انڈین شہر چندی گڑھ کا ’پیٹرول لنگر‘ سب کی توجہ کا مرکز، ’اگلی بار مفت آئی فون‘
انڈین شہر چندی گڑھ کا ’پیٹرول لنگر‘ سب کی توجہ کا مرکز، ’اگلی بار مفت آئی فون‘
منگل 18 اگست 2026 9:47
رپورٹس کے مطابق آنے والے دنوں میں ’آئی فون لنگر‘ کا اہتمام بھی ہو سکتا ہے (فوٹو: ٹیکنالوجی ڈاٹ کام)
ایک ایسے وقت میں جب دنیا میں پیٹرول مہنگے سے مہنگا ہوتا جا رہا ہے انڈیا کے ایک شہری نے ’پیٹرول لنگر‘ لگانے کا اعلان کیا ہے جس کا سلسلہ آج سے شروع ہو گا۔
ٹریبیون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس کا اہتمام امرتسر سے تعلق رکھنے والے راکیش تریہان نے کیا ہے جن کو ’راجہ دی کنگ‘ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔
پیٹرول لنگر سکیم کے تحت چندی گڑھ میں پیٹرول مخصوص پمپس پر دستیاب ہو گا۔
راکیش تریہان کی جانب سے جاری کیے گئے ویڈیو بیان میں بتایا گیا ہے کہ لوگ اس کے لیے فری کوپن حاصل کر سکتے ہیں۔
پیٹرول کی مفت تقسیم کی اس مہم کا آغاز آج شام پانچ بجے چندی گڑھ سے ہو گا۔ اس حوالے سے ہونے والی تقریب میں لوگوں کو 500 اور ایک ہزار کے کے کوپن دیے جائیں گے جن کے ذریعے وہ مفت پیٹرول ڈلوا سکیں گے۔
چیئرٹی کی یہ منفرد مہم عوام میں مقبول ہو رہی ہے کیونکہ اس میں لنگر کے تصور کو کھانے پینے کی چیزوں سے آگے بڑھاتے ہوئے روزمرہ استعمال کی ایک ایسی چیز تک پہنچا دیا ہے جو آئے روز مہنگی ہوتی رہتی ہے۔
لنگر کا اہتمام کرنے والے راکیش تریہان اس سے قبل بھی چیئرٹی کی منفرد مہمیں چلا چکے ہیں (فوٹو: ٹریبیون انڈیا)
’پیسوں کے لنگر‘ سے ’پیٹرول لنگر‘ تک
راکیش تریہان اس سے قبل بھی امرتسر اور چندی گڑھ میں چیئرٹی کی غیر روایتی مہمیں چلا چکے ہیں۔
کچھ عرصہ پیشتر انہوں نے ایسا ہی ایک لنگر چلایا تھی جس میں لوگوں کو مفت کھانا دینے کے علاوہ نقد رقم بھی دی جاتی تھی۔
اس کے لیے چند فاسٹ فوڈ ریستوران منتخب کیے گئے تھے جہاں جانے والوں کو برگر اور کولڈ ڈرنکس دی جاتیں جبکہ جاتے ہوئے 500 انڈین روپے بھی دیے جاتے تھے۔
آئی فون لنگر کی تیاری
پیٹرول لنگر کی اس مہم کے بعد بھی راکیش تریہان کی جانب سے دیے جانے ’لنگرز‘ کا سلسلہ شاید نہ رکے کیونکہ اب ’آئی فون لنگر‘ کی تیاری کی جا رہی ہے جس کے تحت مفت آئی فون تقسیم کیے جائیں گے۔
راکیش تریہان کے مطابق مفت پیٹرول کے لیے لوگوں کو کوپن دیے جائیں گے (فوٹو: چندی گڑھ لائف)
تاہم اس کے لیے کسی تاریخ، آئی فونز کی تعداد اور اہل افراد کی شرائط کے حوالے سے تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی۔
جب راکیش تریہان سے پوچھا گیا کہ ایسی سرگرمیوں کے لیے ان کے پاس رقم کہاں سے آتی ہے تو ان کہنا تھا کہ وہ اس کے لیے بٹ کوائن کی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ مختص کرتے ہیں۔
وہ کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے وابستہ ہیں جبکہ ان کا خاندانی پس منظر ٹیکسٹائل کی صنعت سے منسلک ہے۔
لنگر کے تصور کو پیٹرول، نقد رقم اور ممکنہ طور پر سمارٹ فونز تک وسعت دینے کے اس سلسلے نے شہریوں میں دلچسپی کی خاصی لہر پیدا کی ہے اور اس بارے میں آن لائن بھی تبصرے ہو رہے ہیں۔