہاں گرمیوں میں موسم ٹھنڈا اور خوشگوار رہتا ہے اور پاکستان کے بانی قائداعظم ریذیڈنسی بھی واقع ہے ۔
’علی مرتضیٰ رات کو ہی سفر کرنے پر بضد تھے ‘
احسان خان کے مطابق زیارت سے واپسی پر ر ات کو ہم نے ان کے لیے کھانے کا اہتمام کیا تھا۔ کھانے کے بعد انہوں نے کراچی روانہ ہونے کا کہا تو ہم نے بہت اصرار کیا کہ رات کو سفر نہ کریں ۔ ہم نے مذاق میں یہ تک کہا کہ گاڑی کا کوئی وائر نکال دیتے ہیں تاکہ آپ نہ جا سکیں۔
ان کے مطابق عائشہ نے بھی شوہر کو رک جانے کا مشورہ دیا کیونکہ ہم انہیں مسلسل رات کے سفر سے منع کر رہے تھےمگر علی مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی میں صبح ان کا ایک ضروری کام ہے، اس لیے مزید نہیں رک سکتے ۔ اس طرح رات تقریباً گیارہ بجے وہ اپنی اہلیہ اور دونوں بیٹیوں کے ساتھ کراچی کے لیے روانہ ہو گئے۔
ان کے بقول ’ہم نے پشتون روایات کے مطابق ان کی بھرپور مہمان نوازی کی جس پر وہ بہت خوش تھے اور ہمیں بھی فیملی کے ہمراہ کراچی آنے کی دعوت دی ۔‘
احسان خان کا کہنا تھا کہ’اگر ہمیں ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے تو ہم کسی صورت انہیں جانے نہ دیتے۔‘
خوفزدہ بچیوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں
راستہ کیسے بھٹکے؟
کوئٹہ کے جنوبی حصے سے دو اہم شاہراہیں نکلتی ہیں۔ ان میں این 25 (آر سی ڈی شاہراہ) کراچی جانے کے لیے مرکزی، مختصر اور نسبتاً محفوظ راستہ سمجھی جاتی ہے جو لکپاس، مستونگ، قلات، خضدار ، لسبیلہ اور حب سے ہوتی ہوئی کراچی تک پہنچتی ہے۔ دوسری جانب این 65 سریاب، دشت مستونگ، کولپور، بولان اور سبی سے گزرتے ہوئے سکھر کی طرف جاتی ہے۔
اگر کوئٹہ میں مغربی بائی پاس سے سفر شروع کیا جائے تو راستہ براہِ راست این 25 پر جا نکلتا ہے تاہم شہر کے اندر سے سریاب روڈ اختیار کرنے کی صورت میں کسٹمز کے مقام پر شاہراہیں الگ ہو جاتی ہیں۔ یہاں سے ایک سڑک لکپاس کے راستے این 25 کی جانب مڑتی ہے جبکہ دوسری سیدھی این 65 پر آگے بڑھتی ہے۔
پولیس کے مطابق بظاہر علی مرتضیٰ سریاب روڈ پر سفر کرتے ہوئے اس مقام پر مرکزی شاہراہ کی طرف مڑنے کے بجائے سیدھے آگے نکل گئے اور دشت مستونگ کی سمت این 65 پر سفر جاری رکھا۔
اسی راستے پر چند کلومیٹر آگے میاں غنڈی لنک روڈ آتا ہے جو دوبارہ این 65 کو این 25 سے ملاتا ہے اور نسبتاً محفوظ راستہ سمجھا جاتا ہے تاہم پولیس کے مطابق علی مرتضیٰ کی گاڑی اس موڑ سے بھی آگے نکل گئی۔
چند کلومیٹر مزید سفر کے بعد ایک اور لنک روڈ آتا ہے جو کراچی جانے والی این 25 شاہراہ سے جا ملتا ہے لیکن یہ راستہ عاصم آباد، کھنڈ اور دشت کمبیلا کے غیر آباد اور سکیورٹی کے لحاظ سے حساس علاقوں سے گزرتا ہے ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ راستہ بھٹکنے کے بعد علی مرتضیٰ اسی لنک روڈ پر پہنچ گئے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔
پولیس تھانہ دشت میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق واقعہ دشت کمبیلا کے لنک روڈ پر پیش آیا جو دشت تھانے سے تقریباً 15 سے 16 کلومیٹر دور واقع ہے۔ دشت تھانہ کوئٹہ سے تقریباً 25کلومیٹر دور ہے اس طرح یہ مقام کوئٹہ سے 40کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
مستونگ پولیس کے ایک افسر کے مطابق اس علاقے کو بدامنی کی وجہ سے حساس اور کالعدم بلوچ مسلح تنظیموں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ مقامی لوگ دن کے اوقات بھی یہاں غیر ضروری آمدورفت سے گریز کرتے ہیں ۔رات کو تو اس علاقے کے لوگ گھروں سے ہی نکلنے سے گریز کرتے ہیں۔ فورسز بھی عموماً مکمل تیاری اور حفاظتی اقدامات کے بغیر اس علاقے میں نہیں جاتیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران اس علاقے اور اس کے گردونواح میں مسلح گروہوں کی ناکہ بندیوں، سکیورٹی فورسز پر حملوں، پولیس چوکیوں اور تھانوں کو نشانہ بنانے، ریلوے ٹریک پر بم دھماکوں اور مسافر ٹرین پر حملوں کے درجنوں واقعات پیش آ چکے ہیں۔حالیہ مہینوں میں ان حملوں اور سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ اس علاقے میں رات کے اوقات اکثر مسلح افراد موجود رہتے ہیں اور کسی بھی آنے جانےوالی گاڑی کو روک کر تلاشی لیتے ہیں۔ اگر کوئی گاڑی نہیں رکتی تو ان پر فائر کھولنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
فائرنگ کیسے ہوئی؟
دشت تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق عائشہ علی نے پولیس کو بتایا کہ راستے میں کافی تعداد میں نامعلوم مسلح دہشتگردوں نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا۔ گاڑی نہ روکنے پر دہشتگردوں نے فائرنگ کر دی۔‘
دشت پولیس تھانے کے ایس ایچ او اختر محمد سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ موقع پر پہنچنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ گاڑی سڑک سے نیچے اتری ہوئی تھی جس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ڈرائیور نے مسلح افراد کو دیکھ کر واپس پیچھے بھاگنے کی کوشش کی تاہم حملہ آوروں نے پیچھے سے فائرنگ کی ۔ علی مرتضیٰ کو بھی زیادہ تر گولیاں پیچھے سے لگی تھیں ۔ان کے مطابق گاڑی پر گولیوں کے متعدد نشانات پائے گئے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود علی مرتضیٰ کی موقع پر ہی موت ہوگئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ خاتون شدید صدمے میں تھیں اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ان کا کافی زیادہ خون بہہ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھیں جبکہ خون میں لت پت اپنے ماں باپ کو دیکھ کر ان کی چھوٹی بیٹیاں بہت ڈری اور سہمی ہوئی تھیں ۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی نے اس واقعے کے حوالے سے کالعدم مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے) ٌ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے لیکن اب تک بی ایل اے سمیت کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ علی مرتضیٰ اپنی گاڑی میں مبینہ طور پر سمگل شدہ سامان لے جا رہے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے سکیورٹی چوکیوں سے بچنے کے لیے غیر آباد راستہ اختیار کیا۔
تاہم کوئٹہ میں ان کے میزبان اوردوست احسان خان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔
’گوگل میپ کی غلط رہنمائی سے راستہ بھٹکے‘
ایف آئی آر کے مطابق عائشہ علی نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور بیٹیوں کے ہمراہ کوئٹہ سے کراچی کے لیے اپنی گاڑی میں روانہ ہوئے مگر راستہ بھٹک گئے جس پر انہوں نے گوگل میپ کا سہارا لے لیا اور لنک روڈ پر سفر شروع کیا جہاں مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا۔
کوئٹہ میں ان کے میزبان احسان خان نے بھی بتایا کہ علی مرتضیٰ کو کوئٹہ کے راستوں کا زیادہ علم نہیں تھا اس لیے وہ گوگل میپ کا سہارا لے رہے تھے مگراس دن دسویں محرم کی وجہ سے انٹرنیٹ متاثر تھا جس کی وجہ سے کافی مشکل پیش آرہی تھی۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کراچی کا یہ مہمان خاندان گوگل میپ استعمال کرتے ہوئے غلط رہنمائی کی وجہ سے راستہ بھٹک گیا تھا۔
مدد پہنچنے میں کتنی دیر لگی؟
اہلخانہ کے مطابق حملے کے بعد عائشہ زخمی حالت میں کئی گھنٹوں تک بے یار و مددگار وہیں موجود رہیں۔
علی مرتضیٰ کے والد محمد جمیل کے مطابق بہو نے فون کرکے بتایا کہ علی دم توڑ چکے ہیں مجھے بھی پانچ گولیاں لگی ہیں۔بہت زخمی ہوں کہیں میری بھی آنکھ بند نہ ہوجائیں میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ پانچ گھنٹے گزرنے کے بعد بھی مدد کے لیے کوئی نہیں آیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ علیٰ مرتضیٰ کو ڈھونڈنے جب ان کے دوست گئے تو انہیں بھی آگے جانے سے روکا گیا اور صبح ہونے تک انتظار کرنے کا کہا گیا۔
اہلخانہ کے مطابق انہوں نے پولیس کنٹرول اور سب کو اطلاع دی مگر انہوں نے کہا کہ یہ نو گو ایریا ہے روشنی ہونے نہیں جاسکتے۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو رات تقریباً ڈھائی بجے واقعے کی اطلاع ملی۔تاہم مقتول کے دوست احسان خان کا کہنا ہے کہ علی مرتضیٰ کی اہلیہ نے رات بارہ بجے سے ایک بجے کے درمیان واقعہ کی اطلاع دی۔
انہوں نے بتایا کہ روانگی کے تقریباً ایک گھنٹے بعد میرے بھائی نے علی مرتضیٰ کو فون کیا تو انہوں نے نہیں اٹھایا جس پر ہمیں تشویش ہوئی اور مسلسل فون کرتے رہے ۔ ’متعدد کوششوں کے بعد باجی نے (علیٰ مرتضیٰ کی اہلیہ ) نے فون اٹھایا اور بتایا کہ انہیں گولیاں لگی ہیں۔ آپ لوگ مدد کے لیے آجائیں۔
’ہم نے پوچھا کیا کہ کس نے اور کیوں مارا ۔باجی نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ کس نے فائرنگ کی اور نہ ہی یہ علم ہے کہ ہم کس مقام پر ہیں، بس ایک کچے راستے پر ہیں اور وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ہمارا رابطہ تقریباً بارہ سے ایک بجے کے درمیان ہوا تھا اس طرح چار پانچ گھنٹوں تک ادھر اسی طرح بے یارو مددگار پڑی رہیں۔ اس نے اپنی فیملی اور کئی لوگوں کو مدد کے لیے کالیں کیں ۔
مستونگ پولیس کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کو ایک بجے کے بعد متاثرہ خاندان کے موبائل نمبر سے اطلاع ملی انہوں نے بار بار مدد کی اپیل کی مگر زخمی خاتون اجنبی ہونے کی وجہ سے درست مقام نہیں بتاسکی جس کی وجہ سے انہیں تلاش کرنے میں مشکل پیش آئی ۔
ان کے مطابق یہ علاقہ رات کے وقت انتہائی خطرناک ہوتا ہے اس لیے بعد میں جائے وقوعہ کی نشاندہی ہونے کے بعد بھی صبح ہونے کا انتظار کیا گیا۔
احسان خان نے بتایا کہ ہم ان کی تلاش کے لیے خود نکلے وہ ہمارے مہمان تھے ہمیں بہت پریشانی ہوئی اس کے بعد پوری رات انہیں ڈھونڈتے رہے۔ ہم کراچی جانےوالی مرکزی شاہراہ پر لکپاس تک گئے لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے خطرے کی وجہ سے آگے جانے سے منع کردیا ۔ہم صبح تک سڑک پر بیٹھے رہے ۔ صبح جاکر پولیس اہلکار موقع پر پہنچی اور ساڑھے پانچ چھ بجے پولیس نے ہمیں فون کیا اور کہا کہ آپ موقع پر پہنچ جائیں۔ میں اور بھائی موقع کی طرف جاتے ہوئے سریاب میں راستے میں انہیں ملے جب انہیں ہسپتال لایا جارہا تھا ۔
بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پولیس کو جیسے ہی اطلاع ملی وہ موقع کی طرف روانہ ہوگئی تھی اور لاش اور زخمی کو بھی پولیس نے ہی ہسپتال پہنچایا۔
سول ہسپتال کوئٹہ کے ذرائع کے مطابق لاش اور زخمی کو صبح تقریباً سات بجے ہسپتال پہنچایا گیا جہاں زخمی خاتون کو ابتدائی طبی امداد دی گئی ۔ لاش ضروری کارروائی کے بعد کراچی سے آنے والے ان کے رشتہ داروں کے حوالے کی گئی۔ وہ زخمی اور بچیوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
سول ہسپتال کوئٹہ میں لاش اور زخمی کا معائنہ کرنے والے ایک ڈاکٹر کے مطابق علی مرتضیٰ کو چھ سے سات گولیاں کمر اور پیٹھ پر لگی تھیں۔ جبکہ ان کی اہلیہ عائشہ کو بھی گولیاں لگی تھیں ۔ ایک گولی سر پر جلد کو چھوتی ہوئی بھی گزری تھی ۔ان کی چھوٹی بیٹی کو بھی ران میں بھی کوئی پرزا لگنے سے معمولی زخم لگا تھا۔ڈاکٹر کے مطابق خاتون کو شدید ذہنی صدمہ لگا تھا اور وہ بمشکل بات کرپارہی تھی۔
احسان خان کے مطابق عائشہ کے سامنے ان کے شوہر کو قتل کیا گیا جبکہ وہ خود بھی گولیوں کا نشانہ بنیں اس کے باوجود انہوں نے پوری رات ایک اجنبی اور ویران علاقے میں شدید درد اور کرب کے عالم میں اپنے شوہر کی لاش کے پاس رہ کر کمسن بیٹیوں کو سنبھالا ، انہوں نے بہت بہادری کا مظاہرہ کیا ۔
تحقیقات اور حکومتی ردعمل
پولیس نے سب انسپکٹر خوشی محمد کی مدعیت میں پولیس تھانہ دشت میں نامعلوم افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ ، اقتل اور اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے کہا ہے کہ تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
ایس پی مستونگ اللہ بخش کے مطابق جائے وقوعہ سے کلاشنکوف کے خول بھی ملے ہیں جنہیں تحویل میں لے کر تفتیش کی جارہی ہے۔
دوسری جانب حکومت بلوچستان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ خاندان سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔ وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت نہیں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار اور سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعہ کے دو دن بعد سکیورٹی اداروں نے دشت کمبیلہ میں آپریشن کیا جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تنظیم کے متعددارکان مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
محکمہ داخلہ کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی کے مطابق حکومت بلوچستان نے لاش کراچی منتقل کیا جبکہ زخمی خاتون کو کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج سرکاری اخراجات پر جاری ہے۔ بابر یوسفزئی کے مطابق حکومت متاثرہ خاندان کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔
تاہم علی مرتضی کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود میت اور زخمی کو بائی ایئر کراچی منتقل کیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر بلوچستان کے ایک ڈپٹی کمشنر اور ایک ایس پی نے کراچی جاکر اہلِ خانہ سے تعزیت کی جبکہ ہسپتال جاکر خاتون کی خیریت دریافت کی۔ہسپتال میں خاتون کی عیادت کرنےوالے بلوچستان کے ضلع حب کے پولیس سربراہ ایس پی مرزا بلال حسین نے بتایا کہ خاتون کی حالت اب کافی بہتر ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بلوچستان حکومت نے اہلخانہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مقتول کی بیٹیوں کو حکومتی خرچ پر تعلیم دلائی جائے گی۔
’انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کی آخری ویڈیو ہوگی‘
علی مرتضیٰ نے اپنے کوئٹہ اور زیارت کے سفر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جن میں وہ اپنی اہلیہ اور دو کمسن بیٹیوں کے ساتھ خوشگوار لمحات گزارتے نظر آتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں وہ کوئٹہ کے معروف تفریحی مقام ہنہ جھیل پر اہلِ خانہ کے ساتھ سیر کر رہے ہیں جبکہ دیگر مناظر میں بچیوں کے ساتھ کڈز پلے ایریا اور مختلف سیاحتی مقامات پر وقت گزارتے دکھائی دیتے ہیں۔ گاڑی میں سفر کے دوران ان کی اہلیہ اگلی نشست پر جبکہ دونوں بیٹیاں پچھلی نشست پر بیٹھی نظر آتی ہیں اور پورا خاندان خوش اور مطمئن دکھائی دیتا ہے۔
ان ویڈیوز میں کوئٹہ کے معروف ریسٹورنٹ ’’کابل جان‘‘ کے مناظر بھی شامل ہیں۔ اس ریسٹورنٹ کے مالک ہاشم نورزئی بھی علی مرتضیٰ کے قتل کے چند گھنٹوں بعد سنیچر کی صبح کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
علی مرتضیٰ کی زیادہ تر ویڈیو ز اپنے موبائل فون کے کاروبار سے متعلق ہوتی تھی تاہم انہوں نے آخری ویڈیو کوئٹہ کے سفر کی شیئر کی تھی جس پر ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ انہیں علم نہیں تھا کہ یہ ان کی آخری ویڈیو ہوگی۔
کوئٹہ میں ان کی میزبانی کرنے والے احسان خان کے مطابق علی مرتضیٰ کی میت وصول کرنے کے لیے ان کی والدہ، بہن اور اہلیہ کا بھائی کوئٹہ آئے۔ ’جن لوگوں کو ہم نے خوشی خوشی رخصت کیا تھاانہی کے اہلِ خانہ کا اس حال میں سامنا کرنا ہمارے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔دل چاہ رہا تھا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں دھنس جائے ‘
احسان خان کہتے ہیں کہ اس صدمے نے ہر درد دل رکھنے والے انسان کو صدمہ دیا۔جس نے بھی ان کمسن بچیوں کی دیکھی اسے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ ہماری یہ حالت ہے تو سوچیں جس خاندان پر یہ گزررہی ہے ان کی کیا حالت ہوگی۔