عبدل السید کی امریکی سینیٹ کے مسلمان امیدوار نامزدگی کے باوجود مسلم مخالف نفرت میں اضافہ
عبدل السید کی امریکی سینیٹ کے مسلمان امیدوار نامزدگی کے باوجود مسلم مخالف نفرت میں اضافہ
جمعرات 13 اگست 2026 17:24
عبدل السید مشی گن سے امریکی سینیٹ کا انتخاب لڑنے کے لیے نامزد ہونے والے پہلے مسلمان رہنما ہیں (فوٹو: اے پی)
عبدل السید نے رواں ماہ اُس وقت مشی گن میں نئی تاریخ رقم کر دی، جب وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے امریکی سینیٹ کا انتخاب لڑنے کے لیے نامزد ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے۔ تاہم ان کے بہت سے مسلمان امریکی ہم وطنوں کی خوشی اس احساس کے باعث ماند پڑ گئی کہ ملک کے بیشتر حصوں میں اب بھی مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تعصب اور نفرت موجود ہے۔
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت بعض ری پبلکن رہنماؤں نے فوری طور پر سینیٹ کے لیے نامزد اس مسلمان امیدوار کو اُن کے پورے نام عبدالرحمٰن محمد السید سے پکارنا شروع کر دیا اور انہیں امریکہ کے لیے خطرہ قرار دیا۔
جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والی ری پبلکن رکنِ کانگریس نینسی میس نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’امریکہ میں عوامی عہدہ رکھنے والا ہر مسلمان ایک ٹروجن ہارس اور قومی سلامتی اور ہماری جمہوریہ دونوں کے لیے خطرہ ہے۔‘
عبدل السید کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کے حملے دراصل ان لوگوں کی کمزوری اور بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں جو یہ حملے کرتے ہیں۔‘
تاہم مسلمانوں کے خلاف نفرت صرف سیاسی طبقے تک محدود نہیں۔ ملک کے کئی گروہوں میں اسلام مخالف جذبات کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور کچھ مقامی باشندوں نے نئی مساجد کی تعمیر کی تجاویز کی شدید مخالفت کی ہے۔
ڈلاس کا مضافاتی علاقہ ایک اہم مرکز بن گیا
ٹیکساس کا شہر میک کنی اس کشیدگی کے نمایاں مراکز میں شامل ہے جو ڈلاس-فورٹ ورتھ کے علاقے کا ایک بڑا مضافاتی شہر ہے۔
4 اگست کو سٹی کونسل کے ایک ہنگامہ خیز اجلاس میں اسلام مخالف غصے اور سخت جملوں کے باوجود کونسل نے متفقہ طور پر میک کنی اسلامک ایسوسی ایشن کی جانب سے مجوزہ نئی مسجد، کلاس رومز کی عمارت اور جم کے لیے پیش کیے گئے سائٹ پلان کی منظوری دے دی۔
شمالی کیرولائنا میں نئی مسجد کی منظوری پر غم و غصہ
شمالی کیرولائنا کے شہر مورز وِل میں بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال دیکھنے میں آئی، جہاں ٹاؤن کمشنرز نے 3 اگست کو ایک مجوزہ مسجد کے بارے میں عوامی رائے کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد کیا۔ مسجد کے منصوبے کی پہلے ہی منظوری دی جا چکی تھی اور اس کی تعمیر ابتدائی مرحلے میں تھی۔
اجلاس میں مشتعل رہائشیوں نے اسلام کے خلاف شدید جذبات کا اظہار کیا اور کمشنرز کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران جب یہ منصوبہ آگے بڑھ رہا تھا تو انہوں نے اس کے بارے میں زیادہ کھل کر معلومات فراہم کیوں نہیں کیں۔
مساجد کی تعمیر کی مخالف کے علاوہ کانگریس میں کئی ایسے بل پیش کیے جا چکے ہیں جن کا ہدف اسلام یا مسلمان تھے (فوٹو: واشنگٹن پوسٹ)
اوکلاہوما میں بھی مسلمان رہنما نئی مسجد کی مخالفت کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔
امریکہ میں مساجد کی تعمیر کی مخالفت کوئی نیا مظہر نہیں۔ ٹینیسی کے شہر مرفریسبورو میں 2010 میں مسجد کے منصوبے کو روکنے کے لیے شروع کی گئی کوشش تین سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ عدالتوں میں مقدمہ چلنے کے دوران مسجد بہرحال تعمیر کر دی گئی، تاہم اس عرصے میں مسلم برادری کے ارکان کو عوامی احتجاج، توڑ پھوڑ، آتش زنی اور بم کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
مساجد کی تعمیر کی مخالف کے علاوہ کانگریس میں کئی ایسے بل پیش کیے گئے جن کا ہدف اسلام یا مسلمان تھے۔ بعض ریپبلکن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں بڑے شہروں میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور دہشت گردی سے ان کے ممکنہ روابط پر تشویش ہے۔
ٹیکساس اور فلوریڈا کے ریپبلکن گورنروں نے کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز پر پابندی عائد کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ اس کے دہشت گردی سے روابط ہیں۔ کونسل ان الزامات کی تردید کر چکی ہے اور ریاستی گورنرز کی ان کوششوں کے خلاف مقدمات دائر کرتے ہوئے انہیں آئین کے منافی قرار دیا ہے۔
امریکی مسلم رہنماؤں کے نزدیک یہ اشتعال انگیز بیان بازی دراصل سیاسی طور پر خوف پھیلانے کی ایک کوشش ہے۔