Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدیوں پرانے ’مقدس‘ پتھر چُرانے میں معاونت کے الزام پر سری لنکا کے سابق وزیر گرفتار

سابق وزیر کے خلاف ریاستی ہسپتالوں کے لیے جعلی ادویات کی خریداری کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)
سری لنکا کے ایک سابق وزیر کو ملک کے آخری سنہالی بادشاہ کے محل سے صدیوں پرانے مقدس پتھر کی چوری میں مبینہ مدد کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اینٹی کرپشن ادارے کمیشن ٹو انویسٹی گیٹ الیگیشنز آف برائبری اینڈ کرپشن (سی آئی اے بی او سی) نے سابق وزیر کیہیلیا رامبوکویلا کو منگل کے روز حراست میں لیا۔
سابق وزیر پر الزام ہے کہ انہوں نے ’دسمبر 2022 میں ایک قیمتی تاریخی مون سٹون کی چوری میں سازش کی، مدد فراہم کی اور پولیس تحقیقات میں بھی رکاوٹ ڈالی۔‘
یہ بھاری، گول اور نقش و نگار سے مزین گرینائٹ پتھر سری لنکا کے آخری سنہالی بادشاہ ویرا پراکرما نریندر سنگھے کے محل کے داخلی راستے کا حصہ تھا، جن کی حکومت سنہ 1739 تک قائم رہی۔
اینٹی کرپشن ادارے نے بتایا کہ ’رامبوکویلا پر سرکاری فنڈز استعمال کرتے ہوئے اپنے نجی کاروبار کے لیے چھ افراد کو ملازمت دینے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔‘
سابق وزیر کے خلاف ریاستی ہسپتالوں کے لیے جعلی ادویات کی خریداری سے متعلق ایک الگ مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔ پولیس کے مطابق، بطور وزیر صحت انہوں نے کینسر کے علاج کے لیے ایک جان بچانے والی دوا کی خریداری کی منظوری دی تھی، جو بعد میں پانی نکلی۔
اس مبینہ ادویات سکینڈل میں وزارت صحت کے کئی دیگر اعلیٰ حکام پر بھی فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔
کیہیلیا رامبوکویلا اس وقت سری لنکا کے وزیر صحت تھے جب اپریل 2022 میں 46 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی اور دیوالیہ ہونے کے اعلان کے بعد ملک کو ادویات کی شدید قلت کا سامنا تھا۔

شیئر: