گرمیوں کی راتوں کے دوران حدودِ شمالیہ کے آسمان پر کہکشاؤں کا مسحورکن نظارہ
حدودِ شمالیہ کے ریجن میں گرمیوں کی راتوں کو آسمان، بانہیں کھولے ہوئے چمکتی ہوئی کہکشاں سے روشن ہو جاتا ہے اور لاکھوں ستارے مل کر افق کے ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک مدھم روشنی کی پٹی سے دل کو چھو لینے والے منظر کو جنم دیتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق آسمان پر نمودار ہونے والا یہ خوبصورت جلوہ، فلکیات کے شوقین افراد اور فوٹوگرافرز کو ایک ایسا منفرد موقع فراہم کرتا ہے جس سے وہ سال کے سب سے شاندار آسمانی منظر کا جی بھر کے لطف اٹھا سکتے ہیں۔
فلکیات اور سپیس کلب کے رکن عدنان خلیفہ بتاتے ہیں کہ گرمیوں کے درمیانی حصے میں کہکشاں کے مشاہدے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔ جب گرمیوں کا موسم نصف بیت جاتا ہے تو راتوں کو کہکشاں کا مرکزی حصہ اور اس کے بازو زیادہ روشن ہو کر نظر آتے ہیں۔ اور روشنی کی آلودگی سے دُور، صحرا کی وسعتوں میں تو یہ منظر آنکھوں کے راستے دل میں اُترنے لگتا ہے۔
خلیفہ نے بتایا کہ افق کے دائیں بائیں جو روشن پٹی نظر آتی ہے وہ کہکشاں کا ایک حصہ ہے جس میں اربوں ستارے ہوتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہماری زمین کہکشاں کے بل کھاتے ہوئے بازؤں کے اندر واقع ہے جبکہ گرمیوں کی راتوں میں اِس کا مرکز، جنوبی افق کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ ان گنت ستارے، گیس اور گرد و غبار کے بادل اور تاروں کے جُھرمٹ سب مل کر آسمان پر دکھائی دینے والے خوبصورت فلکی نظاروں میں بدل جاتے ہیں۔

خلیفہ کے مطابق کہکشاں کے نظر آنے والا حصے میں کئی نمایاں فلکی شکلیں اور اجرام ہیں جن میں سب سے صاف نظر آنے والا برجِ عقرب میں ستاروں کا جھرمٹ ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک اور ستارہ بھی، جسے اینٹیئرز کہتے ہیں عقرب میں پایا جاتا ہے جس کی تیز روشنی میں سرخی پائی جھلکتی ہے۔ یہ گرمیوں میں آسمان پر نظر آنے والا سب سے حیرت انگیز نظارہ ہے۔

خلیفہ کہتے ہیں کہ فضا میں آلودگی نہ ہو اور حدودِ شمالی میں مناظر کا سلسلہ کُھلا ہو تو آسمان کی زیبائش اور بھی دلکش نظر آتی ہے جو ستاروں کی تصویریں بنانے اور فلکیات کا مشاہدہ کرنے والے کے لیے مثالی وقت ہوتا ہے۔
گرمیوں میں کہکشاں جب اپنا جمال دکھاتی ہے تو یہ مملکت کا سب سے نمایاں فلکیاتی منظر ہوتا ہے جو شوقین افراد کو سائنسی اور جمالیاتی کشش کے باعث اپنی جانب متوجہ کرتا ہے اور آسمان کی آغوش میں سجے ہوئے یہ دیدہ زیب منظر جنھیں ستارے، چراغ بن کے روشنی کی دل آویز تصویر میں بدل دیتے ہیں، ہمیں کائنات کے حُسن کے سحر میں مبتلا کر دیتا ہے۔