چین: نسلی اتحاد کا قانون بیرونِ ملک تنقید کے باوجود نافذ
چین: نسلی اتحاد کا قانون بیرونِ ملک تنقید کے باوجود نافذ
جمعرات 2 جولائی 2026 11:31
ایمنسٹی نے خبردار کیا ہے کہ یہ قانون نسلی گروہوں کو ’ایک واحد، ریاستی تعریف شدہ قومی شناخت اپنانے پر مجبور کر رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
چین میں بدھ کو ایک نیا نسلی اتحاد کا قانون نافذ ہوگیا ہے، حالانکہ تائیوان، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا تھا کہ یہ قانون آزادیوں، خاص طور پر اقلیتوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’نسلی اتحاد اور ترقی کو فروغ دینے کا قانون‘ کا مقصد نسلی گروہوں میں ایک ’مشترکہ‘ قومی شناخت قائم کرنا ہے، مثلاً چینی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر مزید مضبوط کرنا۔
لیکن بیرونِ ملک مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون نسلی اقلیتوں جیسے اویغور اور تبتیوں کے حقوق کو مزید کمزور کرے گا جن پر بیجنگ کے ظلم و ستم کے الزامات ہیں۔
اس قانون میں ایک شق بھی شامل ہے جس کے مطابق لوگ چین سے باہر بھی اس قانون کی خلاف ورزی پر ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں، جسے ناقدین چین کو بیرونِ ملک اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کا جواز فراہم کرنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نائب ریجنل ڈائریکٹر سارہ بروکس نے کہا کہ یہ قانون ’چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ سیاسی اور نظریاتی ہم آہنگی‘ کو لازمی قرار دیتا ہے اور ’جبری یکسانیت کی پالیسیوں کو مزید ادارہ جاتی شکل دیتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’چینی حکام پر انسانی حقوق کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتی برادریوں اور ان کی ثقافتوں کا تحفظ کریں، لیکن یہ قانون اس کے برعکس ہے۔‘
ایمنسٹی نے خبردار کیا ہے کہ یہ قانون نسلی گروہوں کو ’ایک واحد، ریاستی تعریف شدہ قومی شناخت اپنانے پر مجبور کر رہا ہے جو ہان چینی ثقافت کے غلبے میں ہے۔‘
بیجنگ مسلسل انکار کرتا ہے کہ وہ کسی نسلی گروہ کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ سب اس کی داخلی سلامتی اور اقتصادی ترقی کی پالیسیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
تائیوان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ’آئندہ، کسی بھی ملک کے افراد اس قانون کے تحت نشانہ بن سکتے ہیں۔‘ (فوٹو: اے پی)
تائیوان نے بدھ کو اس قانون کی ’سخت مذمت‘ کی اور کہا کہ یہ ’ہمارے ملک اور دیگر اقوام کے عوام کے خلاف دھمکیوں اور خوفزدہ کرنے کو بڑھاتا ہے۔‘
تائیوان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ’آئندہ، کسی بھی ملک کے افراد جن کے الفاظ یا اعمال چین کو قبول نہیں ہوں گے، اس قانون کے تحت نشانہ بن سکتے ہیں یا ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘
واشنگٹن میں نو امریکی قانون سازوں نے، جن میں سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ سربراہ شامل ہیں، اس قانون کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ وہ بیجنگ کی ’بین الاقوامی جبر کو قانونی حیثیت دینے‘ کی کوشش کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔