فلپائن: طالب علم کی جانب سے سکول میں فائرنگ کی براہِ راست ویڈیو نشر، پھر خُودکشی کرلی
فلپائن کے جنوبی علاقے میں ایک طالب علم نے منگل کو کلاس رُوم میں دوسرے طالب علم کو گولی مار کر قتل کرنے کی ویڈیو براہِ راست نشر کی اور اس کے بعد خودکشی کرلی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز فلپائن کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ یہ ملک میں قریباً دو ماہ سے بھی کم عرصے میں سکول میں فائرنگ کا دوسرا واقعہ ہے۔
فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واقعے کی تحقیقات کرنے اور سکولوں میں تشدد روکنے کے لیے اقدامات تجویز کرنے کا حکم دیا ہے۔
صدر مارکوس کا کہنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے، ترقی کرنے اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھنے کے لیے بھیجتے ہیں، لہٰذا ملک میں سکولوں کا شمار محفوظ ترین مقامات میں ہونا چاہیے۔
فائرنگ کا یہ واقعہ زمبوانگا شہر میں واقع ایک نجی ایک سکول میں پیش آیا، پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملہ آور سکول کے کیمپس میں ایک پستول اور ایک رائفل لےکر آیا تھا اور اُس نے کلاس رُوم میں موجود طلبہ پر فائرنگ کردی۔
زمبوانگا کے میئر ہائمر ادن اولاسو نے ڈی زید بی بی ریڈیو کو بتایا کہ حملہ آور نے اپنے جسم پر لگے کیمرے کے ذریعے حملے کی ویڈیو براہِ راست نشر کی۔
روئٹرز نے حملہ آور کی جانب سے ویڈیو براہِ راست نشر کرنے (لائیو سٹریم ویڈیو) کی تصدیق کی ہے۔ ویڈیو میں وہ ایک کلاس رُوم میں داخل ہو کر فائرنگ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اس کے بعد وہ ہتھیار تبدیل کر کے دوسرے کلاس رُوم میں داخل ہوتا ہے اور وہاں پر وہ مزید گولیاں چلاتا ہے۔ ویڈیو میں ایک طالبِ علم کو زمین پر گرے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
فوری طور پر حملے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی، تاہم کسٹمز کے ایک اعلٰی عہدیدار نے بتایا کہ حملہ آور نے 40 کیلیبر کا پستول استعمال کیا، جو کسٹمز بیورو کی جانب سے طالب علم کے والد، جو کسٹمز کے افسر ہیں، کو جاری کیا گیا تھا۔
بعد ازاں فائرنگ کرنے والے طالب علم کے والد کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ جائے وقوعہ سے ملنے والا دوسرا ہتھیار بھی حملہ آور کے والد کی ملکیت تھا اور اس کا لائسنس موجود تھا۔
جی ایم اے نیوز نے ویڈیو کو دُھندلا کر کے نشر کیا تھا، ویڈیو میں کلاس رُوم کے اندر افراتفری دیکھی جا سکتی ہے اور طلبہ، گولیوں کی آوازیں سُن کر نیچے جُھکتے اور چُھپتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
پولیس کے مطابق فائرنگ سے مرنے والا طالب علم دسویں جماعت جبکہ حملہ آور نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور نے بعد میں خودکشی کرلی۔ فائرنگ کے اس واقعے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے۔
شہر کے کونسلر فریڈرک آتیلانو نے پولیس کی فراہم کی کردہ معلومات کے حوالے سے بتایا کہ مقتول طالب علم کی نعش سکول کی چوتھی جبکہ حملہ آور کی نعش پانچویں منزل سے ملی، جہاں اُس نے خودکشی کی تھی۔
فائرنگ کی آوازیں سُن کر سکول سے بھاگنے کی کوشش کے دوران کئی طلبہ زخمی ہوگئے جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم کسی اور ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام نے بتایا کہ واقعے کے بعد سکول کی کلاسز معطل کردی گئیں۔
روئٹرز کی تصدیق شُدہ سوشل میڈیا ویڈیو میں سکول کے طلبہ کو عمارت سے باہر بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پس منظر میں گولیوں کے چلنے کی آوازیں بھی سنائی دیں۔
