شمالی کوریا کے کِم جونگ اُن نے رابطوں کا جواب دیا ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ
شمالی کوریا کے کِم جونگ اُن نے رابطوں کا جواب دیا ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ
منگل 18 اگست 2026 6:25
صدر ٹرمپ کے پچھلے دور حکومت میں ان کی کم جونگ اُن کے ساتھ دو ملاقاتیں ہوئیں (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ان کی جانب سے کیے گئے رابطوں کا جواب دیا ہے۔
یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس حکم کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں محدود کرنے کا کہا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کے کم جونگ اُن کے ساتھ تعلقات کو اس بار وائٹ ہاؤس کی جانب سے پچھلی مدت صدارت کے مقابلے میں کم اہمیت دی گئی ہے۔
پہلی مدت کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں ہوئی تھیں جبکہ ایک دوسرے کو خطوط بھی بھیجے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس بار بھی بارہا یہ دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ براہ راست سفارت کاری شروع کرنا چاہتے ہیں۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کم جونگ نے ان کے دوبارہ رابطوں کا جواب کیوں نہیں دیا۔
اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے جواب دیا ہے۔‘ مگر اس کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کا حکم دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
وائٹ ہاؤس کے حکام اور نیویارک میں اقوام متحدہ کے شمالی کوریا کے مشن نے اس بارے میں تبصرے کے لیے بھجوائی گئی درخواستوں کا جواب دیا۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو پینٹاگون کو ہدایت کی تھی کہ جنوبی کوریا کے ساتھ طے شدہ مشترکہ فوجی مشقوں میں ’نمایاں کمی‘ کی جائے۔
انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ جنوبی کوریا نے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوشش میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا ہے جبکہ ایک وجہ ان مشقوں پر اٹھنے والے اخراجات کو بھی قرار دیا تھا۔
دوسری جانب شمالی کوریا مشترکہ مشقوں کی مذمت کرتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے تعلقات رہے۔ دونوں کے درمیان 2018 اور 2018 میں ملاقاتیں ہوئیں تاہم پیانگ یانگ کو جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ سلسلہ رک گیا تھا۔
کِم جونگ اُن چین اور روس کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
شمالی کوریا کو اپنے جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائلوں کی وجہ سے بھی عالمی سطح پر سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔
پچھلے برس کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے ’بھائی اور صدر ٹرمپ کے درمیان ذاتی تعلقات برے نہیں۔‘
تاہم ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن ان تعلقات کو پیانگ یانگ کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تو یہ کوشش ’محض مذاق‘ بن کر رہ جائے گی۔
2019 میں صدر ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان ہونے والی آخری ملاقات کے بعد سے شمالی کوریا نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات خاصے مضبوط کیے ہیں جبکہ چین کے ساتھ قریبی تعلقات کا سلسلہ برقرار ہے۔
شمالی کوریا کے فوجی یوکرین جنگ کے دوران روسی فوج کے ساتھ مل کر لڑ چکے ہیں۔
پچھلے ہفتے یوکرین کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ زاپوریژیا میں ایک سٹیل پلانٹ پر روسی بیلسٹک میزائل حملے میں شمالی کوریا کے تیار کردہ میزائل بھی استعمال کیے گئے تھے۔