Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

 ’وصل‘ پورٹل کیا ہے اور یہ آپ کو سرکاری دفاتر کے چکر لگوانے سے بچا سکتا ہے؟

پاکستان میں ذاتی معلومات کا ڈیٹا چوری ہو جانے کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں: فائل فوٹو
پاکستان میں ڈیجیٹل پرائیویسی اور نجی معلومات کا تحفظ ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے، جہاں عام شہریوں کو اکثر یہ علم ہی نہیں ہو پاتا کہ ان کا ذاتی ڈیٹا کس سرکاری محکمے کے پاس محفوظ ہے اور اسے کب، کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
تاہم اب شہریوں کی پرائیویسی اور ڈیٹا کے عدم تحفظ کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے ایک نئی ’قومی ڈیٹا گورننس پالیسی‘ کا مسودہ تیار کیا ہے۔
اس کے تحت ملک میں پہلی بار سرکاری ڈیٹا کو ’قومی اثاثہ‘ اور عوام کی امانت قرار دیا گیا ہے۔
اس مجوزہ پالیسی کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہریوں کو یہ قانونی حق حاصل ہو جائے گا کہ وہ متعلقہ اداروں سے پوچھ سکیں کہ ان کا ذاتی ڈیٹا کب، کس سرکاری محکمے نے، اور کس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
یہ پالیسی وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری اور گزٹ نوٹیفکیشن کے بعد ملک میں فوری طور پر نافذ العمل ہو جائے گی، جس کی نگرانی پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کرے گی۔
شہریوں کے حقوق، بااختیاری اور پیشگی رضامندی
اس پالیسی کا ایک اہم  مقصد شہریوں کو ان کے ڈیٹا پر مکمل اختیار دینا ہے۔دستیاب  دستاویزات کے مطابق اب کوئی بھی سرکاری ادارہ شہریوں کی باقاعدہ، پیشگی اور مخصوص رضامندی حاصل کیے بغیر ان کی ذاتی معلومات استعمال کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔
اس کے علاوہ اگر کسی شہری کا سرکاری ریکارڈ غلط یا نامکمل ہو تو وہ اس کی درستگی کروانے کا حقدار ہوگا، جبکہ مخصوص استثنائی حالات میں شہریوں کو اپنا ذاتی ڈیٹا سرکاری ریکارڈ سے مستقل طور پر حذف کرانے کا حق بھی حاصل ہوگا۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے ایک نئی ’قومی ڈیٹا گورننس پالیسی‘ کا مسودہ تیار کیا گیا ہے (فوٹو: آئی ٹی منسٹری)

سرکاری دفاتر کے چکروں اور بار بار دستاویزات کی زحمت سے بچائے گا
عام طور پر شہریوں کو مختلف سرکاری محکموں میں ایک ہی طرح کی معلومات اور دستاویزات بار بار جمع کرانی پڑتی ہیں، لیکن اس زحمت سے بچانے کے لیے حکومت اس پالیسی کے تحت محفوظ اور مؤثر ڈیٹا شیئرنگ کا ایک نیا مربوط نظام متعارف کرا رہی ہے۔
 ’وصل‘ نامی اس مرکزی ڈیجیٹل پورٹل کے فعال ہونے سے تمام سرکاری محکمے ایک دوسرے کے ساتھ محفوظ طریقے سے منسلک ہو جائیں گے اور شہریوں کو ایک ہی معلومات بار بار جمع نہیں کرانی پڑے گی۔
غیر ملکی حکام کو ڈیٹا کی فراہمی پر پابندی
پالیسی کے تحت ایک اہم دفاعی اقدام بھی سامنے آیا ہے، جس کے مطابق اگر کوئی غیر ملکی عدالت، ریگولیٹر یا اتھارٹی حکومتِ پاکستان یا کسی پراسیسر (فریق) سے پاکستانی شہریوں یا سرکاری ڈیٹا تک رسائی کا تقاضا کرے گی، تو وہ ادارہ رضاکارانہ طور پر ڈیٹا فراہم کرنے کا مجاز نہیں ہو گا۔
ایسے کسی بھی مطالبے پر فوری طور پر پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو مطلع کیا جائے گا اور ڈیٹا صرف پاکستانی قوانین اور باہمی قانونی معاونت کے معاہدوں کے تحت ہی فراہم کیا جا سکے گا۔
بچوں کے ڈیٹا کی حفاظت
مجوزہ پالیسی میں 18 سال سے کم عمر افراد کو بچہ تسلیم کرتے ہوئے ان کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے خصوصی اور سخت ترین ڈیجیٹل گارڈ ریلز وضع کی گئی ہیں۔ 

ملک میں پہلی بار سرکاری ڈیٹا کو ’قومی اثاثہ‘ اور عوام کی امانت قرار دیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

بچوں کے ذاتی ڈیٹا کی کسی بھی قسم کی پراسیسنگ کے لیے والدین یا قانونی سرپرست کی فعال رضامندی اور عمر کے لحاظ سے واضح نوٹسز کی فراہمی لازمی ہوگی۔
مزید برآں، سرکاری سطح پر بچوں کی پروفائلنگ کرنے یا ان کے آن لائن رویوں پر مبنی اشتہارات چلانے کے لیے ان کا ڈیٹا استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
ادارے اب ’مالک‘ نہیں صرف ’محافظ‘ ہوں گے
نئے ضوابط کے مطابق اب کوئی بھی سرکاری ادارہ ڈیٹا کا 'مالک' نہیں بلکہ صرف 'محافظ' تصور ہوگا اور محکموں کے مابین روایتی یا براہِ راست ڈیٹا شیئرنگ پر پابندی ہوگی۔
ہر محکمے کے لیے ایک 'ایجنسی چیف ڈیٹا آفیسر' کا تعیّن لازمی ہوگا جو ڈیٹا کی سکیورٹی اور میعاد ختم ہونے پر اسے محفوظ طریقے سے ضائع کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ پالیسی کی منظوری کے بعد تمام محکموں کو اپنے مروجہ سسٹمز اس کے مطابق ڈھالنے کے لیے 12 ماہ کی مہلت دی جائے گی۔
پالیسی کے عملدرآمد میں ممکنہ چیلنجز
اسلام آباد میں مقیم ڈیٹا سکیورٹی ایکسپرٹ محمد اسد الرحمان نے حکومت کی اس مجوزہ پالیسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے شہریوں کی پرائیویسی کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا ہے۔ 
اُنہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ڈیٹا پروٹیکشن تبھی ممکن ہوتی ہے جب اس کے لیے باقاعدہ پالیسی اور قوانین موجود ہوں انہوں نے یورپی یونین کے جی ڈی پی آر اور دیگر ممالک کے مخصوص سسٹمز کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہاں ایسے ہی قوانین کے تحت شہریوں کی ڈیٹا سیکیورٹی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

پالیسی کے تحت غیر ملکی حکام کو ڈیٹا کی فراہمی پر پابندی عائد کی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

تاہم انہوں نے اس پالیسی کے نفاذ میں چند بڑے چیلنجز کی نشاندہی بھی کی ہے۔
محمد اسد الرحمان کا کہنا ہے کہ جہاں ’وصل‘ جیسے سینٹرلائزڈ سسٹم سے اداروں کو فائدہ ہوگا، وہیں اس مرکزی نظام کے ہیک ہونے کی صورت میں تمام شہریوں کا ڈیٹا ایک ساتھ خطرے میں پڑ سکتا ہے، اس لیے اسے سائبر حملوں سے فول پروف بنانا ہوگا۔
انہوں نے دوسرا بڑا چیلنج یہ بتایا کہ پاکستان کے کئی سرکاری اداروں میں اب بھی آؤٹ ڈیٹڈ سسٹمز، پرانے سافٹ ویئرز اور ونڈوز استعمال ہو رہی ہیں، ان آؤٹ ڈیٹڈ سسٹمز کے ساتھ اس جدید پالیسی کا الحاق اور ہم آہنگی حکومت کے لیے ایک کٹھن ٹاسک ہوگا، لہٰذا پالیسی کے نفاذ سے پہلے انفراسٹرکچر اور سسٹمز کو اپ گریڈ کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کو سرکاری اداروں اور نجی کمپنیوں میں ’ڈیٹا پروٹیکشن آفیسرز‘ کی تعیناتی کے عمل کو قانون میں مزید واضح اور مضبوط کرنا چاہیے، تاکہ ڈیٹا سیکیورٹی کی کمپلائنس (تعمیل) اور وقت کی ضرورت کے مطابق اس میں بہتری لائی جا سکے۔

شیئر: