Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خواب ٹوٹ گئے‘، جاپان کے نئے ویزا قوانین پرغیرملکی پریشان کیوں؟

ٹوکیو میں بنے ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں نیپالی کھانوں کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے اور گاہک بھی موجود ہیں مگر اس کی مالکن بدھاتھوکی سیمجھانا فکرمند ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپانی حکومت ویزے کے قوانین کو سخت بنا رہی ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ شاید انہیں یہ کاروبار بند کرنا پڑے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اگرچہ جاپان ایک ایسا ملک ہے جہاں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اس کو بہت سے میدانوں میں لیبر کی کمی کا بھی سامنا ہے مگر یہاں امیگریشن کی مخالفت بڑھ رہی ہے اور اسی وجہ سے حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے کاروبار سے متعلق ویزوں کے لیے نئے سخت قوانین متعارف کرائے ہیں۔
نیپال سے تعلق رکھنے والی بدھاتوکی نے اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل کے لیے اس سے دور ٹوکیو میں قریباً ایک دہائی گزاری، اس دوران وہ اپنا کام سیٹ کرتی رہیں۔
ان کو ملک بدری کے خدشات اس لیے ہیں کیونکہ نئے قوانین میں جو تقاضے شامل ہیں انہیں ڈر ہے کہ وہ ان کو پورا نہیں کر پائیں گی۔
38 سالہ بدھاتوکی نے اوکوبو کے علاقے میں اے ایف پی کے بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ان کا ریستوران ہے وہاں ویت نامی، انڈین اور کورین ریستوران بھی موجود ہیں۔
ان کے مطابق ’میں ہمیشہ سے جاپان اور نیپال کے درمیان پل بننا چاہتی تھی لیکن میرا وہ خواب بکھر چکا ہے۔‘
جاپان میں حکومت کی جانب سے سخت قوانین ایک ایسے وقت میں متعارف کرائے گئے ہیں جب جاپان میں کچھ شہری بڑھتی سیاحت اور غیرملکی سرمایہ کاری کے باعث زمینوں کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
جس کے بعد وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے غیر ملکیوں کے لیے مزید سخت ضوابط کی حمایت کی۔

جاپان کے کچھ شہریوں کی جانب سے غیرملکی سرمایہ کاری کے باعث زمین کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

ان کی حکومت نے پچھلے مہینے قریباً 50 برس میں پہلی بار بعض سیاحوں کے لیے ویزا فیس میں نمایاں اضافہ کیا، جس کے بعد سنگل اور ملٹی پل انٹری ویزوں کے اخراجات پانچ گنا بڑھ گئے۔
اگرچہ کاروباری ویزا رکھنے کو نئے ضوابط پر عملدرآمد کے لیے تین سال کی مہلت دی گئی ہے تاہم اوکوبو کے کئی معروف ریستورانوں سمیت متعدد کامیاب کاروباری شخصیات کو بھی خدشہ ہے کہ ان کا نئی شرائط پر پورا اترنا بہت مشکل ہے۔
بدھاتوکی نے تازہ بننے والے نیپالی موموز کی خوشبو سے مہکتے ماحوال میں
بدھاتوکی نے بتایا کہ سب سے بڑا مسئلہ سرمایہ کاری کی کم از کم حد کو 50 لاکھ ین سے بڑھا کر تین کروڑ ین تک بڑھانے کا ہے جس کو پورا کرنا ان کے خیال میں ناممکن ہے۔
بدھاتوکی 2016 میں ایک طالبہ کی حیثیت سے جاپان آئیں اور یہاں ریستوران کھولنے کے لیے کئی برس تک پیسے بچاتی رہیں اور 2023 میں ریستوران کھولا۔
جنوری میں اپنا تیسرا ریستوران کھولنے کے بعد وہ دس سال بعد اپنی 14 بیٹی کو نیپال سے جاپان لے آئیں جو اب ایک جاپانی سکول میں زیرتعلیم ہیں۔

نیپال سے تعلق رکھنے والی بدھاتھوکی کو لگتا ہے کہ انہیں اب کاروبار بند کرنا پڑے گا (فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا ہے کہ انہیں خود سے زیادہ فکر بیٹی کی ہے کہ اس کا کیا ہو گا۔
ان کے مطابق ’جب ویزے کی تجدید کا خیال آتا ہے تو میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے۔‘
انڈین ریستوران کے مالک منیش کمار جو تیس سال سے جاپان میں ہیں، نے بتایا کہ انہیں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ ان کا کاروباری ویزہ ری نیو نہیں کیا جائے گا حالانکہ نئے قوانین پر عمل کے لیے مہلت دی گئی ہے۔
ویزا ماہرین کا کہنا ہے امیگریشن حکام اب پہلے سے زیادہ سخت رویہ اختیار کر رہے ہیں اور درخواست گزاروں سے ٹیکس کی رسیدوں، سوشل انشورنس کی ادائیگی کے ثبوت اور دیگر دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس کی درست وجہ معلوم نہیں، تاہم ویزا امور کے ماہرین کے مطابق امیگریشن حکام اب پہلے سے زیادہ سخت رویہ اختیار کر رہے ہیں اور درخواست گزاروں سے ٹیکس کی رسیدوں، سوشل انشورنس کی ادائیگی کے ثبوت اور دیگر دستاویزات طلب کیے جا رہے ہیں۔

شیئر: